|
|
فہم دین پروگرام
اثبات رفع یدین کی 245 احادیث
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر: 2524
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَرْفَعُونَ أَیْدِیَہُمْ إِذَا رَکَعُوا، وَإِذَا رَفَعُوا رُئُ وسَہُمْ مِنَ الرُّکُوعِ، کَأَنَّمَا أَیْدِیہُمْ مَرَاوِحُ۔ © [صحیح]
قتادہ حسن سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ جب رکوع کرتے تو رفع یدین کرتے تھے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی رفع یدین کرتے تھے ایسے لگتا تھا کہ ان کے ہاتھ پنکھوں کی طرح ہیں۔
تخریج الحدیث: حسن
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر: 2525
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ یُوسُفَ الأَخْرَمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ: أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَفْعِ الْیَدَیْنِ فِی الصَّلاَۃِ فَقَالَ: ہُوَ شَیْء ٌ یُزَیِّنُ بِہِ الرَّجُلُ صَلاَتَہُ، کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَرْفَعُونَ أَیْدِیَہُمْ فِی الاِفْتِتَاحِ، وَعِنْدَ الرُّکُوعِ، وَإِذَا رَفَعُوا رُئُ وسَہُمْ۔ © [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۲۴۹۳]
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ان سے کسی نے نماز میں رفع یدین کے بارے پوچھا تو انھوں نے کہا: وہ ایسی چیز ہے جس کے ذریعے آدمی اپنی نماز کو آراستہ کرتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کرتے تھے اور رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کرتے۔
تخریج الحدیث: صحیح
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر: 2526
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَی الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ قَالَ: وَیُرْوَی عَنْ عِدَّۃٍ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ وَأَہْلِ الْحِجَازِ وَأَہْلِ الْعِرَاقِ وَالشَّامِ وَالْبِصْرَۃِ وَالْیَمَنِ أَنَّہُمْ کَانُوا یَرْفَعُونَ أَیْدِیَہُمْ عِنْدَ الرُّکُوعِ وَرَفْعِ الرَّأْسِ مِنْہُ، مِنْہُمْ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ وَعَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ وَمُجَاہِدٌ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَالنُّعْمَانُ بْنُ أَبِی عَیَّاشٍ، وَالْحَسَنُ وَابْنُ سِیرِینَ، وَطَاوُسٌ وَمَکْحُولٌ، وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ دِینَارٍ وَنَافِعٌ، وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَالْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَقَیْسُ بْنُ سَعْدٍ وَغَیْرُہُمْ عِدَّۃٌ کَثِیرَۃٌ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رُوِّینَاہُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ وَأَبِی الزُّبَیْرِ ثُمَّ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ، وَالأَوْزَاعِیِّ وَاللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ وَابْنِ عُیَیْنَۃَ، ثُمَّ عَنِ الشَّافِعِیِّ وَیَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الْقَطَّانِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَہْدِیٍّ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ، وَیَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیِّ، وَعِدَّۃٍ کَثِیرَۃٍ مِنْ أَہْلِ الآثَارِ بِالْبُلْدَانِ رَحِمَہُمُ اللَّہُ تَعَالَی۔ © [صحیح۔ اخرجہ البخاری فی رفع الیدین ۹]
(ا) محمد بن اسماعیل بخاری (رض) فرماتے ہیں کہ اہل مکہ کی ایک بڑی تعداد، اہل حجاز، اہل شام، اہل عراق اور بصرہ ویمن والوں کی ایک بڑی تعداد سے منقول ہے کہ وہ رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ ان میں سعید بن جبیر، عطا بن ابی رباح، مجاہد، قاسم بن محمد، سالم بن عبداللہ بن عمر، عمر بن عبدالعزیز، نعمان بن ابی عیاش، حسن بصری، ابن سیرین، طاؤس، مکحول، عبداللہ بن دینار، نافع، عبیداللہ بن، عمر حسن بن مسلم، قیس بن سعد (رض) اور ان کے علاوہ ایک بہت بڑی تعداد میں لوگ شامل ہیں۔
(ب) شیخ (بیہقی)h فرماتے ہیں: ہم نے ابو قلابہ، ابو زبیر، مالک بن انس، اوزاعی، لیث بن سعد، ابن عیینہ، امام شافعی، یحییٰ بن سعید قطان، عبدالرحمن بن مہدی، عبداللہ بن مبارک، یحییٰ بن یحییٰ، احمد بن حنبل، اسحق بن ابراہیم حنظلی (رض) اور (ملک و علاقوں کے بارے میں معلومات رکھنے والے) مختلف شہروں کے اہل العلم کی ایک بہت بڑی جماعت سے روایت نقل کی ہے۔
تخریج الحدیث: حسن
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر: 2528
أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ۔ قَالَ سُفْیَانُ: ثُمَّ قَدِمَتُ الْکُوفَۃَ فَلَقِیتُ یَزِیدَ، فَسَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ بِہَذَا، وَزَادَ فِیہِ: ثُمَّ لاَ یَعُودُ، فَظَنَنْتُ أَنَّہُمْ لَقَّنُوہُ، قَالَ سُفْیَانُ: ہَکَذَا سَمِعْتُ یَزِیدَ یُحَدِّثْہُ ثُمَّ سَمِعْتُہُ بَعْدُ یُحَدِّثُہُ ہَکَذَا وَیَزِیدُ فِیہِ: ثُمَّ لاَ یَعُودُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَذَہَبَ سُفْیَانُ إِلَی أَنْ یُغَلِّطَ یَزِیدَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ یَقُولُ کَأَنَّہُ لُقِّنَ ہَذَا الْحَرْفَ فَتَلَقَّنَہُ، وَلَمْ یَکُنْ یَذْکُرْ سُفْیَانُ یَزِیدَ بِالْحِفْظِ۔
کَذَلِکَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الإِسْفَرَائِنِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَرْبَہَارِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ بِمَکَّۃَ، فَذَکَرَ ہَذَا الْحَدِیثَ لَیْسَ فِیہِ: ثُمَّ لاَ یَعُودُ۔
قَالَ سُفْیَانُ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْکُوفَۃَ سَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ بِہِ فَیَقُولُ فِیہِ: ثُمَّ لاَ یَعُودُ، فَظَنَنْتُ أَنَّہُمْ لَقَّنُوہُ۔
وَقَالَ لِی أَصْحَابُنَا إِنَّ حَفْظَہُ قَدْ تَغَیَّرَ أَوْ قَالُوا قَدْ سَائَ۔
قَالَ الْحُمَیْدِیُّ قُلْنَا لِقَائِلِ ہَذَا یَعْنِی لِلْمُحْتَجِّ بِہَذَا: إِنَّمَا رَوَاہُ یَزِیدُ، وَیَزِیدُ یَزِیدَ۔
© [صحیح۔ الا قولہ ’’ثم لم یعد‘‘ (لایعود) اخرجہ الشافعی فی مسندہ ۸۵۳]
(ا) سیدنا براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا جب آپ نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے۔ سفیان کہتے ہیں: پھر میں کوفہ آیا تو (اپنے استاد) یزید سے ملا۔ میں نے انھیں یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا اور انھوں نے اس میں یہ اضافہ بھی کیا کہ پھر دوبار یہ کام (رفع یدین) ساری نماز میں نہیں کیا۔ میں سمجھا کہ انھوں نے اس کی تلقین کی ہے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے یزید کو یہ حدیث پہلے اس طرح بیان کرتے سنا، پھر دوبارہ انھوں نے اس میں ثم یعود کے الفاظ کا اضافہ کیا۔
(ب) امام شافعی اور سفیان اس طرف گئے ہیں کہ یزید کو اس حدیث میں غلطی پر سمجھیں۔ کیونکہ انھیں اس حرف کی تلقین کی گئی تھی یعنی سمجھایا گیا تھا۔ لیکن انھوں نے اسے سیکھ کر ذہن نشین کر لیا۔
(ج) اسی طرح ایک اور سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے۔ اس میں ثم لا یعود کے الفاظ نہیں ملتے۔
(د) سفیان کہتے ہیں: جب میں کوفہ آیا تو میں نے انھیں یہ حدیث بیان کرتے سنا تو اس میں وہ ثم لا یعود کہہ رہے تھے۔ میں نے جان لیا کہ انھوں نے ان کو سکھا دیا ہے۔
(ہ) اور مجھے میرے ساتھیوں (ہم مسلک لوگوں) نے کہا کہ یزید کا حافظہ خراب ہو گیا تھا یا انھوں نے ”قدساء“ کا لفظ بولا۔
(و) حمیدی کہتے ہیں: جو اس حدیث سے دلیل پکڑتا ہے ہم اس کو اتنا ہی کہیں گے کہ اس روایت کو یزید نے روایت کیا ہے اور یزید اضافہ کرتا رہتا ہے۔
تخریج الحدیث: صحیح
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر: 2530
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ بِمَکَّۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ۔ قَالَ سُفْیَانُ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْکُوفَۃَ سَمِعْتُہُ یَقُولُ: یَرْفَعُ یَدَیْہِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ، ثُمَّ لاَ یَعُودُ۔ فَظَنَنْتُ أَنَّہُمْ لَقَّنُوہُ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ الدَّیْرَعَاقُولِیُّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ بَشَّارٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رَوَی ہَذَا الْحَدِیثَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أَخِیہِ عِیسَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْبَرَائِ قَالَ فِیہِ: ثُمَّ لاَ یَعُودُ۔ وَقِیلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْحَکَمِ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی، وَقِیلَ عَنْہُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی۔ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی لاَ یُحْتَجُّ بِحَدِیثِہِ وَہُوَ أَسْوَأُ حَالاً عِنْدَ أَہْلِ الْمَعْرِفَۃِ بِالْحَدِیثِ مِنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ فَذَکَرَ فَصْلاً فِی تَضْعِیفِ حَدِیثِ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ثُمَّ قَالَ: وَلَمْ یَرْوِ ہَذَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی أَحَدٌ أَقْوَی مِنْ یَزِیدَ۔ © [صحیح۔ الاقولہ ثم لم یعد وقد تقدم الکلام علیہ قریبا]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ بِمَکَّۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ۔ قَالَ سُفْیَانُ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْکُوفَۃَ سَمِعْتُہُ یَقُولُ: یَرْفَعُ یَدَیْہِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ، ثُمَّ لاَ یَعُودُ۔ فَظَنَنْتُ أَنَّہُمْ لَقَّنُوہُ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ الدَّیْرَعَاقُولِیُّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ بَشَّارٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رَوَی ہَذَا الْحَدِیثَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أَخِیہِ عِیسَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْبَرَائِ قَالَ فِیہِ: ثُمَّ لاَ یَعُودُ۔ وَقِیلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْحَکَمِ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی، وَقِیلَ عَنْہُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی۔ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی لاَ یُحْتَجُّ بِحَدِیثِہِ وَہُوَ أَسْوَأُ حَالاً عِنْدَ أَہْلِ الْمَعْرِفَۃِ بِالْحَدِیثِ مِنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ فَذَکَرَ فَصْلاً فِی تَضْعِیفِ حَدِیثِ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ثُمَّ قَالَ: وَلَمْ یَرْوِ ہَذَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی أَحَدٌ أَقْوَی مِنْ یَزِیدَ۔ © [صحیح۔ الاقولہ ثم لم یعد وقد تقدم الکلام علیہ قریبا]
(ا) براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز شروع فرماتے تو رفع یدین کرتے اور جب رکوع کا ارادہ کرتے تب بھی اور جب رکوع سے سر اٹھاتے بھی رفع یدین کرتے۔ سفیان کہتے ہیں: جب میں کوفہ آیا تو میں نے (یزید سے) یہی حدیث سنی تو انھوں نے فرمایا: جب نماز شروع کرتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے (رفع یدین کرتے تھے)۔ پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے تو میں سمجھ گیا کہ اہل کوفہ نے ان کو سمجھایا ہے۔
(ب) شیخ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے اپنے بھائی عیسیٰ سے، انھوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور وہ براء بن عازب سے روایت کرتے ہیں۔ اس میں بھی یہی ہے کہ پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے۔
تخریج الحدیث: صحیح
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر: 2533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْجَرَّاحِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَاسَوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ السُّکَّرِیُّ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ زَمْعَۃَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْمُبَارَکِ یَقُولُ: لَمْ یَثْبُتْ عِنْدِی حَدِیثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَفَعَ یَدْیَہِ أَوَّلَ مُرَّۃٍ، ثُمَّ لَمْ یَرْجِعْ۔ وَقَدْ ثَبَتَ عِنْدِی حَدِیثُ رَفْعِ الْیَدَیْنِ ذَکَرَہُ عُبَیْدُ اللَّہِ وَمَالِکٌ وَمَعْمَرٌ وَابْنُ أَبِی حَفْصَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ قَالَ: وَأُرَاہُ وَاسِعًا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ یَرْفَعُ یَدْیَہِ فِی الصَّلاَۃِ لِکَثْرَۃِ الأَحَادِیثِ وَجَوْدَۃِ الأَسَانِیدَ۔ © [صحیح۔ انظر ۲۵۳۰]
سفیان بن عبدالملک فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے نزدیک عبداللہ بن مسعود کی حدیث کہ ”نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف پہلی مرتبہ رفع یدین کیا پھر دوبارہ نہیں کیا“ ثابت نہیں ہے اور میرے پاس تو رفع یدین کی حدیث ثابت ہے جس کو عبید اللہ، مالک، معمر اور ابن ابی حفصۃ نے زہری سے، انھوں نے سالم کے واسطے سے ابن عمر سے اور ابن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں اور میں اس میں وسعت سمجھتا ہوں۔ پھر عبداللہ بن مبارک (رح) کہنے لگے کہ احادیث کی کثرت اور ان کی اسانید کے جید ہونے کی وجہ سے میرا یہی خیال ہے۔ گویا میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز میں رفع یدین کرتے دیکھ رہا ہوں۔
تخریج الحدیث: صحیح
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر: 2535
أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَنْزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّہْشَلِیُّ فَذَکَرَہُ۔
قَالَ عُثْمَانُ الدَّارِمِیُّ: فَہَذَا قَدْ رُوِیَ مِنْ ہَذَا الطَّرِیقِ الْوَاہِی عَنْ عَلِیٍّ۔
وَقَدْ رَوَی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ہُرْمُزَ الأَعْرَجُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیٍّ: أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ -ﷺ- یَرْفَعُہُمَا عِنْدَ الرُّکُوعِ وَبَعْدَ مَا یَرْفَعُ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ۔ فَلَیْسَ الظَّنُّ بِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ یَخْتَارُ فِعْلَہُ عَلَی فِعْلِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ وَلَکِنْ لَیْسَ أَبُو بَکْرٍ النَّہْشَلِیُّ مِمَّنْ یُحْتَجُّ بِرِوَایَتِہِ أَوْ تَثْبُتُ بِہِ سُنَّۃٌ لَمْ یَأْتِ بِہَا غَیْرُہُ۔ قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ: وَلاَ یَثْبُتُ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ یَعْنِی مَا رَوَوْہُ عَنْہُمَا مِنْ أَنَّہُمَا کَانَا لاَ یَرْفَعَانِ أَیْدِیَہُمَا فِی شَیْئٍ مِنَ الصَّلاَۃِ إِلاَّ فِی تَکْبِیرَۃِ الاِفْتِتَاحِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَإِنَّمَا رَوَاہُ عَاصِمُ بْنُ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیٍّ۔ فَأَخَذَ بِہِ وَتَرَکَ مَا رَوَی عَاصِمٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- رَفَعَ یَدَیْہِ کَمَا رَوَی ابْنُ عُمَرَ، وَلَوْ کَانَ ہَذَا ثَابِتًا عَنْ عَلِیٍّ وَعَبْدِ اللَّہِ کَانَ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ رَآہُمَا مَرَّۃً أَغْفَلاَ فِیہِ رَفْعَ الْیَدَیْنِ، وَلَوْ قَالَ قَائِلٌ ذَہَبَ عَنْہُمَا حِفْظُ ذَلِکَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَحَفِظَہُ ابْنُ عُمَرَ لَکَانَتْ لَہُ الْحُجَّۃُ۔ © [صحیح۔ رجالہ کلہم ثقات]
وَقَدْ رَوَی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ہُرْمُزَ الأَعْرَجُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیٍّ: أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ -ﷺ- یَرْفَعُہُمَا عِنْدَ الرُّکُوعِ وَبَعْدَ مَا یَرْفَعُ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ۔ فَلَیْسَ الظَّنُّ بِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ یَخْتَارُ فِعْلَہُ عَلَی فِعْلِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ وَلَکِنْ لَیْسَ أَبُو بَکْرٍ النَّہْشَلِیُّ مِمَّنْ یُحْتَجُّ بِرِوَایَتِہِ أَوْ تَثْبُتُ بِہِ سُنَّۃٌ لَمْ یَأْتِ بِہَا غَیْرُہُ۔ قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ: وَلاَ یَثْبُتُ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ یَعْنِی مَا رَوَوْہُ عَنْہُمَا مِنْ أَنَّہُمَا کَانَا لاَ یَرْفَعَانِ أَیْدِیَہُمَا فِی شَیْئٍ مِنَ الصَّلاَۃِ إِلاَّ فِی تَکْبِیرَۃِ الاِفْتِتَاحِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَإِنَّمَا رَوَاہُ عَاصِمُ بْنُ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیٍّ۔ فَأَخَذَ بِہِ وَتَرَکَ مَا رَوَی عَاصِمٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- رَفَعَ یَدَیْہِ کَمَا رَوَی ابْنُ عُمَرَ، وَلَوْ کَانَ ہَذَا ثَابِتًا عَنْ عَلِیٍّ وَعَبْدِ اللَّہِ کَانَ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ رَآہُمَا مَرَّۃً أَغْفَلاَ فِیہِ رَفْعَ الْیَدَیْنِ، وَلَوْ قَالَ قَائِلٌ ذَہَبَ عَنْہُمَا حِفْظُ ذَلِکَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَحَفِظَہُ ابْنُ عُمَرَ لَکَانَتْ لَہُ الْحُجَّۃُ۔ © [صحیح۔ رجالہ کلہم ثقات]
(ا) ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت منقول ہے۔ (ب) ایک اور سند سے سیدنا علی (رض) سے منقول ہے کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ حضرت علی کے بارے اس طرح گمان نہیں ہو سکتا کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمل پر اپنے عمل کو ترجیح دیں۔ زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی (رح) اپنے قول قدیم میں فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) اور ابن مسعود (رض) کی روایات ثابت نہیں کہ وہ دونوں صرف نماز کی ابتدا میں رفع یدین کرتے تھے اس کے علاوہ نہیں کرتے تھے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صرف عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ انھوں نے اس روایت کو لے لیا لیکن جو روایت عاصم نے اپنے باپ سے اور انھوں نے وائل بن حجر (رض) سے روایت لی ہے اسے چھوڑ دیا، یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رفع یدین کیا جیسا کہ ابن عمر (رض) نے روایت کیا ہے اور اگر یہ روایت علی اور عبداللہ بن مسعود (رض) سے ثابت بھی ہوجائے تو اس میں یہ اشتباہ بھی ہوسکتا ہے کہ انھوں نے ایک ہی بار دیکھا ہو اور رفع یدین کی طرف توجہ نہ دی ہو۔ اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ ان سے یہ یادداشت چلی گئی اور ابن عمر (رض) نے اس کو یاد رکھا ہو تو اس کے لیے حجت بن سکتی ہے۔
تخریج الحدیث: صحیح
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر: 2537
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قُلْتُ لِلشَّافِعِیِّ: مَا مَعْنَی رَفْعِ الْیَدَیْنِ عِنْدَ الرُّکُوعِ؟ فَقَالَ: مِثْلُ مَعْنَی رَفْعِہِمَا عِنْدَ الاِفْتِتَاحِ، تَعْظِیمًا لِلَّہِ وَسُنَّۃً مُتَّبَعَۃً یُرْجَی فِیہَا ثُوَابُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِثْلُ رَفْعِ الْیَدَیْنِ عَلَی الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَغَیْرِہِمَا۔ © [صحیح]
ربیع بن سلمان فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی (رض) سے پوچھا کہ رکوع کے وقت رفع یدین کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا: ابتدائے نماز میں ان کو اٹھانے کا جو معنی ہے وہی اس سے مقصود ہے۔ (پھر فرمایا:) اس میں اللہ کی عظمت کا اظہار اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کی اتباع ہے اور اللہ کی طرف سے ثواب کی امید بھی ہے اور یہ صفا مروہ پر ہاتھ اٹھانے کی طرح ہے۔
تخریج الحدیث: صحیح
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر: 2541
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاَسَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّی الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا الزُّبَیْدِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی تَکُونَا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ، ثُمَّ یُکَبِّرُ وَہُمَا کَذَلِکَ فَیَرْکَعُ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْفَعَ صُلْبَہُ رَفَعَہُمَا حَتَّی تَکُونَا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ))۔ وَلاَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی السُّجُودِ وَیَرْفَعُہُمَا فِی کُلِّ تَکْبِیرَۃٍ یُکَبِّرُہَا قَبْلَ الرُّکُوعِ حَتَّی تَنْقَضِیَ صَلاَتُہُ۔
الزُّبَیْدِیُّ ہَذَا اسْمُہُ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ عَامِرٍ۔ © [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۷۲۲]
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھوں کو بلند کرتے حتیٰ کہ وہ کندھوں کے برابر ہوجاتے، پھر جب بھی تکبیر کہتے تو ایسے ہی رفع یدین کرتے اور رکوع کرتے، پھر جب رکوع سے اٹھنے کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح رفع یدین کرتے یہاں تک کہ ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھاتے، پھر فرماتے: «سمع الله لمن حمده» اور سجدوں میں رفع یدین نہیں کرتے تھے، لیکن رکوع سے پہلے ہر تکبیر میں رفع یدین کرتے حتیٰ کہ آپ کی نماز مکمل ہو جاتی۔
تخریج الحدیث: صحیح
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر: 2604
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ وَأَبُو الْحَسَنِ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ فِیمَا قُرِئَ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّکُوعِ رَفَعَہُمَا کَذَلِکَ وَقَالَ: ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ))۔ وَکَانَ لاَ یَفْعَلُ ذَلِکَ فِی السُّجُودِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیِّ۔ © [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۳۵]
سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور جب رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھاتے تب بھی اسی طرح رفع یدین کرتے اور کہتے: «سمع الله لمن حمده، الله ربنا لك الحمد» اللہ نے اس کی دعا سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے ہی واسطے ہیں“ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدوں میں اس طرح (رفع یدین) نہیں کرتے تھے۔
تخریج الحدیث: صحیح
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر: 2642
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ: ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ إِشْکَابٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ: شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنِی أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنِی الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ حَدَّثَنِی عِیسَی بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ أَخْبَرَنِی مَالِکٌ عَنْ عَیَّاشِ أَوْ عَبَّاسِ بْنِ سَہْلٍ السَّاعِدِیِّ: أَنَّہُ کَانَ فِی مَجْلِسٍ فِیہِ أَبُوہُ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَفِی الْمَجْلِسِ أَبُو ہُرَیْرَۃَ وَأَبُو أُسَیْدٍ وَأَبُو حُمَیْدٍ السَّاعِدِیُّ مِنَ الأَنْصَارِ: أَنَّہُمْ تَذَاکَرُوا الصَّلاَۃَ، فَقَالَ أَبُو حُمَیْدٍ: أَنَا أَعْلَمُکُمْ بِصَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالُوا: کَیْفَ؟ قَالَ: اتَّبَعْتُ ذَلِکَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
قَالُوا: فَأَرِنَا۔ قَالَ: فَقَامَ یُصَلِّی وَہُمْ یَنْظُرُونَ إِلَیْہِ، فَبَدَأَ فَکَبَّرَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ نَحْوَ الْمَنْکِبَیْنِ، ثُمَّ کَبَّرَ لِلرُّکُوعِ، فَرَفَعَ یَدَیْہِ أَیْضًا حَتَّی أَمْکَنَ یَدَیْہِ مِنْ رُکْبَتَیْہِ غَیْرَ مُقَنِّعٍ رَأْسَہُ وَلاَ مُصَوِّبِہِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ۔ فَرَفَعَ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ: اللَّہُ أَکْبَرُ۔ فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَی کَفَّیْہِ وَرُکْبَتَیْہِ وَصُدُورِ قَدَمَیْہِ وَہُوَ سَاجِدٌ، ثُمَّ کَبَّرَ فَجَلَسَ، فَتَوَرَّکَ إِحْدَی قَدَمَیْہِ وَنَصَبَ قَدَمَہُ الأُخْرَی، ثُمَّ کَبَّرَ وَسَجَدَ، ثُمَّ کَبَّرَ یَعْنِی فَقَامَ وَلَمْ یَتَوَرَّکْ، ثُمَّ عَادَ فَرَکَعَ الرَّکْعَۃَ الأُخْرَی کَذَلِکَ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّکْعَتَیْنِ حَتَّی إِذَا أَرَادَ أَنْ یَنْہَضَ لِلْقِیَامِ قَامَ بِتَکْبِیرٍ، ثُمَّ رَکَعَ الرَّکْعَتَیْنِ الأُخْرَیَیْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ یَمِینِہِ: السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ۔ وَسَلَّمَ عَنْ شِمَالِہِ أَیْضًا: السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ۔ قَالَ وَحَدَّثَنِی عِیسَی: أَنَّ مِمَّا حَدَّثَہُ أَیْضًا فِی الْجُلُوسِ فِی التَّشَہُّدِ: أَنْ یَضَعَ الْیُسْرَی عَلَی فَخِذِہِ الْیُسْرَی، وَیَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنَی عَلَی فَخِذِہِ الْیُمْنَی، ثُمَّ یُشِیرُ بِالدُّعَائِ بِأَصْبُعٍ وَاحِدَۃٍ۔
ہَکَذَا رَوَاہُ غَیْرُ وَاحِدٍ عَنْ أَبِی بَدْرٍ وَرَوَاہُ بَعْضُہُمْ عَنْ أَبِی بَدْرٍ فَقَالَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَہْلٍ السَّاعِدِیِّ، وَرَوَی عُتْبَۃُ بْنُ أَبِی حَکِیمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عِیسَی عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَہْلٍ عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ وَلَمْ یَذْکُرْ مُحَمَّدًا فِی إِسْنَادِہِ، وَالصَّحِیحُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ قَدْ شَہِدَہُ مِنْ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ۔ © [صحیح۔ اخرجہ الشافعی ۱۶۶]
(ا) عباس بن سہل ساعدی سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے، وہاں ان کے والد بھی تشریف فرما تھے جنہیں صحابیٔ رسول ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس مجلس میں ابوہریرہ، ابو اسید اور ابو حمید ساعدی انصاری (رض) بھی موجود تھے۔ انھوں نے نماز کے بارے میں مذاکرہ کیا تو ابوحمید کہنے لگے: میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کو تم سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔ انھوں نے کہا: وہ کیسے؟ ابو حمید کہنے لگے: میں نے یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سیکھی ہے۔ وہ کہنے لگے: تو ہمیں پڑھ کے دکھاؤ! چنانچہ آپ (رض) کھڑے ہو گئے اور لوگ ان کی طرف دیکھنے لگے۔ انھوں نے نماز شروع کر دی۔ تکبیر کہی تو اپنے ہاتھ کندھوں تک اٹھائے، پھر رکوع کے لیے تکبیر کہی تو اسی طرح دونوں ہاتھ اٹھائے (رفع یدین کیا)۔ پھر اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر جما لیا۔ آپ کا سر نہ زیادہ نیچے تھا اور نہ ہی زیادہ اوپر، بلکہ آپ کی کمر برابر تھی۔ پھر آپ (رض) نے سر اٹھاتے ہوئے کہا: «سمع الله لمن حمده»، «اللهم ربنا لك الحمد»، پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا (رفع یدین کیا)، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا اپنی ہتھیلیوں، گھٹنوں اور پاؤں کے سامنے والے حصے جما کر رکھا اور آپ سجدے کی حالت میں تھے، پھر تکبیر کہہ کر بیٹھ گئے۔ پھر ایک بائیں پاؤں کو بچھایا اور دائیں پاؤں کو کھڑا کیا، پھر تکبیر کہی اور دوبارہ سجدہ کیا۔ پھر تکبیر کہہ کر سیدھے کھڑے ہوگئے اور رکے نہیں۔ پھر اسی طرح دوسری رکعت مکمل کی۔ پھر دو رکعتوں کے بعد بیٹھے۔ جب انھوں نے قیام کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا تو تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہوئے، پھر دوسری دو رکعتیں ادا کیں، پھر دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے «السلام عليكم ورحمة الله» کہتے۔ (ب) ایک دوسری روایت میں تشہد میں بیٹھنے کا بھی ذکر ہے کہ آپ نے بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر اور دائیں ہاتھ کو داہنے ران پر رکھا، پھر دعا کے ساتھ (شہادت والی) انگلی سے اشارہ کیا۔
تخریج الحدیث: صحیح
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر: 2691
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَامِدٍ التِّرْمِذِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جِبَالٍ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ التِّرْمِذِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِیِّ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ: لأَنْظُرَنَّ کَیْفَ یُصَلِّی؟ قَالَ: فَقَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی کَانَتَا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ، فَلَمَّا رَکَعَ وَضَعَ یَدَیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی کَانَتَا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ وَجْہَہُ بَیْنِ یَدَیْہِ بِذَلِکَ الْمَکَانِ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ کَذَا قَالَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ عَنْ عَاصِمٍ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ۔
وَوَافَقَہُ عَلَی ذَلِکَ فِی رَفْعِ الْیَدَیْنِ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ۔ وَقَالَ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَغَیْرُہُ عَنْ عَاصِمٍ حَذْوَ أُذُنَیْہِ وَقَالَ: فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ رَأْسَہُ بِذَلِکَ الْمَنْزِلِ مِنْ یَدَیْہِ۔
(ا) سیدنا وائل بن حجرحضرمی (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے دل میں ارادہ کیا کہ میں دیکھوں گا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیسے نماز پڑھتے ہیں؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھائے۔ پھر رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا، پھر جب رکوع سے سر اٹھایا تو بھی اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھائے۔ پھر جب سجدہ کیا تو اپنے چہرے کو اپنے سامنے رکھا، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اسی طرح عبدالواحد بن زیاد عاصم سے روایت کرتے ہیں، یعنی کندھوں کے برابر تک ہاتھ اٹھائے۔
[ضعیف۔ بہذا اللفظ۔ ولکن معناہ ثابت صحیح عند مسلم ]
(ب) رفع یدین میں اس کی موافقت سفیان بن عیینہ نے بھی کی ہے اور بشر بن مغفل وغیرہ عاصم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اپنے ہاتھ کانوں کے برابر اٹھائے اور جب آپ نے سجدہ کیا تو اپنا سر اپنے ہاتھوں کے درمیان رکھا۔
تخریج الحدیث: صحیح
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر: 2784
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو سَعِیدٍ: أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ الثَّقَفِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ فَکَبَّرَ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی حَاذَی بِہِمَا أُذُنَیْہِ، وَأَخَذَ شِمَالَہُ بِیَمِینِہِ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ رَفَعَ یَدَیْہِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ رَفَعَ یَدَیْہِ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ یَدَیْہِ فَسَجَدَ بَیْنَہُمَا قَالَ ثُمَّ جَلَسَ فَوَضَعَ یَدَہُ الْیُسْرَی عَلَی فَخِذِہِ الْیُسْرَی، وَمِرْفَقَہُ الْیُمْنَی عَلَی فَخِذِہِ الْیُمْنَی، ثُمَّ عَقَدَ الْخِنْصَرَ وَالْبِنْصَرَ، ثُمَّ حَلَّقَ الْوُسْطَی بِالإِبْہَامِ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَۃِ۔ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ۔
وَنَحْنُ نُجِیزُہُ وَنَخَتَارُ مَا رُوِّینَا فِی حَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ ثُمَّ مَا رُوِّینَا فِی حَدِیثِ ابْنِ الزُّبَیْرِ لِثُبُوتِ خَبَرِہِمَا وَقُوَّۃِ إِسْنَادِہِ وَمَزِیَّۃِ رِجَالِہِ وَرَجَاحَتِہِمْ فِی الْفَضْلِ عَلَی عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
© [حسن۔ اخرجہ ابوداود (من سند آخر) ۷۲۶]
(ا) وائل بن حجر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے تکبیر کہی اور کانوں کے برابر ہاتھوں کو اٹھایا، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں کو پکڑا، پھر جب رکوع کرنا چاہا تو دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر جب رکوع سے سر اٹھایا تو دونوں ہاتھوں کو اٹھایا۔ پھر جب سجدہ کیا تو دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھا اور ان کے درمیان سجدہ کیا۔ پھر بیٹھے تو اپنے بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر اور دائیں کہنی کو دائیں ران پر رکھا۔ پھر خنصر (چھوٹی انگلی) اور بنصر (ساتھ والی) کی گرہ لگائی اور وسطیٰ اور ابہام (انگوٹھے) کا حلقہ بنایا اور سبابہ (شہادت والی انگلی) کے ساتھ اشارہ فرمایا۔ (اس کے ہم معنی روایت جماعت نے عاصم بن کلیب سے روایت کی ہے)
تخریج الحدیث: حسن
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر: 2814
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ یُوسُفَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ عِیسَی بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا دَخَلَ فِی الصَّلاَۃِ کَبَّرَ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ وَإِذَا رَکَعَ رَفَعَ یَدَیْہِ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَفَعَ یَدَیْہِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ رَفَعَ یَدَیْہِ۔ وَرَفَعَ ذَلِکَ ابْنُ عُمَرَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ-۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَیَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی۔ وَعَبْدُ الأَعْلَی یَنْفَرِدُ بِرَفْعِہِ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ ثِقَۃٌ۔ وَقَدْ رُوِیَ ذَلِکَ فِی حَدِیثِ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ۔ © [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۳۹]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ عِیسَی بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا دَخَلَ فِی الصَّلاَۃِ کَبَّرَ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ وَإِذَا رَکَعَ رَفَعَ یَدَیْہِ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَفَعَ یَدَیْہِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ رَفَعَ یَدَیْہِ۔ وَرَفَعَ ذَلِکَ ابْنُ عُمَرَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ-۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَیَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی۔ وَعَبْدُ الأَعْلَی یَنْفَرِدُ بِرَفْعِہِ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ ثِقَۃٌ۔ وَقَدْ رُوِیَ ذَلِکَ فِی حَدِیثِ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ۔ © [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۳۹]
نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) جب نماز شروع کرتے تھے تو تکبیر کہتے اور ہاتھوں کو اٹھاتے اور جب رکوع کرتے تو بھی رفع یدین کرتے اور جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تو بھی رفع یدین کرتے اور جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو بھی رفع یدین کرتے اور ابن عمر (رض) نے اس حدیث کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک مرفوع بیان کیا ہے۔
تخریج الحدیث: صحیح
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر: 2815
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حُمَیْدٍ یَقُولُ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ، ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی یُحَاذِیَ بِہِمَا مَنْکِبَیْہِ، ثُمَّ یَقُولُ: ((اللَّہُ أَکْبَرُ))۔ وَإِذَا رَکَعَ کَبَّرَ حِینَ یَرْکَعُ، وَیَرْفَعُ یَدَیْہِ ثُمَّ عَدَلَ صُلْبَہُ، فَلَمْ یُصَوِّبْہُ وَلَمْ یُقْنِعْہُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ))۔ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی یُحَاذِیَ بِہِمَا مَنْکِبَیْہِ، ثُمَّ اعْتَدَلَ حَتَّی جَائَ کُلُّ عُضْوٍ إِلَی مَوْضِعِہِ مُعْتَدِلاً، ثُمَّ یَفْعَلُ فِی الرَّکْعَۃِ الأُخْرَی مِثْلَ ذَلِکَ، حَتَّی إِذَا قَامَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ کَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ کَمَا صَنَعَ فِی ابْتِدَائِ الصَّلاَۃِ حَتَّی إِذَا کَانَتِ السَّجْدَۃُ الَّتِی تَکُونُ حِلَّۃَ الصَّلاَۃِ رَفَعَ رَأْسَہُ فِیہَا، وَقَعَدَ مُتَوَرِّکًا۔ © [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۷۳۰]
محمد بن عمرو بن عطا فرماتے ہیں کہ میں نے ابو حمید (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قبلہ رخ ہو کر دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھاتے۔ پھر «الله اكبر» کہتے اور جب رکوع کرتے تو بھی تکبیر کہتے اور رفع یدین کرتے، پھر اپنی پیٹھ کو برابر کرلیتے اور سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ ہی زیادہ اونچا کرتے۔ پھر سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده» کہتے۔ پھر اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھاتے، پھر سیدھے کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ برابر ہوجاتا، پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے حتیٰ کہ جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور ہاتھوں کو اسی طرح اٹھاتے جس طرح نماز کے شروع میں آپ نے اٹھائے تھے حتیٰ کہ جب آخری رکعت کے آخری سجدے میں ہوتے جس میں سلام پھیرنا ہوتا تو سجدے سے سر اٹھا کر تورک کرتے ہوئے بیٹھ جاتے یعنی دایاں پاؤں کھڑا کرتے بائیں پاؤں کو دائیں ٹانگ کے نیچے سے دائیں طرف نکال دیتے۔
تخریج الحدیث: صحیح
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر: 2816
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَیْدٍ السَّاعِدِیَّ فِی عَشَرَۃٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِیہِمْ أَبُو قَتَادَۃَ: الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِیٍّ، فَقَالَ أَبُو حُمَیْدٍ: أَنَا أَعْلَمُکُمْ بِصَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَذَکَرَ فِیہِ: رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی یُحَاذِیَ بِہِمَا مَنْکِبَیْہِ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ، وَعِنْدَ الرُّکُوعِ، وَعِنْدَ رَفْعِ الرَّأْسِ مِنْہُ - قَالَ - ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ کَبَّرَ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی یُحَاذِیَ بِہِمَا مَنْکِبَیْہِ کَمَا فَعَلَ إِذْ کَبَّرَ عِنْدَ افْتَتَاحِ الصَّلاَۃِ، ثُمَّ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِکَ فِی بَقِیَّۃِ صَلاَتِہِ۔ وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- © [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
محمد بن عمرو بن عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے ابو حمید ساعدی (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دس صحابہ میں بیٹھے ہوئے سنا، ان میں ابوقتادہ حارث بن ربعی (رض) بھی تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کے متعلق میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھاتے جب نماز شروع کرتے، رکوع کرتے یا رکوع سے اٹھتے۔ پھر جب دو رکعتوں کے بعد اٹھتے تو تکبیر کہتے اور دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے جیسے نماز کے شروع میں تکبیر کے ساتھ اٹھاتے تھے۔ پھر اسی طرح اپنی بقیہ نماز میں کرتے۔
تخریج الحدیث: صحیح
سنن الکبری ٰ للبیھقی، حدیث نمبر2817:
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ: عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْہَاشِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْفَضْلِ الْہَاشِمِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ کَبَّرَ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ، وَیَصْنَعُہُ إِذَا قَضَی قِرَائَ تَہُ، وَأَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِکَ، وَلاَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی شَیْئٍ مِنْ صَلاَتِہِ وَہُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَیْنِ کَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ کَذَلِکَ۔ © [صحیح۔ اخرجہ ابن خزیمہ ۵۸۴]
حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور جب قراءت مکمل کرتے اور رکوع کا ارادہ کرتے تو بھی ایسا کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی اس طرح کرتے اور قعدہ کی حالت میں رفع یدین نہیں کرتے تھے اور جب دو سجدوں سے اٹھتے تو تکبیر کہتے اور اسی طرح رفع یدین کرتے تھے۔
تخریج الحدیث: صحیح
مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر: 2517
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَكُونَا حِذْوَ مِنْكَبَيْهِ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ رَفَعَهُمَا وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ»
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے ہوئے رفع یدین کرتے تھے، یہاں تک کہ انہیں دونوں کندھوں تک، یا اُن کے قریب تک بلند کرتے تھے، جب رکوع کے بعد اپنا سر اُٹھاتے تھے، تو بھی رفع یدین کرتے تھے، سجدوں کے درمیان آپ ایسا نہیں کرتے تھے۔
مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر: 2518
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حِذْوَ مِنْكَبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا يَفْعَلُهُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ»
سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ اپنے کندھوں کے برابر تک آ جاتے تھے، پھر آپ تکبیر کہتے تھے، جب آپ رکوع میں جانے کا ارادہ کرتے تھے، تو بھی ایسا ہی کرتے تھے، جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے، تو بھی ایسا ہی کرتے تھے لیکن جب آپ سجدہ سے سر اٹھاتے تھے، تو ایسا نہیں کرتے تھے۔
مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر: 2519
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ «إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَا حِذْوَ مِنْكَبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَهُمَا، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ رَفَعَهُمَا، وَإِذَا قَامَ مِنْ مَثْنَى رَفَعَهُمَا، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ» قَالَ: ثُمَّ يُخْبِرُهُمْ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَ هَذَا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَا حِذْوَ أُذُنَيْهِ
سالم بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ اُن کے کندھوں کے مقابل تک آ جاتے تھے، جب وہ رکوع میں جاتے تھے، پھر ان دونوں کو بلند کرتے تھے، جب رکوع سے سر اُٹھاتے تھے، پھر ان دونوں کو بلند کرتے تھے، جب دو رکعات کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو ان دونوں کو بلند کرتے تھے، وہ سجدوں کے درمیان ایسا نہیں کرتے تھے۔ وہ یہ بتاتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اُس میں یہ الفاظ ہیں: وہ دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ دونوں کانوں کے مقابل تک آ جاتے تھے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اُس میں یہ الفاظ ہیں: وہ دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ دونوں کانوں کے مقابل تک آ جاتے تھے۔
مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر: 2520
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ:" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكَبِّرُ بِيَدَيْهِ حِينَ يَسْتَفْتِحُ، وَحِينَ يَرْكَعُ، وَحِينَ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَحِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، وَحِينَ يَسْتَوِي قَائِمًا مِنْ مَثْنَى" قَالَ: «وَلَمْ يَكُنْ يُكَبِّرُ بِيَدَيْهِ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ». قُلْتُ لِنَافِعٍ: أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَجْعَلُ الْأُولَى مِنْهُنَّ أَرْفَعَهُنَّ؟ قَالَ: «لَا، سَوَاءً»، قُلْتُ: أَكَانَ يُخْلِفُ بِشَيْءٍ مِنْهُنَّ أُذُنَيْهِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَا يَبْلُغُ وَجْهَهُ»، فَأَشَارَ لِي إِلَى الثَّدْيَيْنِ أَوْ أَسْفَلَ مِنْهُمَا
نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نماز کے آغاز میں تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے اور جب رکوع میں جاتے تھے، اُس وقت کرتے تھے اور اُس وقت کرتے تھے، جب «سمع الله لمن حمده» پڑھتے تھے، اور اُس وقت کرتے تھے، جب رکوع سے سر اُٹھاتے تھے اور اُس وقت کرتے تھے، جب دو رکعات ادا کرکے کھڑے ہوتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ دو سجدوں کے بعد سر کو اُٹھاتے ہوئے، دونوں ہاتھوں کے ذریعہ تکبیر نہیں کہتے تھے (یعنی رفع یدین نہیں کرتے تھے)۔
میں نے نافع سے دریافت کیا: کیا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلی مرتبہ میں انہیں زیادہ اُتھاتے تھے؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! برابر رکھتے تھے۔ میں نے دریافت کیا: کیا وہ ان میں سے کسی مرتبہ میں کانوں تک بھی ہاتھ اُتھاتے تھے؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! وہ چہرے تک نہیں لے جاتے تھے، پھر اُنہوں نے سینہ تک یا اس سے کچھ نیچے تک اشارہ کرکے دکھایا۔
میں نے نافع سے دریافت کیا: کیا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلی مرتبہ میں انہیں زیادہ اُتھاتے تھے؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! برابر رکھتے تھے۔ میں نے دریافت کیا: کیا وہ ان میں سے کسی مرتبہ میں کانوں تک بھی ہاتھ اُتھاتے تھے؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! وہ چہرے تک نہیں لے جاتے تھے، پھر اُنہوں نے سینہ تک یا اس سے کچھ نیچے تک اشارہ کرکے دکھایا۔
مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر: 2521
عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى يَكُونَا حِذْوَ أُذُنَيْهِ
قتادہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں جاتے تھے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے، تو دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ آپ کے کانوں تک آ جاتے تھَے۔
مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر: 2522
عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ:" رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ حِينَ كَبَّرَ، ثُمَّ حِينَ كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ" قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَذِرَاعَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ أَشَارَ بِسَبَّابَتِهِ، وَوَضَعَ الْإِبْهَامَ عَلَى الْوُسْطَى حَلَّقَ بِهَا، وَقَبَضَ سَائِرَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَتْ يَدَاهُ حِذْوَ أُذُنَيْهِ
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا جائزہ لیا، تو آپ نے نماز میں تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند کیے، پھر جب آپ نے تکبیر کہی، تو دونوں ہاتھ بلند کیے، پھر آپ نے «سمع الله لمن حمده» پڑھا، تو دونوں ہاتھ بلند کیے، پھر جب آپ بیٹھ گئے، تو آپ نے اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا لیا اور اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعہ اشارہ کیا، آپ نے اپنے انگوٹھے کو اپنی درمیانی انگلی پر رکھ کر اس کے ذریعہ حلقہ بنایا اور باقی تمام انگلیوں کو بند کر لیا، پھر آپ سجدہ میں گئے تو آپ کے دونوں ہاتھ دونوں کانوں کے برابر تھے۔
مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر: 2523
عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حَمْزَةَ، مَوْلَى بَنِي أَسَدٍ قَالَ: «رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ»
ابوحمزہ، جو بنو اسد کے غلام ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے نماز کے آغاز میں رفع یدین کیا، جب رکوع میں گئے اس وقت کیا اور رکوع سے سر اٹھایا اس وقت کیا۔
مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر: 2524
عَنْ دَاوُدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «رَأَيْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حِذْوَ أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ»
داؤد بن ابراہیم بیان کرتے ہیں: میں نے وہب بن منبہ کو دیکھا کہ جب انہوں نے نماز کے آغاز میں تکبیر کہی تو دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ وہ کانوں کے برابر تک ہو گئے، پھر جب وہ رکوع میں گئے اور جب رکوع سے سر اٹھایا اس وقت بھی انہوں نے رفع یدین کیا۔