نام کتاب:عدالتِ صحابہ ؓ ۔۔۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں
مؤلف: شیخ الحدیث حافظ ریاض عاقب اثری
زیر نظر کتاب جنوبی پنجاب کی نامور علمی شخصیت مولانا ڈاکٹر حافظ محمد ریاض عاقب الاثری حفظہ اللّٰہ تلمیذ رشید محدث العصر مولانا رفیق ألأثری رحمہ اللہ تعالیٰ کی خوبصورت کاوش ہے۔ موصوف کو اللہ تعالیٰ نے تقریر،تدریس اور تحریر کی خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا ہے۔
اس کتاب میں عدالتِ صحابہ ؓ کے موضوع پر چند خطبات جمعہ کو مضمون کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔جس میں قرآن مجید کی چند آیات کی روشنی میں موضوع کی وضاحت کی گئی ہے۔
کتاب مؤلف کیطرف سے حرفِ آغاز اور تمہید کے علاوہ تین فصول پر مشتمل ہے۔
🔖1-صحابی کی تعریف۔
🔖2-عدالت کا معنیٰ ومفہوم۔
🔖3-عدالتِ صحابہ ؓ قرآن مجید کی روشنی میں۔
اس کے بعد 11عناوین قائم کئے گئے ہیں۔جن میں قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں موضوع کی وضاحت کی گئی ہے۔
1-دفاعِ صحابہؓ۔ 2-افضلیت صحابہ ؓ۔ 3-عدالت صحابہ ؓ۔ 4-رضائے الٰہی اور صحابہ ؓ۔ 5-صداقت صحابہ ؓ۔ 6-محمد عربی اور صحابہ ؓ۔ 7-ایمان صحابہ ؓ۔ 8-معیارِ حق اور صحابہ ؓ۔ 9-عزتِ صحابہ ؓ۔10-گُزشتہ آسمانی کتب اور صحابہ ؓ۔11-جنت الہی اور صحابہ ؓ۔
کتاب کے مقدمہ میں وکیلِ صحابہ مولانا برق توحیدی حفظہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
"صحابی لغت میں ساتھی کو کہتے ہیں مگر اصطلاحی طور پر یہ لفظ ان نفوسِ قدسیہ اور ارواحِ طیبہ کیلئے مختص ہوگیا ہے جن کو ایمان کی حالت میں زیارتِ پیغمبر کی سعادت نصیب ہوئی اور پھر اسی حالت ایمان میں ہی زیارت باری تعالیٰ کیلئے رخت سفر باندھا ہو"۔
🌿فاضل مصنف فصل اول میں "صحابی" کی تعریف میں فرماتے ہیں: "لفظ صحابہ صحابی کی جمع ہے جو صَحِبَ یَص٘حَبُ صَحَابَةً و صُح٘بَةً سے ماخوذ ہے۔جس کے لغوی معنی ساتھ رہنا ہمراہ رہنا کے ہیں اور لفظ صاحب ساتھی و ہمراہی کے معنی میں مستعمل ہے جیسا کہ قران مجید میں فرمان الہی ہے:
ثَانِىَ ٱثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِى ٱلْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَٰحِبِهِۦ لَا تَحْزَنْ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَنَا۔ دو میں سے دوسرا جبکہ وہ غار میں تھے جب وہ رسول اکرمﷺ اپنے صاحب سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے"
اس آیت کریمہ میں اللہ عزوجل نے سیدنا محمدﷺ کے ساتھی سیدنا ابوبکر ؓ یار غار کے لیے صاحب کا لفظ استعمال کیا ہے اور صاحب کی جمع اصحاب و صحب ہے تو اس بنا پر رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں جن نفوس قدسیہ نے آپ سے حالت ایمان میں ملاقات کی ہو اور دین اسلام پر ہی وفات پائی ہو وہ تمام رفقاءِ محمد صحابہ یا اصحاب کہلائے"۔
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے صحابی کی یوں تعریف کی ہے:
وَهُوَ مَنْ لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا بِهِ، وَمَاتَ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَلَوْ تَخَلَّلَتْ رِدَّةٌ فِي الْأَصَحِّ.
صحیح قول کے مطابق صحابی وہ ہے جس نے ایمان کی حالت میں آپ سے ملاقات کی ہو اور اسلام پر ہی وفات پائی ہو گو درمیان میں ارتداد پیش اگیا ہو۔
علامہ جلال الدین سیوطی رح صحابی کی تعریف یوں کرتے ہیں:فَالْأَوْلَى أَنْ يُقَالَ: مَنْ لَقِيَ النَّبِيَّ مُسْلِمًا، وَمَاتَ عَلَى إِسْلَامِهِ.
صحابی کی سب سے بہتر تعریف یہ ہے کہ جس شخص نے حالت ایمان میں اپ سے ملاقات کی ہو اور اسلام پر ہی فوت ہوا ہو وہ صحابی ہے امام خطیب بغدادی قاضی محمد بن طیب سے نقل کرتے ہیں:
قَالَ: لَا خِلَافَ بَيْنَ أَهْلِ اللُّغَةِ فِي أَنَّ الْقَوْلَ (صَحَابِيٌّ) مُشْتَقٌّ مِنَ الصُّحْبَةِ، وَأَنَّهُ لَيْسَ بِمُشْتَقٍّ مِنْ قَدْرٍ مِنْهَا مَخْصُوصٍ، بَلْ هُوَ جَارٍ عَلَى كُلِّ مَنْ صَحِبَ غَيْرَهُ قَلِيلًا أَوْ كَثِيرًا، كَانَ أَوْ كَثِيرًا. اہل لغت کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ لفظ صحابی سے مشتق ہے اور اس کی کسی مقدار معین مقدار سے مشتق نہیں بلکہ اس شخص پر بولا جاتا ہے جسے کسی کی تھوڑی یا بہت صحبت نصیب ہوئی ہو"
🌿فصل دوم:عدالتِ صحابہ ؓ،
صحیح حدیث کی شروط میں ایک شرط راوی کا عادل ہونا ہے تمام محدثین عظام اور علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر راوی غیر صحابی کی عدالت و اثقاہت کے بارے میں جانبین اور بحث و تحقیق کی جائے گی مگر صحابی کی عدالت میں بحث و تفتیش کرنا ناجائز ہے اسے بلا چو چراں عادل و سکا تسلیم کرنا ضروری ہے لفظ عدالت عَدَلَ فی أمرِہٖ عَدلاً وعدَلَةً ومَعدِلَةً سے محفوظ ہے جس کا معنی اپنے معاملہ میں راست رو ہونا، حق اور انصاف پر ہونا، انصاف کرنا اور اس کی جمع عدول آتی ہے۔ (المنجدص:333)
علامہ ابوبکر جزائری عدالت کی اصطلاحی تعریف کے بارے میں کئی اقوال نقل کرتے ہیں ان میں سے ایک ملاحظہ فرمائیں وہ لکھتے ہیں: "بعض محدثین کرام کہتے ہیں کہ عدالت اس ملکہ کا نام ہے جو انسان کو کبیرہ گناہ کے ارتکاب اور صغیرہ گناہ پر اصرار کرنے سے روک دے"۔
(ماخوذ از فضائل صحابہ صفحہ 50 مہر محمد میانوالوی)
اسی لئے محدثین کرام اور علمائے اصول حدیث صحابہ کرام کے بارے میں یہ جملہ استعمال کرتے ہیں: "الصحابة كلهم عدول"یعنی صحابہ کرام تمام کے تمام عادل ہیں۔
🌿فصل سوم میں عدالت صحابہ کو قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔
اخر میں لکھتے ہیں رقم ناچیز انہی چند آیات بینات پر اکتفا کرتا ہے ان آیات کے علاوہ بیسیوں آیات کلمات قرآن مقدس میں موجود ہیں جن میں صحابہ کرام کی عدالت، ثقاہت، امانت، دیانت، صداقت، شرافت، شجاعت، بسالت اور تقوی للّٰہیت وغیرہ ایسی صفات عالیہ اور خصائل حمیدہ کے تذکرے روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔
13 ویں صدی کے ایک شیعہ محقق شیخ عباس قمی لکھتے ہیں:
"وھمہ بایکدیگر در مقام عدالت و انصاف واحسان بودند یکدیگر را بتقوی و پرہیزگاری وصیت مے کردند با یکدیگر در مقام تواضع و شکستگی بودند پیراں را توقیر مے کردند و برخرد سالاں رحم مے کردند غریباں را رعایت مے کرداں"
"وہ سب ایک دوسرے کے حق میں عادل، پاک باز، منصف اور محسن تھے ایک دوسرے کو تقوی اور پرہیزگاری کی وصیت کرتے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ متواضع اور فروتنی سے سلوک کرتے تھے بوڑھوں کی عزت کرتے چھوٹوں پر رحم کرتے اور غریبوں کا لحاظ کرتے تھے"۔
(کتاب ھٰذا بحوالہ منتھی الامال20/1)۔
اللّٰہ تعالٰی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت اور عقیدت نصیب فرمائے، اور روز قیامت انکا ساتھ نصیب فرمائے آمین۔