سنن نسائي
امام نسائی رحمہ اللہ کی سوانح حیات، شیوخ و تلامذہ، السنن الکبریٰ کے مصنف
تحریر: مفتی محمد عبدہ الفلاح شمارہ، محدث جنوری 1994ء
ابو عبدالرحمٰن، احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحر الخرسانی، النسائی صاحب "السنن"
نساءکی طرف نسبت:
خراسان کا ایک شہر ہے جو"سرخس "سے دودن کی مسافت پر واقع ہے۔ ابن خلکان لکھتے ہیں۔
«وهي مدينة بخراسان خرج منها جماعة من الاعيان»
[الوفيات ج1ص66، البلدان68نيز بستان المحدثين]
یعنی "نساء خراسان کا مشہور شہر ہے جہاں سے بہت سے ارباب فن مشہور ہوئے ہیں " امام نسائی بھی اس کی طرف ہی منسوب ہیں۔
ولادۃ ونشاۃ:۔
امام موصوف تقریباً215ھ کو پیدا ہو ئے ان کا قول ہے۔ [تهذيب التهذيب ج8ص398۔ 321]
«شبه أن يكون مولدي فى سنة 215ه»
موصوف کی ابتدائی تعلیم کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہو سکا تاہم اس دور میں خراسان کا علاقہ علم وفن کا مرکز تھا بہت سے ارباب فضل و کمال موجود تھے اس لیے قیاس یہی چاہتا ہے کہ موصوف کی ابتدائی تعلیم بھی یہیں پر ہوئی ہو گئی علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
«سفره فى طلب العلم.»
یعنی بچپن میں علم کا شوق دامن گیرہو گیا تھا [النبلاء 14/120]
سماع حدیث کے لیے رحلہ اولیٰ:۔
محدثین نے طلب حدیث کے لیے رحلت کا ضابطہ مقرر کیا ہے یعنی یہ کہ طالب علم پہلے اپنے اہل بلدہ سے حدیث حاصل کرے اس کے بعد سفر کرے اور جو حدیث حاصل نہیں ہو ئی اسے حاصل کرنے میں کو شش کرے۔
خطیب بغدادی رحلت کے مقاصد بیان کرتے ہو ئے لکھتے ہیں۔
طلب حدیث کے لیے سفر سے دو مقصد ہو تے ہیں۔
(الف) "علواسناد"، اور قدم سماع "کا حاصل کرنا
(ب) حفاظ حدیث سے ملا قات اور ان سے مذاکرہو استفادہ یہ دونوں چیزیں اگر اپنے شہر میں حاصل ہو جا ئیں تو سفر کی ضرورت نہیں ہے۔ [الجامع لا خلاق الراوي والسامع]
چنانچہ امام نسائی نے بھی انہی دو مقاصد کوحاصل کرنے کے لیے طلب حدیث کے لیے سفر کئے اور سب سے پہلے قتیبہ بن سعید البغلانی کی خدمت میں حاضر ہوئے"بغلان"۔۔۔ بلخ کے نواحی میں ایک پرفضا قصبہ ہے بعض نے اس کا نام "طخارستان"بھی نقل کیا ہے "بلدان"میں ہے۔
«وهي أنزه بلاد الله»
کہ یہ بہت ہی پاکیزہ شہرہے۔ اور علامہ سمعانی نے الانساب میں لکھا ہے «(بلدة بنوا حي بلخ)» اور میرا خیال ہے کہ طخارستان سے قریب ہے اور اس شہر کو آب و ہوا کے لحاظ سے نہایت صحت افزا مقام حاصل ہے۔ محدث کبیر قتیبہ بن سعید بن جمیل بھی اسی شہر میں سکونت پذیر تھے۔
قتیبہ بن سعید محدث (لمتوفی 240ھ):۔
مو صوف بڑے پایہ کے محدث تھے امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو "شیخ الحفاظ"اور محدث خراسان "کے لقب سے یاد فرمایا۔ [تذكره 446ج2، النبلاء 11/13]
ابن عدی لکھتے ہیں۔
"ان کا اصل نام یحییٰ ہے اور قتیبہ لقب ابن مندہ نے ان کا اصل نام علی بتایا ہے آئمہ خمسہ نے ان سے روایت کی ہے اور ابن ماجہ ان سے امام ذھلی کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں۔ ان کوامام مالک، لیث بن سعد، ابن لہیعہ رشدین بن سعد اور ان کے ہم طبقہ سے شرف روایت حاصل ہے اور ابو العباس محمد بن اسحاق السراج سے آخری راوی ہیں۔ امام احمد فرماتے ہیں۔
«وهو أخره من سمع ابن لهيعة»
امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ میں نے ان کا مستقل ترجمہ لکھا ہے اور تقریباً اسی (80)احادیث ان کے عوالی سے ذکر کی ہیں۔ [النبلاٰ 11/14]
امام بخاری نے ان سے 308اور امام مسلم نے 668احادیث بیان کی ہیں۔ [تهذيب 358۔ 361/8]
امام نسائی نے 230ھ میں ان کی طرف رحلت کی اور ایک سال کا مل ان کے پاس قیام کیا لیکن ابن لہیعہ کی کتاب سے روایت میں احتراز کیا اور سنن میں ان سے کو ئی روایت درج نہیں کی۔ نیز امام نسائی نے قتیبہ بن سعید سے جمع فی السفر والی حدیث روایت نہیں کی۔ کیونکہ قتیبہ اس حدیث کے روایت کرنے میں لیث سے منفرد ہے اور آئمہ حدیث کی ایک جماعت نے اس حدیث کو معلول قرار دیا ہے۔ ہاں ابو داؤد نے [حديث نمبر: 1220]
باب الجمع بین الصلاتین میں اور ترمذی نے یہ حدیث قتیبہ سے روایت کی ہے۔
امام ترمذی لکھتے ہیں۔
«وَحَدِيثُ مُعَاذٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، تَفَرَّدَ بِهِ قُتَيْبَةُ لَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنِ اللَّيْثِ غَيْرَهُ»
امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ علوم الحدیث میں لکھتے ہیں۔
«هذا حديث رواته أئمة ثقات، وهو شاذ الإسناد والمتن»
تاہم یہ حدیث معلول نہیں ہے۔ [معرفته علوم الحديث ص120۔ 119]
اور معاذ بن جبل سے ایک دوسرے طریق سے بھی مروی ہے۔ [ابو داؤد رقم1208]
لیکن اس میں بھی جمع التقدیم کے لفظ کے ساتھ نہیں ہے اور آئمہ حدیث نے استغرب کی وجہ سے اس کو روایت کیا ہے اور جمع التقدیم کی قید کے ساتھ صرف قتیبہ نے روایت کی ہے جو کہ ابو داؤداور ترمذی کے علاوہ مسند احمد 241/5 اور دارقطنی393 اور بیہقی163۔ 3 میں ہے۔
علاوہ ازیں امام نسائی نے خراسان، حجاز، مصر، عراق، جزیرہ، شام اور مخورکی طرف بھی رحلت کی اور مشاہیر سے حدیث کا سماع کیا پھر مصر کو اپنا وطن بنا لیا اور زقاق القندیل میں مقیم ہو گئے جو امر ء کی آبادی تھی اور ہر لحاظ سے پر رونق محلہ تھا۔
شیوخ کی فہرست:۔
علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے شیوخ کی فہرست لکھی ہے مگر ان میں نو شیوخ وہ ہیں جو آئمہ ستہ کے مشترکہ شیوخ شمارہوتے ہیں:
(1) محمد بن بشار بندار (252ھ)
(2) محمد بن مثنی ابو موسیٰ (252ھ)
(3) زیادہ بن یحییٰ الحمانی (254ھ)
(4) عباد بن عبد العزیزالقبری (364ھ)
(5) ابو حفص بن علی الفلاس
(6) ابو سعید الاشج عبد اللہ بن سعید الکندی
(7) محمد بن معمر القیسی البحرانی (256ھ)
(8) یعقوب بن ابراہیم دورقی
(9) نصر بن علی الجہضمی (250ھ)
(مقدمہ شرح ترمذی الاحمد محمد شاکر، تذکرہ الحفاظ 446/2النبلاء 127/14)
تلامذہ:۔
علامہ مزی "تہذیب الکمال " میں لکھتے ہیں امام نسائی سے خلق کثیر نے حدیث اخذکی ہے اور موصوف روایت میں مشہور معروف تھے لیکن ہم مختصر طور پر چند ایک اہم تلامذہ کے اسماء درج کرتے ہیں جن میں سنن النسائی الکبری اور المجتبیٰ کے رواۃ بھی شامل ہیں:
(1) المحدث الامام ابو علی حسن بن الخضر بن عبد اللہ الاسیوطی (361ھ)
امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: [تذكره 920/3والنبلاء 93/16]
«يروي عن النسائي سننه وعن جماعة مات سنة261ه»
اور قرآءت احمد بن نصر نیساری المقری اور ابو شعیب صالح بن زیاد السوسی سے حاصل کی ہے۔
اور تاریخ اسلام میں ان کے کبار شیوخ مذکورہیں اسحاق بن راہویہ، ہاشم بن عمار عیسیٰ بن حماد، حسین بن منصور السلمی، عمر وبن زراۃ، محمد بن النفرالمروزی، سویدبن نصر ابو کریب وغیرہم۔
لیکن انساب سمعانی اور یاقوت بلدان میں سن وفات (372ھ) درج ہے تاہم پہلا قول صحیح ہے۔
(2) ابن الاحمر ابو بکر محمد بن معاویہ بن عبد الرحمٰن الاموسیٰ القرطبی المعروف بابن الاحمر المتوفی (358ھ) علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: [النبلاء 68/16وراجع الترجمة: الانساب 263/1، البلدان العبر 324/2حسن المحاضره 370/1النبلاء 93/16]
«وارتحل سنة خمس وتسعين، فسمع من أبى خليفة الجمحي بالبصرة، ومن إبراهيم بن شريك، ومحمد بن يحيى المروزي، وجعفر الفريابي، ببغداد، ومن أبى عبد الرحمن النسائي، وأبي يعقوب المنجنيقي ثم رجع إلى الأندلس، وجلب إليها " السنن الكبير " للنسائي، وحمل الناس عنه .»
(3) ابن حبان علامہ حافظ شیخ خراسان ابو حاتم محمد حبان البستی الدارمی بہت سی کتب کے مصنف ہیں علامہ لکھتے ہیں: [النبلاء 93/16راجع الترجمة: وتذكره 920/3۔ وشذرات 16/3النبلاء 160/16النجوم 128/4تاج العروس ماده"حي"والعبر342/2، البدايه والنهار160/16]
«وأكبر شيخ لقيه أبو خليفة الفضل بن الحباب الجمحي، سمع منه بالبصرة، ومن زكريا الساجي، وسمع بمصر من أبى عبد الرحمن النسائي»
ان کی تالفات میں (الانواع والتقاسيم... التاريخ"اور"كتاب الضعفاء) مشہور ہیں اور دو ہزار سے زیادہ شیوخ سے روایت کا شرف حاصل ہے۔
(4) ابن حیویہ۔ الشیخ الامام المعمر الفقیہ قاضی ابو الحسن محمد بن عبد اللہ بن زکریا بن حیویہ النیساپوری ثم المصری۔ انھوں نے امام ابو عبد الرحمٰن نسائی سے سماع کیا اور عبد الغنی الحافظ علی بن محمد الخراسانی الفیاس اور دارقطنی نے ان سے اخذ کیا۔ (366ھ)میں فوت ہو ئے۔ [الاكمال 360/2العبر 342/2حسن المحاضره370شذرات 57/3تاج العروس ماده حي النبلاء 160/16]
(5) ابو العباس ابیض بن محمد حارث بن ابیض بن اسود بن نافع القرشی الفہری المصری: امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ ان کے متعلق لکھتے ہیں: [راجع النبلا ء 318/16۔ وايضاًالعبر4/3حسن المحاضره 370/1شذرات 88/3]
«أخر من مات من اصحاب النسائي كان عنده مجلسان فقط»
ان سے حافظ عبدالغنی اور یحییٰ بن علی الطحان اور ایک جماعت نے روایت کی ہے سند 293ھ میں پیدا ہو ئے اور سنہ377ھ میں فوت ہو ئے انھوں نے اپنے والد محمد بن ابیض ابو محمد بن النحاس سے بھی روایت کی ہے۔ (راجع الترجمۃ: [تذكره الحفاظ 959/3العبر355/2ميزان اعتدال الوافي 16/12، غاية النهار يه 2120/طبقات الحافظ 384النجوم الزاهره 139/4حسن المحاضره 325/1شذرات 113/3، 71/3والنبلاء 280/16]
(6) الحسن بن رثیق ابو محمد العسکری المصری محدث اور مسند مصر تھے سنہ 283ھ میں پیدا ہوئے اور سنہ 370ھ میں فوت ہوئے۔ علامہ ذہبی لکھتے ہیں:
«وسمع من أبى عبد الرحمن النسائي فأكثر وطال عمره، وعلا إسناده، وكان ذا فهم ومعرفة . . وكان محدث مصر فى زمانه»
(7) ابو بکر احمد بن اسماعیل البناء ابن المھندس سمیع الدولابی وغیرہ۔۔۔ توفی سنہ 385ھ آپ کے بارے میں ہے۔
«وكان مكثرا، وأخطأ من قال: إنه سمع من النسائي . روى عنه: عبد الغني الحافظ، ويحيى بن الحسين العفاص، وعبد الله بن مسكين، وعبد الرحمن بن مظفر الكحال، وعدد كثير . وانتقى عليه الحفاظ . وكان ثقة خيرا تقيا . عاش تسعين سنة» [النبلاء 463/16۔ العبر27/3تاريخ اسلام المحاضره 370/10۔ شذرات 113/3]
(8) ابو عبد اللہ البیانی محمد بن قاسم بن محمد بن سیار الامام الحافظ الکبیر امام ذہبی لکھتے ہیں: [النبلاء254/16۔ تاريخ علماء الاندلس 46/2، العبر 209/2شذرات 3ه9/3،]
«سمع اباه وبقي بن مخلد ومحمد بن وضاح وفي رحلته من ابي عبد الرحمان نسائي وغيرهم قال ابو محمد لم ادرك بقرطبة من الشيوخ اكثر حديثا منه»
علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں:
میں کہتا ہوں کہ وہ عالم ثقہ اور راس فی الشروط و عقد الوثائق تھے۔ ديكهئے: [تذكره الحفاظ 845/3]
(9) ابن الحداد۔ الامام العلامہ الثبت شیخ الاسلام ابو بکر محمد بن احمد بن محمد بن جعفر الکنانی المصری الشافعی۔ ابن الحداد صاحب "کتاب الفروع "فی المذہب سنہ 264ھ۔ میں مولود ہو ئے علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: [النبلاء 445/15، وراجع: الانساب 71/4والمنتظم 379/6وفيات 197/4تذكرة الحفاظ 899/3طبقات الشافعيه 79/3البدايه 220/11النجوم الزاهره 313/3شذرات 368/2]
«وسمع أبا الزنباع روح بن الفرج، وأبا يزيد يوسف بن يزيد القراطيسي، ومحمد بن عقيل الفريابي، ومحمد بن جعفر بن الإمام، وأبا عبد الرحمن النسائي، وأبا يعقوب المنجنيقي، وخلقا سواهم»
«ولازم النسائي كثيرا، وتخرج به، وعول عليه، واكتفى به، وقال: جعلته حجة فيما بيني وبين الله تعالى، وكان فى العلم بحرا لا تكدره الدلاء، وله لسن وبلاغة وبصر بالحديث ورجاله»
ان کی بعض تالیفات بھی مشہور ہیں "کتاب ادب القاضی " (فی التذکرہ "ادب القضا") چالیس اجزاء میں ہے۔
اور "کتاب الفرائض "ایک سو جز کے قریب ہے۔ (محدثین کے عرف میں ایک جزء تقریباً 20ورق)اسحاق بن راہویہ ان کو الشافعی الامام کے لقب سے یاد کرتے ہیں جس روز المزنی صاحب الشافعی فوت ہو ئے اسی روز ابن الحداد پیدا ہو ئے۔ [توفي المزني سنه 2634، طبقات 93/2]
امام دارقطنی کہتے ہیں:
«ابن الحداد كثير الحديث، لم يحدث عن غير النسائي، وقال: رضيت به حجة بيني وبين الله.» [طبقات الشافعيه للسبكي 81/3]
امام نسائی کی کتاب خصائص کے راوی ہیں ابن الحدادکا بیان ہے کہ میں ابن الاخشید ملک مصر کی مجلس میں گیا تو اس نے مجھ سے سوال کیا۔ ابو بکر عمر اور علی میں سے افضل کون ہے۔؟
تو میں نے جواب دیا۔ «اثنين حذاء واحد» یعنی دو ایک کے مقابلہ میں ہیں اس پر اس نے دوبارہ سوال کیا: «ايما افضل ابو بكر اوعلي؟»
تو میں نے کہا: «إن كان عندك فعلي، وإن كان برا فأبو بكر، (بَرًّا: علانيه)»
تو اس پر وہ ہنس پڑا۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ سنہ 345ھ یا 344ھ میں فو ت ہو ئے۔
(10) عبد الکریم بن ابی عبد الرحمٰن النسائی۔ [تهذيب التهذيب ج1/ص37]
یہ امام نسائی کے صاحبزادے ہیں۔
(11) علی ابن ابی جعفراحمد الطحاوی (351ھ) [تهذيب التهذيب ج1/ص37]
یہ علماء حنفیہ سے ہیں اور ابو جعفر الطحاوی صاحب شرح معانی الاثار کے صاحبزادے ہیں۔
مذکورہ بالا رواۃ وہ ہیں جن کے نام ذکر کرنے کے بعد حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: [راجع الكمال لا بن ماكولا 501/4الانساب 186/7، تذكرة الحفاظ 939طبقات، 39/3الاعلان بالتوبيخ 141]
«هولاء رواة كتاب السنن»
(12) ابن السني [النبلاء 656/16حاشيه تهذيب الكمال 328/1]
ان میں السنی ابو بکر احمد بن محمد بن اسحاق الھاشمی الجعفری الدینوری کو بھی شامل کر لیا جا ئے تو کل رواۃ 12 ہو جا تے ہیں۔
ابن السنی نے اولاابو حنفیہ الجمی سے سماع کیا جو بقول ذہبی ان کے بڑے شیخ ہیں پھر انھوں نے امام نسائی سے السنن"کا سماع کیا اور تصنیف و تالیف میں مشغول ہو گئے ان کی کتاب "الیوم واللیلہ"مشہور تر کتاب ہے اور اذکار میں کامل کتاب سمجھی جا تی ہے اور نسائی کتاب "الیوم اللیلہ" سے عمدہ شمار ہو تی ہے۔
امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔
«وَهُوَ مِنَ الْمَرْوِيَّاتِ الْجَيِّدَةِ.»
پھر ابن السنی نے امام نسائی سے سماع کے بعد "السنن "کو مختصر کیا جس کا تذکرہ امام نسائی کی تالیفات میں ہو گا اور بقیہ رواۃ السنن کی تصریح ملتی ہے اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ وہ "السنن "کے رواۃ ہیں کیونکہ "المجتبیٰ"کے نام نسائی کی تالیف ہونے میں اختلاف ہے۔
اضافہ:۔
یہ وہ رواۃ "السنن "ہیں جن کا علامہ مزی اور پھر حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے مگر ایک راوی وہ ہے جس کا علامہ مزی یا حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ میں سے کسی نے ذکر نہیں کیا اور وہ ہے مسعود بن علی بن الفضل الیحانی ان کی کنیت ابو القاسم ہے مصر میں امام نسائی سے ان کی تاریخ کا سماع کیا اور پھر بعد میں السنن کا چنانچہ عزالدین ابن الاثیر لکھتے ہیں۔
«روي عن ابي عبدالرحمان النسائي السنن له»
اور علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے "المشتبہ" میں ان کو ذکر کیا ہے اور لکھا ہے۔
«الجباني بالتثقيل والفتح نسبة بجانة ومنها مسعود بن على الجباني حمل عن النسائي السنن»
ابو عبدالرحمٰن، احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحر الخرسانی، النسائی صاحب "السنن"
نساءکی طرف نسبت:
خراسان کا ایک شہر ہے جو"سرخس "سے دودن کی مسافت پر واقع ہے۔ ابن خلکان لکھتے ہیں۔
«وهي مدينة بخراسان خرج منها جماعة من الاعيان»
[الوفيات ج1ص66، البلدان68نيز بستان المحدثين]
یعنی "نساء خراسان کا مشہور شہر ہے جہاں سے بہت سے ارباب فن مشہور ہوئے ہیں " امام نسائی بھی اس کی طرف ہی منسوب ہیں۔
ولادۃ ونشاۃ:۔
امام موصوف تقریباً215ھ کو پیدا ہو ئے ان کا قول ہے۔ [تهذيب التهذيب ج8ص398۔ 321]
«شبه أن يكون مولدي فى سنة 215ه»
موصوف کی ابتدائی تعلیم کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہو سکا تاہم اس دور میں خراسان کا علاقہ علم وفن کا مرکز تھا بہت سے ارباب فضل و کمال موجود تھے اس لیے قیاس یہی چاہتا ہے کہ موصوف کی ابتدائی تعلیم بھی یہیں پر ہوئی ہو گئی علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
«سفره فى طلب العلم.»
یعنی بچپن میں علم کا شوق دامن گیرہو گیا تھا [النبلاء 14/120]
سماع حدیث کے لیے رحلہ اولیٰ:۔
محدثین نے طلب حدیث کے لیے رحلت کا ضابطہ مقرر کیا ہے یعنی یہ کہ طالب علم پہلے اپنے اہل بلدہ سے حدیث حاصل کرے اس کے بعد سفر کرے اور جو حدیث حاصل نہیں ہو ئی اسے حاصل کرنے میں کو شش کرے۔
خطیب بغدادی رحلت کے مقاصد بیان کرتے ہو ئے لکھتے ہیں۔
طلب حدیث کے لیے سفر سے دو مقصد ہو تے ہیں۔
(الف) "علواسناد"، اور قدم سماع "کا حاصل کرنا
(ب) حفاظ حدیث سے ملا قات اور ان سے مذاکرہو استفادہ یہ دونوں چیزیں اگر اپنے شہر میں حاصل ہو جا ئیں تو سفر کی ضرورت نہیں ہے۔ [الجامع لا خلاق الراوي والسامع]
چنانچہ امام نسائی نے بھی انہی دو مقاصد کوحاصل کرنے کے لیے طلب حدیث کے لیے سفر کئے اور سب سے پہلے قتیبہ بن سعید البغلانی کی خدمت میں حاضر ہوئے"بغلان"۔۔۔ بلخ کے نواحی میں ایک پرفضا قصبہ ہے بعض نے اس کا نام "طخارستان"بھی نقل کیا ہے "بلدان"میں ہے۔
«وهي أنزه بلاد الله»
کہ یہ بہت ہی پاکیزہ شہرہے۔ اور علامہ سمعانی نے الانساب میں لکھا ہے «(بلدة بنوا حي بلخ)» اور میرا خیال ہے کہ طخارستان سے قریب ہے اور اس شہر کو آب و ہوا کے لحاظ سے نہایت صحت افزا مقام حاصل ہے۔ محدث کبیر قتیبہ بن سعید بن جمیل بھی اسی شہر میں سکونت پذیر تھے۔
قتیبہ بن سعید محدث (لمتوفی 240ھ):۔
مو صوف بڑے پایہ کے محدث تھے امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو "شیخ الحفاظ"اور محدث خراسان "کے لقب سے یاد فرمایا۔ [تذكره 446ج2، النبلاء 11/13]
ابن عدی لکھتے ہیں۔
"ان کا اصل نام یحییٰ ہے اور قتیبہ لقب ابن مندہ نے ان کا اصل نام علی بتایا ہے آئمہ خمسہ نے ان سے روایت کی ہے اور ابن ماجہ ان سے امام ذھلی کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں۔ ان کوامام مالک، لیث بن سعد، ابن لہیعہ رشدین بن سعد اور ان کے ہم طبقہ سے شرف روایت حاصل ہے اور ابو العباس محمد بن اسحاق السراج سے آخری راوی ہیں۔ امام احمد فرماتے ہیں۔
«وهو أخره من سمع ابن لهيعة»
امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ میں نے ان کا مستقل ترجمہ لکھا ہے اور تقریباً اسی (80)احادیث ان کے عوالی سے ذکر کی ہیں۔ [النبلاٰ 11/14]
امام بخاری نے ان سے 308اور امام مسلم نے 668احادیث بیان کی ہیں۔ [تهذيب 358۔ 361/8]
امام نسائی نے 230ھ میں ان کی طرف رحلت کی اور ایک سال کا مل ان کے پاس قیام کیا لیکن ابن لہیعہ کی کتاب سے روایت میں احتراز کیا اور سنن میں ان سے کو ئی روایت درج نہیں کی۔ نیز امام نسائی نے قتیبہ بن سعید سے جمع فی السفر والی حدیث روایت نہیں کی۔ کیونکہ قتیبہ اس حدیث کے روایت کرنے میں لیث سے منفرد ہے اور آئمہ حدیث کی ایک جماعت نے اس حدیث کو معلول قرار دیا ہے۔ ہاں ابو داؤد نے [حديث نمبر: 1220]
باب الجمع بین الصلاتین میں اور ترمذی نے یہ حدیث قتیبہ سے روایت کی ہے۔
امام ترمذی لکھتے ہیں۔
«وَحَدِيثُ مُعَاذٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، تَفَرَّدَ بِهِ قُتَيْبَةُ لَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنِ اللَّيْثِ غَيْرَهُ»
امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ علوم الحدیث میں لکھتے ہیں۔
«هذا حديث رواته أئمة ثقات، وهو شاذ الإسناد والمتن»
تاہم یہ حدیث معلول نہیں ہے۔ [معرفته علوم الحديث ص120۔ 119]
اور معاذ بن جبل سے ایک دوسرے طریق سے بھی مروی ہے۔ [ابو داؤد رقم1208]
لیکن اس میں بھی جمع التقدیم کے لفظ کے ساتھ نہیں ہے اور آئمہ حدیث نے استغرب کی وجہ سے اس کو روایت کیا ہے اور جمع التقدیم کی قید کے ساتھ صرف قتیبہ نے روایت کی ہے جو کہ ابو داؤداور ترمذی کے علاوہ مسند احمد 241/5 اور دارقطنی393 اور بیہقی163۔ 3 میں ہے۔
علاوہ ازیں امام نسائی نے خراسان، حجاز، مصر، عراق، جزیرہ، شام اور مخورکی طرف بھی رحلت کی اور مشاہیر سے حدیث کا سماع کیا پھر مصر کو اپنا وطن بنا لیا اور زقاق القندیل میں مقیم ہو گئے جو امر ء کی آبادی تھی اور ہر لحاظ سے پر رونق محلہ تھا۔
شیوخ کی فہرست:۔
علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے شیوخ کی فہرست لکھی ہے مگر ان میں نو شیوخ وہ ہیں جو آئمہ ستہ کے مشترکہ شیوخ شمارہوتے ہیں:
(1) محمد بن بشار بندار (252ھ)
(2) محمد بن مثنی ابو موسیٰ (252ھ)
(3) زیادہ بن یحییٰ الحمانی (254ھ)
(4) عباد بن عبد العزیزالقبری (364ھ)
(5) ابو حفص بن علی الفلاس
(6) ابو سعید الاشج عبد اللہ بن سعید الکندی
(7) محمد بن معمر القیسی البحرانی (256ھ)
(8) یعقوب بن ابراہیم دورقی
(9) نصر بن علی الجہضمی (250ھ)
(مقدمہ شرح ترمذی الاحمد محمد شاکر، تذکرہ الحفاظ 446/2النبلاء 127/14)
تلامذہ:۔
علامہ مزی "تہذیب الکمال " میں لکھتے ہیں امام نسائی سے خلق کثیر نے حدیث اخذکی ہے اور موصوف روایت میں مشہور معروف تھے لیکن ہم مختصر طور پر چند ایک اہم تلامذہ کے اسماء درج کرتے ہیں جن میں سنن النسائی الکبری اور المجتبیٰ کے رواۃ بھی شامل ہیں:
(1) المحدث الامام ابو علی حسن بن الخضر بن عبد اللہ الاسیوطی (361ھ)
امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: [تذكره 920/3والنبلاء 93/16]
«يروي عن النسائي سننه وعن جماعة مات سنة261ه»
اور قرآءت احمد بن نصر نیساری المقری اور ابو شعیب صالح بن زیاد السوسی سے حاصل کی ہے۔
اور تاریخ اسلام میں ان کے کبار شیوخ مذکورہیں اسحاق بن راہویہ، ہاشم بن عمار عیسیٰ بن حماد، حسین بن منصور السلمی، عمر وبن زراۃ، محمد بن النفرالمروزی، سویدبن نصر ابو کریب وغیرہم۔
لیکن انساب سمعانی اور یاقوت بلدان میں سن وفات (372ھ) درج ہے تاہم پہلا قول صحیح ہے۔
(2) ابن الاحمر ابو بکر محمد بن معاویہ بن عبد الرحمٰن الاموسیٰ القرطبی المعروف بابن الاحمر المتوفی (358ھ) علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: [النبلاء 68/16وراجع الترجمة: الانساب 263/1، البلدان العبر 324/2حسن المحاضره 370/1النبلاء 93/16]
«وارتحل سنة خمس وتسعين، فسمع من أبى خليفة الجمحي بالبصرة، ومن إبراهيم بن شريك، ومحمد بن يحيى المروزي، وجعفر الفريابي، ببغداد، ومن أبى عبد الرحمن النسائي، وأبي يعقوب المنجنيقي ثم رجع إلى الأندلس، وجلب إليها " السنن الكبير " للنسائي، وحمل الناس عنه .»
(3) ابن حبان علامہ حافظ شیخ خراسان ابو حاتم محمد حبان البستی الدارمی بہت سی کتب کے مصنف ہیں علامہ لکھتے ہیں: [النبلاء 93/16راجع الترجمة: وتذكره 920/3۔ وشذرات 16/3النبلاء 160/16النجوم 128/4تاج العروس ماده"حي"والعبر342/2، البدايه والنهار160/16]
«وأكبر شيخ لقيه أبو خليفة الفضل بن الحباب الجمحي، سمع منه بالبصرة، ومن زكريا الساجي، وسمع بمصر من أبى عبد الرحمن النسائي»
ان کی تالفات میں (الانواع والتقاسيم... التاريخ"اور"كتاب الضعفاء) مشہور ہیں اور دو ہزار سے زیادہ شیوخ سے روایت کا شرف حاصل ہے۔
(4) ابن حیویہ۔ الشیخ الامام المعمر الفقیہ قاضی ابو الحسن محمد بن عبد اللہ بن زکریا بن حیویہ النیساپوری ثم المصری۔ انھوں نے امام ابو عبد الرحمٰن نسائی سے سماع کیا اور عبد الغنی الحافظ علی بن محمد الخراسانی الفیاس اور دارقطنی نے ان سے اخذ کیا۔ (366ھ)میں فوت ہو ئے۔ [الاكمال 360/2العبر 342/2حسن المحاضره370شذرات 57/3تاج العروس ماده حي النبلاء 160/16]
(5) ابو العباس ابیض بن محمد حارث بن ابیض بن اسود بن نافع القرشی الفہری المصری: امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ ان کے متعلق لکھتے ہیں: [راجع النبلا ء 318/16۔ وايضاًالعبر4/3حسن المحاضره 370/1شذرات 88/3]
«أخر من مات من اصحاب النسائي كان عنده مجلسان فقط»
ان سے حافظ عبدالغنی اور یحییٰ بن علی الطحان اور ایک جماعت نے روایت کی ہے سند 293ھ میں پیدا ہو ئے اور سنہ377ھ میں فوت ہو ئے انھوں نے اپنے والد محمد بن ابیض ابو محمد بن النحاس سے بھی روایت کی ہے۔ (راجع الترجمۃ: [تذكره الحفاظ 959/3العبر355/2ميزان اعتدال الوافي 16/12، غاية النهار يه 2120/طبقات الحافظ 384النجوم الزاهره 139/4حسن المحاضره 325/1شذرات 113/3، 71/3والنبلاء 280/16]
(6) الحسن بن رثیق ابو محمد العسکری المصری محدث اور مسند مصر تھے سنہ 283ھ میں پیدا ہوئے اور سنہ 370ھ میں فوت ہوئے۔ علامہ ذہبی لکھتے ہیں:
«وسمع من أبى عبد الرحمن النسائي فأكثر وطال عمره، وعلا إسناده، وكان ذا فهم ومعرفة . . وكان محدث مصر فى زمانه»
(7) ابو بکر احمد بن اسماعیل البناء ابن المھندس سمیع الدولابی وغیرہ۔۔۔ توفی سنہ 385ھ آپ کے بارے میں ہے۔
«وكان مكثرا، وأخطأ من قال: إنه سمع من النسائي . روى عنه: عبد الغني الحافظ، ويحيى بن الحسين العفاص، وعبد الله بن مسكين، وعبد الرحمن بن مظفر الكحال، وعدد كثير . وانتقى عليه الحفاظ . وكان ثقة خيرا تقيا . عاش تسعين سنة» [النبلاء 463/16۔ العبر27/3تاريخ اسلام المحاضره 370/10۔ شذرات 113/3]
(8) ابو عبد اللہ البیانی محمد بن قاسم بن محمد بن سیار الامام الحافظ الکبیر امام ذہبی لکھتے ہیں: [النبلاء254/16۔ تاريخ علماء الاندلس 46/2، العبر 209/2شذرات 3ه9/3،]
«سمع اباه وبقي بن مخلد ومحمد بن وضاح وفي رحلته من ابي عبد الرحمان نسائي وغيرهم قال ابو محمد لم ادرك بقرطبة من الشيوخ اكثر حديثا منه»
علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں:
میں کہتا ہوں کہ وہ عالم ثقہ اور راس فی الشروط و عقد الوثائق تھے۔ ديكهئے: [تذكره الحفاظ 845/3]
(9) ابن الحداد۔ الامام العلامہ الثبت شیخ الاسلام ابو بکر محمد بن احمد بن محمد بن جعفر الکنانی المصری الشافعی۔ ابن الحداد صاحب "کتاب الفروع "فی المذہب سنہ 264ھ۔ میں مولود ہو ئے علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: [النبلاء 445/15، وراجع: الانساب 71/4والمنتظم 379/6وفيات 197/4تذكرة الحفاظ 899/3طبقات الشافعيه 79/3البدايه 220/11النجوم الزاهره 313/3شذرات 368/2]
«وسمع أبا الزنباع روح بن الفرج، وأبا يزيد يوسف بن يزيد القراطيسي، ومحمد بن عقيل الفريابي، ومحمد بن جعفر بن الإمام، وأبا عبد الرحمن النسائي، وأبا يعقوب المنجنيقي، وخلقا سواهم»
«ولازم النسائي كثيرا، وتخرج به، وعول عليه، واكتفى به، وقال: جعلته حجة فيما بيني وبين الله تعالى، وكان فى العلم بحرا لا تكدره الدلاء، وله لسن وبلاغة وبصر بالحديث ورجاله»
ان کی بعض تالیفات بھی مشہور ہیں "کتاب ادب القاضی " (فی التذکرہ "ادب القضا") چالیس اجزاء میں ہے۔
اور "کتاب الفرائض "ایک سو جز کے قریب ہے۔ (محدثین کے عرف میں ایک جزء تقریباً 20ورق)اسحاق بن راہویہ ان کو الشافعی الامام کے لقب سے یاد کرتے ہیں جس روز المزنی صاحب الشافعی فوت ہو ئے اسی روز ابن الحداد پیدا ہو ئے۔ [توفي المزني سنه 2634، طبقات 93/2]
امام دارقطنی کہتے ہیں:
«ابن الحداد كثير الحديث، لم يحدث عن غير النسائي، وقال: رضيت به حجة بيني وبين الله.» [طبقات الشافعيه للسبكي 81/3]
امام نسائی کی کتاب خصائص کے راوی ہیں ابن الحدادکا بیان ہے کہ میں ابن الاخشید ملک مصر کی مجلس میں گیا تو اس نے مجھ سے سوال کیا۔ ابو بکر عمر اور علی میں سے افضل کون ہے۔؟
تو میں نے جواب دیا۔ «اثنين حذاء واحد» یعنی دو ایک کے مقابلہ میں ہیں اس پر اس نے دوبارہ سوال کیا: «ايما افضل ابو بكر اوعلي؟»
تو میں نے کہا: «إن كان عندك فعلي، وإن كان برا فأبو بكر، (بَرًّا: علانيه)»
تو اس پر وہ ہنس پڑا۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ سنہ 345ھ یا 344ھ میں فو ت ہو ئے۔
(10) عبد الکریم بن ابی عبد الرحمٰن النسائی۔ [تهذيب التهذيب ج1/ص37]
یہ امام نسائی کے صاحبزادے ہیں۔
(11) علی ابن ابی جعفراحمد الطحاوی (351ھ) [تهذيب التهذيب ج1/ص37]
یہ علماء حنفیہ سے ہیں اور ابو جعفر الطحاوی صاحب شرح معانی الاثار کے صاحبزادے ہیں۔
مذکورہ بالا رواۃ وہ ہیں جن کے نام ذکر کرنے کے بعد حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: [راجع الكمال لا بن ماكولا 501/4الانساب 186/7، تذكرة الحفاظ 939طبقات، 39/3الاعلان بالتوبيخ 141]
«هولاء رواة كتاب السنن»
(12) ابن السني [النبلاء 656/16حاشيه تهذيب الكمال 328/1]
ان میں السنی ابو بکر احمد بن محمد بن اسحاق الھاشمی الجعفری الدینوری کو بھی شامل کر لیا جا ئے تو کل رواۃ 12 ہو جا تے ہیں۔
ابن السنی نے اولاابو حنفیہ الجمی سے سماع کیا جو بقول ذہبی ان کے بڑے شیخ ہیں پھر انھوں نے امام نسائی سے السنن"کا سماع کیا اور تصنیف و تالیف میں مشغول ہو گئے ان کی کتاب "الیوم واللیلہ"مشہور تر کتاب ہے اور اذکار میں کامل کتاب سمجھی جا تی ہے اور نسائی کتاب "الیوم اللیلہ" سے عمدہ شمار ہو تی ہے۔
امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔
«وَهُوَ مِنَ الْمَرْوِيَّاتِ الْجَيِّدَةِ.»
پھر ابن السنی نے امام نسائی سے سماع کے بعد "السنن "کو مختصر کیا جس کا تذکرہ امام نسائی کی تالیفات میں ہو گا اور بقیہ رواۃ السنن کی تصریح ملتی ہے اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ وہ "السنن "کے رواۃ ہیں کیونکہ "المجتبیٰ"کے نام نسائی کی تالیف ہونے میں اختلاف ہے۔
اضافہ:۔
یہ وہ رواۃ "السنن "ہیں جن کا علامہ مزی اور پھر حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے مگر ایک راوی وہ ہے جس کا علامہ مزی یا حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ میں سے کسی نے ذکر نہیں کیا اور وہ ہے مسعود بن علی بن الفضل الیحانی ان کی کنیت ابو القاسم ہے مصر میں امام نسائی سے ان کی تاریخ کا سماع کیا اور پھر بعد میں السنن کا چنانچہ عزالدین ابن الاثیر لکھتے ہیں۔
«روي عن ابي عبدالرحمان النسائي السنن له»
اور علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے "المشتبہ" میں ان کو ذکر کیا ہے اور لکھا ہے۔
«الجباني بالتثقيل والفتح نسبة بجانة ومنها مسعود بن على الجباني حمل عن النسائي السنن»