|
|
فہم دین پروگرام
اثبات رفع یدین کی 245 احادیث
سنن نسائي، حدیث نمبر: 1089
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ الْمُحَارِبِيُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے، اور جب رکوع کرتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور سجدہ کرنے میں ایسا نہیں کرتے تھے۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6962)، مسند احمد 2/47، 147 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
Reference: View
سنن نسائي، حدیث نمبر: 1103
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قال: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قال:" قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ إِبْهَامَيْهِ قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَانَتْ يَدَاهُ مِنْ أُذُنَيْهِ عَلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي اسْتَقْبَلَ بِهِمَا الصَّلَاةَ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا (کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں تو میں نے دیکھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کے دونوں انگوٹھوں کو آپ کی دونوں کانوں کے قریب دیکھا، اور جب آپ نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو ”اللہ اکبر“ کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، پھر آپ نے ”اللہ اکبر“ کہا، اور سجدہ کیا، آپ کے دونوں ہاتھ آپ کی دونوں کانوں کی اس جگہ تک اٹھے جہاں تک آپ نے شروع نماز میں انہیں اٹھایا تھا (یعنی انہیں دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھایا)۔
تخریج الحدیث: «انظر حدیث رقم: 890، (تحفة الأشراف: 11781) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
Reference: View
سنن نسائي، حدیث نمبر: 1144
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ كُلَّهُ يَعْنِي رَفْعَ يَدَيْهِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے یعنی اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ۱؎۔
وضاحت: ۱؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم: ۱۰۸۶۔
تخریج الحدیث: «انظر الأرقام: 1086، 1088 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (1086) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329
Reference: View
سنن نسائي، حدیث نمبر: 1160
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قال:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَضْجَعَ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَنَصَبَ أُصْبُعَهُ لِلدُّعَاءِ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى" قَالَ، ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ مِنْ قَابِلٍ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الْبَرَانِسِ.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کر لیتے، اور جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو بھی ایسے ہی اٹھاتے، اور جب دو رکعت پڑھ کر بیٹھتے تو بائیں پیر کو بچھا دیتے، اور دائیں کو کھڑا رکھتے، اور اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھتے، اور (شہادت کی) انگلی دعا کے لیے کھڑی رکھتے، اور اپنے بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھتے۔ وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں آئندہ سال ان لوگوں کے پاس آیا، تو میں نے لوگوں کو جبوں کے اندر اپنے ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا۔
تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/الصلاة 116 (728)، (تحفة الأشراف: 11783)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1264 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
Reference: View
سنن نسائي، حدیث نمبر: 1182
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَاللَّفْظُ لَهُ , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ , قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ , كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ".
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دونوں رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، اور رفع یدین کرتے یہاں تک کہ دونوں ہاتھوں کو اپنے مونڈھوں کے برابر لے جاتے، جیسے وہ نماز شروع کرتے وقت کرتے تھے۔
تخریج الحدیث: «انظر حدیث رقم 1040 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
Reference: View
سنن نسائي، حدیث نمبر: 1183
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ , وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ , وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كَذَلِكَ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے جب نماز میں داخل ہوتے، اور جب رکوع کا ارادہ کرتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، اور دو رکعتوں کے بعد جب کھڑے ہوتے تو بھی اپنے ہاتھوں کو مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے تھے۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6876) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
Reference: View
سنن نسائي، حدیث نمبر: 1264
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ , وَإِذَا رَكَعَ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ , وَإِذَا جَلَسَ أَضْجَعَ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى , وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَيَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى , وَعَقَدَ ثِنْتَيْنِ الْوُسْطَى وَالْإِبْهَامَ وَأَشَارَ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع میں جاتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے (تو بھی اسی طرح اٹھاتے) اور جب آپ (قعدہ میں) بیٹھتے تو بایاں (پاؤں) لٹاتے، اور دایاں (پاؤں) کھڑا رکھتے، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے، اور درمیان والی انگلی اور انگوٹھے دونوں کو ملا کر گرہ بناتے، اور اشارہ کرتے ۱؎۔
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں یہ صراحت نہیں ہے کہ یہ بیان آخری قعدہ کے بارے میں ہے، اس لیے باب سے مناسبت واضح نہیں، یا یہ مراد ہے کہ یہ بیان دونوں قعدوں کے بارے میں ہے، تو یہ بھی درست نہیں، کیونکہ ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیحین کی ہے نیز تورک کے بارے میں واضح ہے۔
تخریج الحدیث: «انظر حدیث رقم: 890 و 1160 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
Reference: View
سنن نسائي، حدیث نمبر: 1266
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ:" قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ , فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ , فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ , فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ رَأْسَهُ بِذَلِكَ الْمَنْزِلِ مِنْ يَدَيْهِ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى , وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ: هَكَذَا , وَأَشَارَ بِشْرٌ بِالسَّبَّابَةِ مِنَ الْيُمْنَى وَحَلَّقَ الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر رہوں گا کہ آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں، تو (میں نے دیکھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور قبلہ رو ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اٹھایا کہ وہ آپ کے کانوں کے بالمقابل ہو گئے، پھر اپنے دائیں (ہاتھ) سے اپنے بائیں (ہاتھ) کو پکڑا، پھر جب رکوع میں جانے کا ارادہ کیا تو ان دونوں کو پھر اسی طرح اٹھایا، اور اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا، پھر جب رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو پھر ان دونوں کو اسی طرح اٹھایا، پھر جب سجدہ کیا تو اپنے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان اسی جگہ پر رکھا ۱؎، پھر آپ بیٹھے تو اپنا بایاں پاؤں بچھایا، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا، اور اپنی دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران سے دور رکھا، پھر اپنی دو انگلیاں بند کیں، اور حلقہ بنایا، اور میں نے انہیں اس طرح کرتے دیکھا۔ بشر نے داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا، اور انگوٹھے اور درمیانی انگلی کا حلقہ بنایا۔
وضاحت: ۱؎: یعنی اپنا سر اس طرح رکھا کہ دونوں ہاتھ دونوں کانوں کے بالمقابل ہو گئے۔
تخریج الحدیث: «انظر حدیث رقم: 890 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
Reference: View
سنن دارمي، حدیث نمبر: 1284
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ"إِذَا دَخَلَ الصَّلَاةَ، كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ، فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ أَوْ فِي السُّجُودِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو «الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے (یعنی رفع الیدین کرتے)، اور جب رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے اور رفع یدین کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو ایسے ہی رفع یدین کرتے، اور سجدتین یا سجود کے درمیان رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1285] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 735] ، [مسلم 390] ، [أبوداؤد 721] ، [ترمذي 255] ، [نسائي 1024] ، [ابن ماجه 858] ، [مسند أبى يعلی 5420، 5481] و [ابن حبان 1861، 1864 وغيرهم]
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 735] ، [مسلم 390] ، [أبوداؤد 721] ، [ترمذي 255] ، [نسائي 1024] ، [ابن ماجه 858] ، [مسند أبى يعلی 5420، 5481] و [ابن حبان 1861، 1864 وغيرهم]
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
Reference: View
سنن دارمي، حدیث نمبر: 1285
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ"إِذَا كَبَّرَ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ أُذُنَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ".
مالک بن الحویرث نے روایت کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ کہتے تو کانوں تک ہاتھ اٹھاتے، اور اسی طرح رکوع میں جاتے ہوئے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے تھے۔
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1286] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 737] ، [مسلم 391] ، [ابن حبان 1863]
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 737] ، [مسلم 391] ، [ابن حبان 1863]
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
Reference: View
سنن دارمي، حدیث نمبر: 1286
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْيَحْصُبِيِّ، عَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ"يُكَبِّرُ إِذَا خَفَضَ وَإِذَا رَفَعَ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ، وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ". قَالَ: قُلْتُ: حَتَّى يَبْدُوَ وَضَحُ وَجْهِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
سیدنا وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب جھکتے اور اٹھتے تو تکبیر کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ تکبیر کے وقت اٹھاتے تھے، اور دائیں و بائیں طرف سلام پھیرتے تھے،کہا گیا: یہاں تک کہ چہرے کی سفیدی دکھنے لگتی۔ کہا: ہاں۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1283 سے 1286)¤
ان روایات سے تین مقامات پر رفع یدین کا ثبوت ملا۔¤
یعنی تکبیرِ تحریمہ، رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت، چوتھا مقام تیسری رکعت کے لئے جب کھڑے ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رفع یدین کرتے تھے۔¤
یہ ہی سنّت ہے، اور عربی کا قاعدہ ہے کہ «كَانَ» کی خبر فعل مضارع ہو تو اس سے استمرار ثابت ہوتا ہے، مذکورہ بالا روایت اور دیگر روایات میں ہے «كَانَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ.» اس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مذکورہ بالا مقامات پر نماز میں ہمیشہ رفع یدین کرتے تھے۔¤
اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ رفع یدین کرنا ثابت ہوا، اور یہ کہنا کہ صرف ابتدائے اسلام میں رفع یدین اس وجہ سے کی جاتی تھی کہ لوگ بغل میں بت چھپائے رہتے تھے، یہ کہانی بالکل لغو اور باطل ہے، اگر بت چھپا کر لانے والے مسلمان تھے تو یہ صحابہ کرام پر بڑا عظیم بہتان ہے، اور کافر و منافق بھی ایسا نہیں کر سکتے تھے۔¤
بعض لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت سے استدلال کرتے ہیں اور ان مقامات پر رفع یدین کرنے کو منسوخ گردانتے ہیں، یہ غلط ہے، جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول اگر صحیح سند سے ثابت بھی ہو تو وہ شاذ ہے کیونکہ اکثر صحابہ کرام نے رفع یدین کا ذکر کیا ہے، جیسا کہ دس صحابہ نے رفع الیدین کی تائید کی۔¤
دیکھئے: حدیث رقم (1394)، نیز (1345) میں بھی رفع الیدین کا ذکر ہے۔¤
صرف اکیلے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔¤
اس لئے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول و فعل شاذ ہونے کے سبب نا قابلِ حجت و نا قابلِ عمل ہوگا۔¤
واللہ اعلم۔¤
ہمارے احناف بھائی رفع الیدین کے سلسلے میں ان کے فعل کو حجت مانتے ہیں لیکن بہت سے مسائل میں ان کی مخالفت کرتے ہیں۔¤
مثال کے طور پر:¤
1- سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک سورة الفاتحۃ قرآن میں سے نہیں ہے۔¤
2- قرآن پاک کی سورتوں کی ترتیب ان کے نزدیک اس طرح تھی: بقرہ، نساء، آل عمران۔¤
٣- وہ ہر نماز کو اوّل وقت میں پڑھنے کے قائل تھے، احناف آخر وقت میں پڑھتے ہیں۔¤
دیکھئے: حدیث (1219، 1259) و [بخاري 527] ۔¤
4- سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: اللہ حلالہ کرنے والے پر اور کروانے والے پر لعنت کرے۔¤
دیکھئے: [سنن دارمي 2300] لیکن احناف خوب حلالہ کرتے اور کراتے ہیں۔¤
5- نماز میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ایک طرف سلام پھیرنے کو ترجیح دیتے تھے۔¤
دیکھئے: حدیث نمبر (1384)۔¤
6- رکوع میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اہل و عیال دونوں ہاتھ گھٹنوں کے درمیان رکھتے تھے، حالانکہ یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا اور ایسا کرنے پر سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے لڑکے کو مارا بھی تھا۔¤
دیکھئے: [نسائي 1033] ، احناف کیوں رکوع میں گھٹنوں کے درمیان ہاتھ نہیں رکھتے؟¤
7- تسبیح کے دانوں پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے تسبيح و تہلیل پڑھنے کو سخت ناپسند کیا۔¤
دیکھئے: حدیث نمبر (210)، لیکن احناف ہاتھ میں مالا لئے خوب بازاروں میں گھومتے ہیں۔¤
8- سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے کہ فرشتے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم تک درود پہنچاتے ہیں۔¤
ص: 289، پھر احناف کیوں حجاج سے سلام کہلواتے ہیں؟¤
حقیقت یہ ہے کہ دیگر انسانوں کی طرح سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی بتقاضۂ بشریت کچھ چوک ہوئی، اس لئے جو بات ان کی دیگر صحابہ کرام کے اقوال کے مطابق ہے مانی جائے گی، اور جو خلافِ سنّت یا خلافِ اجماعِ صحابہ ہے وہ بات قابلِ عمل اور حجت نہ ہوگی۔¤
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
تخریج الحدیث: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1287] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 997] و [البيهقي 26/2]
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 997] و [البيهقي 26/2]
Reference: View
سنن دارمي، حدیث نمبر: 1344
إسحاق بن إبراهيم، حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا فليح بن سليمان، عن عباس بن سهل، قال: اجتمع محمد بن مسلمة، وابو اسيد، وابو حميد، وسهل بن سعد، فذكروا صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال ابو حميد: انا اعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم"قام فكبر ورفع يديه، ثم رفع يديه حين كبر للركوع، ثم ركع ووضع يديه على ركبتيه كانه قابض عليهما، ووتر يديه فنحاهما عن جنبيه، ولم يصوب راسه، ولم يقنعه".
عباس بن سہل سے مروی ہے کہ محمد بن مسلمہ، ابواسید، ابوحمید اور سہل بن سعد اکھٹے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ ہوا، ابوحمید نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تم سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں، جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے لئے) کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور رفع یدین کرتے، پھر جب رکوع میں جاتے تو رفع یدین کرتے پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنوں پر رکھتے تھے، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پکڑے ہوئے ہوں، اور اپنی دونوں کہنیوں کو پہلو سے جدا رکھتے تھے، اور (رکوع میں) نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کو جھکاتے تھے اور نہ اوپر اٹھاتے تھے۔
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1346] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [صحيح ابن حبان 1865] ، [موارد الظمآن 491]
وضاحت:
(تشریح حدیث 1343)
اس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع کرنے کا طریقہ معلوم ہوا، دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے، اور کہنیوں کو پہلو سے دور رکھنے، اور سر کو پیٹھ اور کمر کے برابر رکھنے کا ثبوت ملا کہ نہ سر پیٹھ سے اونچا رہے اور نہ نیچا، یہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع کرنے کا طریقہ، نیز اس حدیث میں رفع یدین کرنے کا بھی ثبوت ہے اور دیگر صحابہ کرام کی اس پر تصدیق ہے۔
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [صحيح ابن حبان 1865] ، [موارد الظمآن 491]
وضاحت:
(تشریح حدیث 1343)
اس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع کرنے کا طریقہ معلوم ہوا، دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے، اور کہنیوں کو پہلو سے دور رکھنے، اور سر کو پیٹھ اور کمر کے برابر رکھنے کا ثبوت ملا کہ نہ سر پیٹھ سے اونچا رہے اور نہ نیچا، یہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع کرنے کا طریقہ، نیز اس حدیث میں رفع یدین کرنے کا بھی ثبوت ہے اور دیگر صحابہ کرام کی اس پر تصدیق ہے۔
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
Reference: View
سنن دارمي، حدیث نمبر: 1345
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، فَإِذَا رَكَعَ، فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ، فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَقَالَ:"سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ.
سالم نے اپنے والد (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تو کندھوں تک اپنے ہاتھ اٹھاتے، پھر جب رکوع کرتے تو ایسا ہی (رفع یدین) کرتے، پھر جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو ایسے ہی رفع یدین کرتے اور «سمع الله لمن حمده، اللهم ربنا ولك الحمد» کہتے، اور سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے (یعنی رفع یدین نہیں کرتے تھے)۔
تخریج الحدیث: «إسناده قوي والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1347] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 735] ، [مسلم 390] ، [أبوداؤد 722] ، [ترمذي 255] ، [نسائي 1024] ، [ابن ماجه 858] ، [أبويعلی 5420] ، [ابن حبان 1861]
وضاحت:
(تشریح حدیث 1344)
اس حدیث میں رفع یدین کرنے اور اس کی کیفیت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کیا گیا ہے کہ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کیا کہنا چاہیے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ سجدوں کے درمیان رفع الیدین کرنا درست نہیں ہے۔
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده قوي والحديث متفق عليه
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 735] ، [مسلم 390] ، [أبوداؤد 722] ، [ترمذي 255] ، [نسائي 1024] ، [ابن ماجه 858] ، [أبويعلی 5420] ، [ابن حبان 1861]
وضاحت:
(تشریح حدیث 1344)
اس حدیث میں رفع یدین کرنے اور اس کی کیفیت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کیا گیا ہے کہ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کیا کہنا چاہیے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ سجدوں کے درمیان رفع الیدین کرنا درست نہیں ہے۔
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده قوي والحديث متفق عليه
Reference: View
سنن دارمي، حدیث نمبر: 1394
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالُوا: لِمَ؟ فَمَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً، وَلَا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً؟ قَالَ: بَلَى. قَالُوا: فَاعْرِضْ. قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرُ حَتَّى يَقَرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، وَلَا يُصَوِّبُ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ يَظُنُّ أَبُو عَاصِمٍ أَنَّهُ قَالَ: حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَسْجُدُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا، وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَسْجُدُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا مُعْتَدِلًا، حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُومُ فَيَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَإِذَا قَامَ مِنْ السَّجْدَتَيْنِ، كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا فَعَلَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ السَّجْدَةُ أَوْ الْقَعْدَةُ الَّتِي يَكُونُ فِيهَا التَّسْلِيمُ، أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَجَلَسَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ". قَالَ: قَالُوا: صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کے ساتھ تھے، ان میں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تم سب سے زیادہ علم ہے۔ انہوں نے کہا: ایسا کیوں؟ تم ہم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کرنے والے اور ہم سے زیادہ آپ کے ساتھ رہنے والے نہیں ہو؟ کہا: ہاں، ایسا ہی ہے، انہوں نے کہا: تو پھر پیش کیجئیے؟ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے، پھر «الله اكبر» کہتے یہاں تک کہ تمام جوڑ سیدھے ہو جاتے، پھر آپ قرأت کرتے، پھر اللہ اکبر کہتے اور دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے پھر رکوع میں جاتے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی اصلی حالت پر آ جاتی اور (رکوع میں) نہ سر کو اٹھاتے تھے اور نہ جھکاتے تھے (پیٹھ کے برابر رکھتے)، پھر اپنا سر (رکوع سے) اٹھاتے ہوئے «سمع الله لمن حمده» کہتے اور اپنے ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے۔ ابوعاصم کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے اس وقت بھی انہوں نے کہا: (رکوع سے اٹھ کر کھڑے رہتے) یہاں تک کہ ہر ہڈی (جوڑ) اپنی جگہ (اصلی حالت) پر آ جاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم الله اکبر کہتے اور سجدے میں چلے جاتے اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھ (بازو) پہلو سے دور رکھتے، پھر سجدے سے سر اٹھاتے اور بایاں قدم موڑ کر اس پر بیٹھتے، اور جب سجدہ کرتے پیروں کی انگلیاں کھلی رکھتے، پھر دوسرا سجدہ کرتے، پھر «الله اكبر» کہتے ہوئے سجدے سے سر اٹھاتے اور بایاں پیر موڑ کر اس پر اچھی طرح بیٹھ جاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی (جوڑ) اپنی اصلی حالت پر آ جاتی (یعنی باطمینان جلسہ استراحت فرماتے)، پھر کھڑے ہوتے اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے، اور جب تیسری رکعت کے لئے قیام فرماتے تو پھر رفع یدین کندھوں تک کرتے جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کیا تھا، پھر اپنی نماز اسی طرح پوری فرماتے تھے حتی کہ جب آخری تشہد یا قعدہ جس میں سلام پھیرنا ہوتا ہے بیٹھتے تو بایاں قدم کو (دایاں پیر کے نیچے سے) نکالتے اور بائیں جانب پر تورک کرتے ہوئے بیٹھتے۔ راوی نے کہا: ان دسوں صحابہ نے کہا: تم نے بالکل سچ کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بالکل یہی طریقہ تھا۔
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1396] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 828] ، [أبوداؤد 730] ، [ترمذي 304] ، [نسائي 1180] ، [ابن ماجه 803] ، [ابن حبان 1865، 1866] ، [موارد الظمآن 491، 492]
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 828] ، [أبوداؤد 730] ، [ترمذي 304] ، [نسائي 1180] ، [ابن ماجه 803] ، [ابن حبان 1865، 1866] ، [موارد الظمآن 491، 492]
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
Reference: View
سنن دارمي، حدیث نمبر: 1395
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي؟ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ"فَقَامَ فَكَبَّرَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى، قَالَ: ثُمَّ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخْذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ ثِنْتَيْنِ، فَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا، يَدْعُو بِهَا". قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ، فَرَأَيْتُ عَلَى النَّاسِ جُلَّ الثِّيَابِ يُحَرِّكُونَ أَيْدِيَهُمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ.
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دل میں ٹھانی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا: کھڑے ہوئے «الله اكبر» کہا اور اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے (یعنی رفع یدین کیا)، اور اپنا دایاں ہاتھ بایاں پنجے کے اوپر رکھا، پھر جب آپ نے رکوع کا ارادہ فرمایا تو اپنے ہاتھ اسی طرح اٹھائے (رفع یدین کیا) اور (رکوع میں) اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو رفع یدین کیا، پھر سجدہ کیا تو اپنے ہاتھ کو کانوں کے برابر رکھا، پھر (سجدے سے اٹھ کر) بیٹھے تو بایاں پیر (قدم) کو بچھا دیا اور اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران اور بائیں گھٹنے پر رکھا اور دائیں کہنی کو دائیں ران پر رکھا، پھر دو انگلیوں (یعنی انگوٹھا اور بیچ کی انگلی) کو موڑ کر حلقہ بنایا اور شہادت کی انگلی کو کھڑا رکھا۔ میں نے دیکھا آپ اسے حرکت دے رہے تھے گویا کہ اشارے سے دعا کر رہے ہیں۔ سیدنا وائل رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں کافی عرصے کے بعد سردیوں میں آیا تو دیکھا لوگ چادر میں (ملبوس) ہیں اور (رفع یدین کے لئے) چادر کے اندر اپنے ہاتھوں کو حرکت دے رہے ہیں۔
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1397] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 957] ، [نسائي 1262] ، [ابن ماجه 867] ، [ابن حبان 1860] ، [موارد الظمآن 485] ، [الحميدي 909]
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 957] ، [نسائي 1262] ، [ابن ماجه 867] ، [ابن حبان 1860] ، [موارد الظمآن 485] ، [الحميدي 909]
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
Reference: View
بلوغ المرام، حدیث نمبر: 216
وعن ابن عمر رضي الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يرفع يديه حذو منكبيه إذا افتتح الصلاة وإذ كبر للركوع وإذا رفع راسه من الركوع. متفق عليه.وفي حديث ابي حميد عند ابي داود: يرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه، ثم يكبر.ولمسلم: عن مالك بن الحويرث نحو حديث ابن عمر لكن قال: حتى يحاذي بهما فروع اذنيه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے مقابل تک اٹھاتے اور جب رکوع کے لئے «الله اكبر» کہتے تو بھی اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے مقابل تک اٹھاتے۔ (رفع یدین کرتے) (بخاری ومسلم)۔ اور ابوداؤد میں ابوحمید سے مروی حدیث میں ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے پھر «الله اكبر» (تکبیر) کہتے۔ اور مسلم میں مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں بھی اسی طرح منقول ہے، جس طرح ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے لیکن اس میں ”کندھوں کے مقابل“ کی جگہ اپنے کانوں کے مقابل تک اٹھاتے مذکور ہے۔
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب رفع اليدين في التكبيرة الأولي مع الافتتاح سواء، حديث:735، ومسلم، الصلاة، باب استحباب رفع اليدين حذو المنكبين مع تكبيرة الإحرام والركوع، حديث:390، وحديث أبي حميد أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:730.»
حكم دارالسلام: صحيح
Reference: View
موطا امام مالك رواية ابن القاسم، حدیث نمبر: 114
مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ رْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ. وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. وَكَانَ لاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں کندھوں تک رفع یدین کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح رفع یدین کرتے اور فرماتے: ” «سمع الله لمن حمده» . اﷲ نے اس کی سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی «ربنا ولك الحمد» اے ہمارے رب! اور سب تعریفیں تیرے لیے ہیں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں میں رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
تخریج الحدیث: «59- الموطأ (رواية محمد بن الحسن الشيباني ص 89 ح 99) التمهيد 210/9 و الاستذكار: 139 بلفظ يحيي بن يحيي (تنبيه يه روايت يحيي بن يحيي كے نسخے ميں مختصرا مروي هے جس ميں ركوع سے پهلے والے رفع يدين كا ذكر نهيں هے۔
(ديكهيے الموطأ رواية يحييٰ بن يحييٰ 75/1 ح 160، ك 3 ب 4 ح 16)، و أخرجه البخاري (735) من حديث مالك به رواه مسلم (390) من حديث ابن شهاب الزهري به.»
(ديكهيے الموطأ رواية يحييٰ بن يحييٰ 75/1 ح 160، ك 3 ب 4 ح 16)، و أخرجه البخاري (735) من حديث مالك به رواه مسلم (390) من حديث ابن شهاب الزهري به.»
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
Reference: View
موطا امام مالك روايةیحیی اللیثی، حدیث نمبر: 161
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا، وَقَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب شروع کرتے تھے نماز کو اٹھاتے تھے دونوں ہاتھ برابر مونڈھوں کے، اور جب سر اٹھاتے تھے رکوع سے تب بھی دونوں ہاتھوں کو اسی طرح اٹھاتے اور کہتے: «سمع الله لمن حمده، ربنا ولك الحمد»، اور سجدوں کے بیچ میں ہاتھ نہ اٹھاتے نہ سجدے کو جاتے وقت۔
تخریج الحدیث: صحیح
موطا امام مالك روايةیحیی اللیثی، حدیث نمبر: 166
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا دُونَ ذَلِكَ"
یحییٰ نے بیان کیا امام مالک رحمہ اللہ سے، حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب شروع کرتے نماز کو اٹھاتے دونوں ہاتھ برابر دونوں مونڈھوں کے، اور جب سر اٹھاتے رکوع سے اٹھاتے دونوں ہاتھ ذرا کم اس سے۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن خزیمۃ، حدیث نمبر: 456
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا بِحَذْوِ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا يَفْعَلُهُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ».
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک بلند کرتے پھر «الله اكبر» کہتے۔ پھر جب رُکوع کرنے کاارادہ فرماتے تو اسی طرح (رفع الیدین) کرتے، پھرجب رُکوع سے سر اُٹھاتے تو اسی طرح (رفع الیدین) کرتے۔ اور جب سجدوں سے اپنا سر مبارک اُٹھاتے تو رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن خزیمۃ، حدیث نمبر: 457
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الْبَرَانِسِ»
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے ساتھ نماز پڑھی تو میں نے انہیں اپنی ٹوپی والی قیمضوں (یاجبوں) میں رفع الیدین کرتے دیکھا۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن خزیمۃ، حدیث نمبر: 583
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ، نا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ سَالِمًا يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَعُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَحْمَدِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْأَزْهَرِ، وَغَيْرِهِمْ قَالُوا: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ حَتَّى يُحَاذِي مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَبَعْدَمَا يَرْفَعُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ" هَذَا لَفْظُ ابْنِ رَافِعٍ. سَمِعْتُ الْمَخْزُومِيَّ يَقُولُ: أَيُّ إِسْنَادٍ أَصَحُّ مِنْ هَذَا قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَحْكِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا الْإِسْنَادُ مِثْلُ هَذِهِ الْأُسْطُوَانَةِ
حضرت سالم رحمہ اللہ اپنے والد محترم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز شروع کرتے وقت اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رُکوع کرنے کا ارادہ فرماتے اور رُکوع سے سر اُٹھانے کے بعد اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔“ یہ ابن رافع کی روایت کے الفاظ ہیں۔ میں نے مخزومی کو فرماتے ہوئے سنا، اس سند سے زیادہ صحیح اور کونسی سند ہوسکتی ہے۔ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ سند اس ستون کی طرح (مظبوط و پائیدار) ہے۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن خزیمۃ، حدیث نمبر: 584
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ وَكَبَّرَ"
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے برابر اُٹھاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قراءت مکمّل ہونے کے بعد اور رُکوع کا ارادہ کرتے وقت بھی اسی طرح رفع الیدین کرتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رُکوع سے سر اُٹھاتے تو بھی اسی طرح رفع الیدین کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں بیٹھنے کی حالت میں رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ اور جب دو رکعت (کے تشہد) کے بعد کھڑے ہوتے تو اسی طرح رفع الیدین کرتے اور «الله اكبر» کہتے۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن خزیمۃ، حدیث نمبر: 585
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، أنا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، وَهُوَ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ «إِذَا صَلَّى كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي هَكَذَا»
حضرت ابوقلابہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب نماز پڑھتے تو «الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ بلند فرماتے، اور جب رُکوع کرنے کا ارادہ فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے، اور جب رُکوع سے اپنا سر اُٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے، اور اُنہوں نے بیان فرمایا کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن خزیمۃ، حدیث نمبر: 586
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، وَهُوَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلِينَا وَاشْتَقْنَا سَأَلَنَا عَمَّا تَرَكْنَا بَعْدَنَا فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالُ: «ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ»، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا وَأَشْيَاءَ لَا أَحْفَظُهَا، «وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ» هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ بُنْدَارٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ وَالشَّبَبَةَ الَّذِينَ ⦗٢٩٦⦘ كَانُوا مَعَهُ أَنْ يُصَلُّوا كَمَا رَأَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، وَقَدْ أَعْلَمَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِرَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا أَرَادَ الْمُصَلِّي الرُّكُوعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَكُلُّ لَفْظَةٍ رُوِيَتْ فِي هَذَا الْبَابِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ فَهُوَ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أُعْلِمْتُ أَنَّ الْعَرَبَ قَدْ تُوقِعُ اسْمَ الْفَاعِلَ عَلَى مَنْ أَرَادَ الْفِعْلَ قَبْلَ أَنْ يَفْعَلَهُ كَقَوْلِ اللَّهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ} [المائدة: ٦] الْآيَةَ، فَإِنَّمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِغَسْلِ أَعْضَاءِ الْوُضُوءِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ الْمَرْءُ إِلَى الصَّلَاةِ لَا بَعْدَ الْقِيَامِ إِلَيْهَا، فَمَعْنَى قَوْلِهِ: {إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ} [المائدة: ٦] أَيْ إِذَا أَرَدْتُمُ الْقِيَامَ إِلَيْهَا، فَكَذَلِكَ مَعْنَى قَوْلِهِ: يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ، أَيْ إِذَا أَرَادَ الرُّكُوعَ كَخَبَرِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنِ عُمَرَ اللَّذَيْنِ ذَكَرَاهُ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، خَرَّجْنَا هَذِهِ الْأَخْبَارَ بِتَمَامِهَا فِي كِتَابِ «الْكَبِيرِ»، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ: {فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ} [النور: ٦١] إِنَّمَا أَمَرَ بِالسَّلَامِ إِذَا أَرَادَ الدُّخُولَ لَا بَعْدَ دُخُولِ الْبَيْتِ، هَذِهِ لَفْظَةٌ إِذَا جُمِّعَتْ مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ طَالَ الْكِتَابُ بِتَقَصِّيهَا
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے جبکہ ہم تقریبا ایک ہی عمر کے نوجوان تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیس راتیں قیام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت رحمدل اور مہربان تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا کہ ہم اپنے گھر والوں کے پاس جانا چاہتے ہیں اور ان کی ملاقات کے مشتاق ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا: ”ہم اپنے پیچھے کن کن عزیزوں کو چھوڑ کر آئے ہیں۔“ تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (اُن کے متعلق) بتایا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلے جاؤ، اُن کے ساتھ رہو، اُنہیں دین کی باتیں سکھاؤ اور (اُن پر عمل کرنے کا) اُنہیں حُکم دو۔“ (حضرت ابوقلابہ کہتے ہیں کہ حضرت مالک نے) کئی چیزیں ذکر کیں جو مجھے یاد ہیں اور کئی یاد نہیں رہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”اور تم نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان کہے اور تم میں سے بڑا شخص تمہاری امامت کروائے۔“ یہ بندار کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بلاشبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی نوجوانوں کو حُکم دیا تھا کہ وہ نماز اسی طرح پڑھیں جیسا اُنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ اور سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں تکبیر کہتے، اور جب رُکوع کو جاتے اور جب رُکوع سے اپنا سر مبارک اُٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے تھے۔ لہٰذا اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٗٹھانے (رفع الیدین کرنے) کا حُکم دیا ہے، جب نمازی رُکوع کو جائے اور جب رُکوع سے اپنا سر اُٹھائے۔ اس مسئلے کے متعلق مروی وہ تمام الفاظ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رُکوع کرتے وقت رفع الیدین کرتے تھے تو وہ اسی قبیل سے ہیں جو میں نے بیان کی ہے کہ عرب لوگ کبھی کبھار اسم فاعل کا اطلاق کسی کام کا ارادہ کرنے والے شخص پر بھی کرتے ہیں، اس کے وہ کام کرنے سے پہلے ہی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا» [ سورة المائدة ] ”اے ایمان والو، جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنے چہرے دھولو۔“ تو اللہ تعالیٰ نے حُکم دیا ہے کہ آدمی جب نماز کے لئے کھڑے ہونے کا ارادہ کرے تو اعضائے وضو دھولے یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز میں کھڑے ہونے کے بعد اعضائے وضو دھولے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو“ کا معنی یہ ہے کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کرو۔“ اسی طرح حدیث کے یہ الفاظ جب رُکوع کرتے تو رفع الیدین کرتے تو اس کے معنی یہ ہے کہ جب رُکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو رفع الیدین کرتے“ جیسا کہ سیدنا علی بن طالب اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کی احادیث میں مذکور ہوا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رُکوع کا ارادہ کرتے (تو رفع الیدین کرتے تھے) ہم نے یہ تمام روایات کتاب الکبیر میں بیان کی ہیں۔ اسی طرح اس فرمان میں «فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ» [ سورة النور ] ”اور جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کہو۔“ گھروں میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کا حُکم دیا گیا ہے نہ کہ گھروں میں داخل ہونے کے بعد۔ اس مسئلے کے متعلق کتاب و سنّت سے مثالیں جمع کی جائیں تو کتاب بہت طویل ہو جائے گی۔
تخریج الحدیث: صحیح