مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہ

مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہ

غلام مصطفی ظہیر امن پوری
قیمت (Price): Rs 350
نام کتاب: مشاجراتِ صحابہؓ
مصنف: علامہ غلام مصطفیٰ ظہیرامن پوری حفظہ اللہ
اصحاب رسولﷺ کائنات کا وہ پاکباز گروہ ہے جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ رسول اللہ ﷺکے ساتھ جس طرح انہوں نے وفا کی ہے کوئی دوسرا نہیں کر سکتا بلکہ اس کی سوچ کی پرواز وہاں تک نہیں پہنچ سکتی جہاں تک ان کی وفائیں پہنچ گئی ہیں۔
صحابی کی تعریف:
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"میرے مطابق صحابی کی سب سے صحیح تعریف یہ ہے کہ جس نے نبی کریم ﷺ سے ایمان کی حالت میں ملاقات کی ہو اور حالت اسلام میں وفات پائی ہو۔ ملاقات کرنے والوں میں وہ صحابہ بھی داخل ہے جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی معیت میں لمبا عرصہ گزارا اور وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے تھوڑا عرصہ گزارا نیز وہ صحابہ بھی شامل ہیں جنہوں نے آپﷺ سے حدیث بیان کی اور وہ بھی جنہوں نے حدیث بیان نہیں کی وہ بھی جنہوں نے آپﷺ کی معیت میں غزوہ کیا اور وہ بھی جنہوں نے غزوہ نہیں کیا وہ بھی جنہوں نے محض دیدار کیا مگر مجلس اختیار نہیں کی اور وہ بھی جنہوں نے کسی عارضے کے پیش نظر آپ کا دیدار نہیں کیا جیسے نابینا ہونا"۔( الاصابه في تمیز الصحابه1/158)
اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ تمام انبیاء کے انبیاء کے علاوہ کوئی بھی معصوم نہیں صحابہ کرام اہل خیر تھے ہمیشہ اللہ کی رضا کے متلاشی اور اس کے عذاب سے ڈرنے والے تھے وہ بہترین زمانے کے لوگ تھے لیکن ان سب کے باوجود وہ معصوم نہیں تھے بلکہ بتقاضائے بشریت ان سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں مگر اللہ تعالی نے تمام صحابہ کے لیے معافی کا اعلان کر دیا ہے اور ہمیشہ کے لیے اپنے رضا و رحمت کا وعدہ کر لیا ہے تمام صحابہ جنتی ہیں اللہ تعالی نے ان کی تمام لغزشوں کو معاف کر دیا ہے وہ مغفور و مرحوم ہیں اور جنت کے وارث ہیں۔
(دفاعِ صحابہؓ از شیخ امن پوری صفحہ12)
"مشاجرات کہتے ہیں صحابہ کرام کی آپسی جنگوں کو، جو جنگیں کسی اجتہادی مسئلے پر برپا ہو گئیں یا پھر فتنہ پرور عناصر کی درون خانہ سازشوں نے حالات اس قدر اس حد تک گمبھیر کر دیے کہ آخر کار معاملہ جنگ پر منتج ہوا صحابہ کرام جنگ کے وہ فریق تھے جو کسی بھی صورت لڑنا نہیں چاہتے تھے مگر لڑائی سے نکل بھی نہیں پا رہے تھے حالات کی ستم ظریفی نے وہ ماحول پیدا کر دیا ہے کہ "رحمآء بينهم" کا اعزاز پانے والے بھی آپس میں جھگڑ بیٹھے"
اہلسنت کا اس پر اجماع ہے کہ مشاجرات صحابہ میں زبان بند رکھی جائے اور سب کے حق میں دعائے مغفرت کی جائے۔
امام ابو رجاء قتیبہ بن سعید رح (240ھ)مسلمانوں کا اجماعی و اتفاقی عقیدہ بیان کرتے ہیں:
"الكَفُّ عَنْ مَسَاوِي أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يُذْكَرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ بِسُوءٍ، وَلَا يُنْتَقَصُ أَحَدٌ مِنْهُمْ"۔
صحابہ کی خطاؤں پر زبان بند رکھی جائے کسی کی برائی اور تنقید نہ کی جائے۔ ۔(کتاب ھذا صفحہ نمبر 2-3)
امام ابنِ تیمیہ رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:
"اہل سنت کے عقائد میں شامل ہے کہ صحابہ کرام کے اختلافات بارے منہ بند رکھا جائے صحابہ کے فضائل قرآن و سنت سے ثابت ہیں اور ان سے محبت و مودّت فرض ہے اختلافات صحابہ (تین قسم پر ہیں):
بعض ایسے کہ ان میں صحابہ کے پاس شرعی عذر تھا جو عام انسان کو معلوم نہیں ہو سکا۔
بعض خطائیں جن سے توبہ کر لی تھی۔
اور بعض ایسے جو اللہ تعالی نے خود ہی معاف کر دیے۔ مشاجرات صحابہ میں غور کرنے سے (کم فہم) اکثریت کے دلوں میں صحابہ کرام کے بارے میں بغض و عداوت پیدا ہو جاتی ہے. جس سے بندہ گنہگار ہو جاتا ہے یوں وہ خود کو اور اپنے ساتھیوں کو نقصان پہنچاتا ہے جنہوں نے اس بارے میں زبان کھولی اکثر کا یہی حال ہوا.......... اسی لیے مشاجرات صحابہ میں زبان بندی ہی سلف صالحین کا منہج ہے".(کتاب ھٰذا صفحہ 6)
امام شہاب بن خراش رح فرماتے ہیں:
"أَدْرَكْتُ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ صَدْرِي هٰذِهِ الأُمَّةِ، وَهُمْ يَقُولُونَ: اذْكُرُوا أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا تَأْتَلِفُ عَلَيْهِ القُلُوبُ، وَلَا تَذْكُرُوا الَّذِي شَجَرَ بَيْنَهُمْ فَتُحَرِّشُوا النَّاسَ عَلَيْهِمْ"۔
"میں نے اسلاف امت کو یہی کہتے سنا کہ اصحاب رسول کا تذکرہ اس طرح کریں کہ ان سے محبت پیدا ہو ان کے اختلافات کو ذکر نہ کریں کہ اس سے آپ لوگوں کو صحابہ سے متنفر کرنے کا سبب بنیں گے"۔(صفحہ: 16)
اس طرح اس مختصر کتاب میں قرآن پاک کی آیات بینات اور احادیث کے علاوہ آثار صحابہ اور آئمہ اہل سنت محدثین کے 90 سے زائد اقوال سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ صحابہ کرام سے بتقاضائے بشریت جو غلطیاں ہوئیں یا بعض غلط فہمیوں کی بنا پر آپس میں لڑائی جھگڑے ہوئے ان سب معاملات کو اللہ تعالی نے "وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ" اور "وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ" کہہ کر معاف کر دیا ہوا ہے۔ ہمیں کوئی حق نہیں کہ ان واقعات کو اچھال کر صحابہ کرام پر طعن و تشنیع اور ان کی شان میں تنقیص کی راہ ہموار کریں۔
کتاب کے بارے میں اختصار کے ساتھ یہی کہا جا سکتا ہے کہ"بقامت کہتر بہ قیمت بہتر" کی مصداق ہے یعنی جسامت میں کم ہے اپنے موضوع اور حوالہ جات کے معیار کے لحاظ سے قدر و قیمت میں زیادہ ہے۔طلباء علم، اور علماء و محققین کیلئے نہایت مفید کتاب ہے۔
اللہ تعالی شیخ محترم کو اس کا بہترین اجر و ثواب عطا فرمائے اور ہم سب کو سادہ کرام کی محبت و عقیدت پر زندہ رکھے اور اسی پر موت آئے۔آمین
کل رقم (Total Price):
Rs 350

متعلقہ کتب (Related Books)

دیگر کتب (Other Books)