صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب شفاعة النبى صلى الله عليه وسلم فى زوج بريرة:
باب: بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفارش کرنا۔
حدیث نمبر: 5283
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعبَّاسٍ: يَا عَبَّاسُ، أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ رَاجَعْتِهِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ، قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ".
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، کہا ہم سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے اور ان کا نام مغیث تھا۔ گویا میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں جب وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے پھر رہے تھے اور آنسوؤں سے ان کی ڈاڑھی تر ہو رہی تھی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عباس! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر حیرت نہیں ہوئی؟ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ کاش! تم اس کے بارے میں اپنا فیصلہ بدل دیتیں۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اس کا حکم فرما رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔ انہوں نے اس پر کہا کہ مجھے مغیث کے پاس رہنے کی خواہش نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5283]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے جنہیں مغیث کہا جاتا تھا۔ گویا وہ منظر اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے جب وہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے روتے ہوئے گھوم رہے تھے اور ان کے آنسو ان کی داڑھی پر بہہ رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس! کیا تمہیں مغیث کی حضرت بریرہ سے محبت اور حضرت بریرہ کی مغیث سے نفرت پر حیرت نہیں؟“ آخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تم اب بھی مغیث کے متعلق فیصلہ بدل لو۔“ انہوں نے عرض کی، یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اس کا حکم فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔“ اس پر حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”مجھے مغیث کے پاس رہنے کی کوئی خواہش نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5283]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5280
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" رَأَيْتُهُ عَبْدًا يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ اور ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا۔ آپ کی مراد بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر (مغیث) سے تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5280]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے اسے یعنی بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کو بحالت غلام دیکھا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5280]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة