🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

امام شافعی رحمہ اللہ
سوانح حیات
سوانح حیات:
خدماتِ محدثینِ عظام اور جلالتِ شانِ امامِ معظم امام شافعی رحمہ اللہ
محدثین کی خدمات یقیناً اُمت مسلمہ پر کسی احسان عظیم سے کم نہیں، ان ائمہ کرام نے اس کارخیر کے لیے اپنے شب و روز وقف کر رکھے تھے اور دیگر جمیع دنیوی امور سے بے پروا ہو کر اپنی زندگیاں اسی عظیم مقصد کے حصول میں کھپادیں۔ ان ہی کی علمی و قلمی خدمات کے ذریعے علم حدیث میں پیدا ہونے والے شبہات کا ازالہ ہوا، ان ہی کی تحقیق و تدقیق کے ذریعے صحیح اور ضعیف کی نشاندہی ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایک قول و عمل ضعف و وضع سے ممتاز ہو کر مکمل صحت کے ساتھ ہم تک پہنچا، ہم ہمیشہ ان محسنین کے زیر بار احسان رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے حدیث اور حاملین حدیث کو بڑی عزت، فضیلت اور شرف سے نوازا ہے اور حدیث رسول کی خدمت اور حفاظت کے لیے اپنے انہی بندوں کا انتخاب فرمایا جو اس کے چنیدہ و برگزیدہ تھے۔ ان تمام عظیم المرتبت اور فقید النظیر شخصیات میں بلند تر نام امام معظم و مجتہد مقدم ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی پختہ کار کا ہے۔

نام و نسب:

نام محمد، کنیت: ابوعبداللہ، لقب: ناصر الحدیث۔ نسبت: شافعی اور یہ ان کے جد اعلیٰ شافع کی جانب نسبت ہے۔ سلسلہ نسب یوں ہے: محمد بن ادریس بن عباس بن عثمان بن شافع بن سائب بن عبید بن عبد یزید بن ہاشم بن المطلب بن عبد مناف القریشی المطلبی۔ ساتویں پشت پر جا کر سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔ نسبی اعتبار سے اس سے زیادہ شرافت کیا ہو سکتی ہے۔ علامہ تاج الدین سبکی رحمہ اللہ نے آپ کی والدہ کو ہاشمیہ کہا ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ آپ کی والدہ قبیلہ ازد سے تھیں جو یمن کا ایک ممتاز و مشہور قبیلہ ہے۔

ولادت:

آپ کی ولادت کے متعلق چار اقوال ہیں۔ یہ کہ آپ کی ولادت غزہ میں ہوئی یا عسقلان میں یا مدینہ میں یا یمن میں۔ صحیح یہ ہے کہ آپ بمقام غزہ رجب 150ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا انتقال آپ کے پیدا ہونے سے کچھ دن قبل ہو چکا تھا۔

بچپن:

چونکہ باپ کا سایہ تو پیدا ہونے سے قبل ہی اٹھ چکا تھا، اس لیے آپ کی والدہ نے مدتِ رضاعت ختم کر کے دو سال کے بعد اپنے قبیلہ ازد (نواحِ یمن) کا سفر کیا اور آپ نے اپنے ماموں کے پاس کامل آٹھ سال گزارے۔ وہیں آپ نے سات برس کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا اور دس سال کی عمر میں موطا امام مالک کو حفظ کیا۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے مجھ سے فرمایا: اے لڑکے! تو کس خاندان سے ہے؟ میں نے عرض کیا: حضور کے خاندان سے۔ فرمایا: میرے قریب آؤ۔ جب میں آپ کے قریب گیا آپ نے اپنا لعابِ دہن میری زبان پر، ہونٹوں پر اور منہ پر ڈال دیا، پھر فرمایا: جاؤ خدا تم پر برکت نازل فرمائے۔

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اسی عمر میں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ میں نماز پڑھاتے دیکھا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو تعلیم دیتے رہے، پھر میں بھی آپ کے قریب جا بیٹھا اور آپ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بھی کچھ سکھائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آستین سے میزان (ترازو) نکال کر دی اور فرمایا: تیرے لیے میرا یہ عطیہ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ایک معبر (خواب کی تعبیر بتانے والے) سے اس کی تعبیر دریافت کی تو اس نے کہا: تم دنیا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مطہرہ کی نشر و اشاعت میں امام بنو گے۔

تعلیم و تربیت:
جب آپ رحمہ اللہ کی عمر دس سال کی ہوگئی تو آپ کی والدہ نے آپ کو مکہ مکرمہ میں آپ کے چچا کے پاس بھیج دیا تاکہ آپ شہر میں رہ کر علمِ انساب حاصل کریں۔ آپ کے چچا کی مالی حالت کمزور تھی، اس وجہ سے آپ کو علم حاصل کرنے میں دشواریاں پیش آتی رہیں۔ آپ ایک ماہرِ انساب کے پاس گئے، اس نے آپ کو مشورہ دیا کہ پہلے کوئی ذریعہ معاش پیدا کرو پھر علم سیکھنا۔

آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا تو یہ حال تھا کہ تعلیم کی جانب دل مائل تھا، جب کسی عالم سے کوئی حدیث یا مسئلہ سنتا فوراً یاد کر لیتا اور ہڈیوں پر لکھ لیا کرتا اور ان ہڈیوں کو مکے میں بڑی احتیاط سے محفوظ کر لیتا۔

بالآخر آپ کو معلوم ہوا کہ مکہ مکرمہ میں مسلم بن خالد زنجی فقہ و حدیث کے امام ہیں اور انہوں نے محمد بن شہاب زہری، عمرو بن دینار اور ابن جریج سے استفادہ کیا ہے، آپ ان کے پاس پہنچے۔ مسلم بن خالد زنجی بڑے جوہر شناس تھے۔ امام صاحب کی ذہانت، ذکاوت اور قوتِ حفظ دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے۔ کامل تیس برس تک ان سے فقہ و حدیث کی تکمیل کی۔ ان کی مجلس میں اکثر و بیشتر امام مالک رحمہ اللہ کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا، اس لیے آپ کو امام مالک رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضری کا شوق پیدا ہوا۔

اپنے استاذِ مکرم مسلم بن خالد سے مدینہ منورہ جانے کا خیال ظاہر کیا۔ انہوں نے فوراً ایک سفارشی خط امام مالک رحمہ اللہ کے نام لکھ دیا کہ جس نوخیز کو میں خدمتِ اقدس میں بھیج رہا ہوں، وہ آپ کے فیوض و برکات سے مستفیض ہونے کا واقعی مستحق ہے اور اس میں غیر معمولی صلاحیتیں موجود ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس زادِ راہ نہ تھا، نہ چچا کے پاس اس قدر سرمایہ تھا کہ وہ کچھ امداد کرتے۔ اس لیے آپ نے مصعب بن عبد اللہ الزبیری سے اپنی ضرورت کو بیان کیا، انہوں نے کسی شخص سے سفارش کر دی اور اس نے بطور امداد سو دینار پیش کر دیے۔ دینار ملتے ہی آپ نے انتظام کیا اور چند روز میں مدینہ منورہ پہنچ گئے۔

وہاں پہنچتے ہی پہلے امام مالک رحمہ اللہ کے مکان پر حاضر ہوئے۔ دستک دی، اندر سے خادمہ آئی، نام پوچھ کر گئی، پھر امام مالک رحمہ اللہ تشریف لائے اور بڑے اخلاق سے گفتگو فرمائی۔ آپ رحمہ اللہ نے اپنے استاذِ مکرم مسلم بن خالد زنجی کا خط پیش کیا۔ امام مالک رحمہ اللہ نے خط پڑھ کر پھینک دیا اور فرمایا: سبحان اللہ! کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا علم اب اس قابل رہ گیا ہے کہ وہ وسائل اور رسائل کے ذرائع سے حاصل کیا جائے؟ امام مالک رحمہ اللہ کا غصہ دیکھ کر آپ نے معذرت پیش کی، اپنی بے نوائی اور ذوقِ علمی کا اظہار کیا۔ امام مالک رحمہ اللہ یہ سن کر متاثر ہوئے اور سر سے پیر تک آپ پر نظر ڈال کر پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا: محمد بن ادریس۔ فرمایا: «اتَّقِ اللهَ، فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لَكَ شَأْنٌ» یعنی خدا سے ڈرتے رہنا، عنقریب تمہیں بڑی شان ملے گی۔