بسلسلہ تعارف کتب
نام کتاب:فضل الباري شرح ثلاثیات البخاری اُردو ترجمہ انعام المنعم الباری بشرح ثلاثیات البخاری
شارح: مولانا عبدالصبور بن مولانا عبدالتواب محدث ملتانی رحمۃ اللّٰہ علیہ
ترجمہ، فوائد،تعلیقات: شیخ الحدیث حافظ ریاض
احمد عاقب الاثری حفظہ اللّٰہ دار الحدیث رحمانیہ ملتان۔
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِیِّهٖ.(موطا امام مالک: رقم الحدیث 2618)
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم ان کو تھامے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے، اللہ تعالی ٰ کی کتاب اور اس کے نبیﷺکی سنت۔
حدیث رسول قران مقدس کی تشریح و توضیح ہے۔
وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿سورۃ النحل:44﴾
"اور ہم نے تیری طرف یہ نصیحت اتاری، تاکہ تو لوگوں کے لیے کھول کر بیان کر دے جو کچھ ان کی طرف اتارا گیا ہے اور تاکہ وہ غور و فکر کریں"
محدثین نے فرامین رسول کو محفوظ کرنے کا خاص اہتمام کیا۔ راویان حدیث کے حالات زندگی مرتب کرنے کے لیے علم اسماء الرجال کے ذریعے اسناد کی چھان بین کی طرف خصوصی توجہ دی تاکہ حدیث نبوی کے صحافی چشمے کو شکوک و شبہات اور موضوع روایات سے بچایا جا سکے۔
امام عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
الإسناد من الدين ، ولولا الإسناد لقال من شاء ما شاء۔
سند دین میں سے ہے اگر سند نہ ہوتی تو دین کے نام پر کوئی کچھ بھی کہہ سکتا تھا
محمد بن سيرين رحمہ اللّٰہ نے فرمایا: إن هذا العلم دين ; فانظروا عمن تأخذون دينكم
بلا شبہ یہ علم (علم حدیث) دین ہے لہذا اسے حاصل کرنے سے قبل دیکھو کہ تم کس سے اخذ کر رہے ہو۔
(مقدمہ صحیح مسلم ،کتاب ھٰذا صفحہ 25-26)
محدثین کی اصطلاح میں راویوں کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ تک پہنچنے کے لئے قلت اور کثرت کے اعتبار سے
سند کی دو قسمیں ہیں:
1) سند عالی، 2)سند نازل،
سند عالی سے مراد حدیث کی وہ سند ہے جو کم واسطوں سے ہو کر رسول اللہ ﷺ تک پہنچتی ہو۔ اسلاف امت میں عالی سند کی اہمیت مسلم رہی ہے عالی سند کا حصول ان کے ہاں بڑا مرغوب مشغلہ رہا ہے اس کی خاطر دور دراز کا سفر طے کرتے تھے اور عالی سند کو اپنے لیے شرف و اعزاز گردانتے تھے۔
سند نازل سے مراد حدیث کی وہ سند ہے جس میں راویوں کی تعداد زیادہ ہو۔ مثلا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے رسول اللّٰہ ﷺ تک زیادہ سے زیادہ واسطے 9 بھی ہیں. صحیح بخاری میں سب سے کم واسطوں والی روایات ثلاثی ہیں یعنی وہ احادیث جو تین واسطوں سے رسول اللہﷺ تک پہنچتی ہیں،ثلاثیات کہلاتی ہیں۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ، تبع تابعی، تابعی اور صحابی۔
ثلاثیات بخاری میں روایت کرنے والے تبع تابعین:5 ہیں
ابو عاصم الضحاک، محمد بن عبداللہ الانصاری، خلاد بن یحییٰ،عصام بن خالد،مکی بن ابراہیم رحمھم اللّٰہ
تابعین 4ہیں:یزید بن ابی عبید، حمید الطویل، حریز بن عثمان، عیسی بن طہمان،
صحابہ کرام 3ہیں: حضرت سلمہ بن اکوع حضرت انس بن مالک،حضرت عبداللہ بن بسر۔رضی اللّٰہ عنھم۔
اس طرح صحیح بخاری میں ثلاثیات کی تعداد 22 ہے۔
زیر نظر کتاب میں یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ حدیث مبارکہ با سند اُردو ترجمہ کیساتھ، اس کے بعد مفردات الحدیث میں آنے والے الفاظ کی لغوی اور صرفی تحلیل وتشریح۔ رواۃ الحدیث کا تعارف اور فوائد الحدیث کے عنوان کے تحت اس حدیث کی مکمل توضیح اور تشریح اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد بیان کئے گئے ہیں۔
اس طرح ان 22 احادیث کے راویان جن کی تعداد 12 ہے ان کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔
ثلاثیات بخاری کی 22احادیث یہ ہیں:
1) رسول اللّٰہ ﷺ پر جھوٹ باندھنے کا انجام،
2) نمازی اور سترے کے درمیان کتنا فاصلہ ہو۔
3) ستون کو سترہ بناتے ہوئے نماز پڑھی جا سکتی ہے۔4) نماز مغرب کا وقت۔5) دن کو روزے کی نیت کرنا.
6) عاشورہ کے دن کا روزہ رکھنا.
7) میت کے قرض کی ادائیگی کا ذمہ قبول کرنا 8)مقروض میت کا کفیل رجوع نہیں کر سکتا۔
9) شراب وغیرہ کے برتنوں کا حکم 10)دیت پر صلح کرنا 11)موت پر بیعت لینا 12)دشمن کو دیکھ کر با آواز بلند "یاصباحا" پکارنا 13)نبی کریم ﷺکا حلیہ مبارک 14)غزوہ خیبر کا بیان 15)غزوات میں شرکت کرنا 16) قصاص کا بیان۔17)مردار اور مجوسیوں کے برتنوں کا حکم 18)قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے کا حکم 19)خود کو غلطی سے مار ڈالنے والے کی دیت کا حکم 20)دو مرتبہ بیعت لینا21) دانت کا قصاص 22)علو ذات باری تعالی کا اثبات۔
صفحہ 219سے 236 تک 18 صفحات میں استواء علی العرش کی بحث کو بہترین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
کتاب کا ترجمہ اور فوائد و تعلیمات جنوبی پنجاب کی نامور علمی شخصیت مولانا ڈاکٹر حافظ محمد ریاض عاقب الاثری حفظہ اللّٰہ تلمیذ رشید محدث العصر مولانا رفیق ألأثری رحمہ اللہ تعالیٰ کی خوبصورت کاوش ہے۔موصوف کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ خوبیوں صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ کئی کتب کے مصنف ہیں۔اللہ تعالٰی انکے علم و عمل اور زور قلم میں برکتوں کا نزول فرمائے۔
کتاب کے آخر کے 10 صفحات میں فاضل مترجم نے اپنے شیوخ سے ثلاثیات بخاری کی اسناد کے عکس پیش کیے ہیں۔ فضیلۃ الشیخ مولانا ارشاد الحق اثری،شیخ الحدیث مولانا محمد رفیق الاثری،شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد بن عبداللہ المحدث شجاع آبادی، شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمٰن ضیاء، محدث العصر علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہم اللّٰہ۔