فہم دین پروگرام
اثبات رفع یدین کی 245 احادیث
مسند احمد، حدیث نمبر: 18848
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْيَحْصُبِيِّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيّ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ التَّكْبِيرِ.
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکبیر کے ساتھ ہی رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الجهالة حال عبدالرحمن بن اليحصبي

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 18849
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ حَتَّى حَاذَتْ إِبْهَامُهُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ".
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکبیر کے ساتھ ہی رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے، یہاں تک کہ انگوٹھے کانوں کی لو کے برابر ہوجاتے۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عبدالجبار بن وائل لم يسمع من أبيه

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 18850
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: لَأََنْظُرَنَّ كَيْفَ يُصَلِّي، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَكَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، قَالَ: فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ مِنْ وَجْهِهِ بِذَلِكَ الْمَوْضِعِ، فَلَمَّا قَعَدَ افْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى، عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ حَدَّ مِرْفَقِهِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَعَقَدَ ثَلَاثِينَ , وَحَلَّقَ وَاحِدَةً , وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ.
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو سوچا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے ہیں چناچہ نبی کریم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے توبائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 18852
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، حَدَّثَنِي أَهْلُ بَيْتِي، عَنْ أَبِي:" أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ التَّكْبِيرَةِ، وَيَضَعُ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ فِي الصَّلَاَةِ".
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکبیر کے ساتھ ہی رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے اور نماز کے دوران اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے دیکھا۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 18853
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْيَحْصُبِيِّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيّ:" أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا خَفَضَ وَإِذَا رَفَعَ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ، وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ". قَالَ شُعْبَةُ: قَالَ لِي أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ تَغْلِبَ فِي الْحَدِيثِ: حَتَّى يَبْدُوَ وَضَحُ وَجْهِهِ، فَقُلْتُ: لِعَمْرٍو أَفِي الْحَدِيثِ حَتَّى يَبْدُوَ وَضَحُ وَجْهِهِ؟ فَقَالَ عَمْرٌو: أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ.
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مرتبہ جھکتے اور اٹھتے ہوئے تکبیر کہتے تھے اور تکبیر کہتے وقت رفع یدین کرتے تھے اور دائیں بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے تھے۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن اليحصبي

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 18855
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَ حِينَ دَخَلَ، وَرَفَعَ يَدَيهُ، وَحِينَ أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ، وَجَافَى وَفَرَشَ فَخِذَهُ الْيُسْرَى مِنَ الْيُمْنَى، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ"..
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا، جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 18858
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ كَبَّرَ يَعْنِي اسْتَفْتَحَ الصَّلَاََةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ رَكَعَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" وَسَجَدَ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ جَلَسَ، فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ أَشَارَ بِسَبَّابَتِهِ، وَوَضَعَ الَإبْهَامَ عَلَى الْوُسْطَى، وَقَبَضَ سَائِرَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَتْ يَدَاهُ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ".
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا، جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے توبائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا: پھر دوسرا سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سجدے کی حالت میں کانوں کے برابر تھے۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 401

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 18861
حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لِي مِنْ وَجْهِهِ مَا لَاَ أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِ مِنْ وَجْهِ رَجُلٍ مِنْ بَادِيَةِ الْعَرَبِ صَلَّيْتُ خَلْفَهُ، وَكَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا كَبَّرَ وَرَفَعَ وَوَضَعَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ".
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا مجھے ان کے رخ انور کی زیارت کے بدلے میں کوئی چیز محبوب نہ تھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مرتبہ جھکتے اور اٹھتے ہوئے تکبیر کہتے تھے اور تکبیر کہتے وقت رفع یدین کرتے تھے اور دائیں بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے تھے۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح دون رفع اليدين عند السجود، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، عبدالجبار لم يسمع من أبيه، ولضعف أشعث بن سوار

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 18866
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، وَمَوْلًى لهم أنهما حدثاه، عن أبيه وائل بن حجر:" أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ كَبَّرَ وَصَفَ هَمَّامٌ: حِيَالَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ، ثُمَّ رَفَعَهُمَا، فَكَبَّر، فَرَكَعَ، فَلَمَّا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ".
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے، پھر اپنے کپڑے میں لپیٹ کر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیاجب رکوع کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھ باہر نکال کر پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا، جب رکوع سے سر اٹھایا اور «سمع الله لمن حمده» کہا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنی ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 401

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 18870
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ أخْبَرَهُ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، قَالَ:" فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، قَامَ، فَكَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ، ثُمَّ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ سَجَدَ، فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَعَدَ، فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، فَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الأَْيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَه، فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا، ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمْ الثِّيَابُ تُحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ مِنَ الْبَرْدِ".
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو سوچا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے ہیں چناچہ نبی کریم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے توبائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا: کچھ عرصے بعد میں دوبارہ آیا تو وہ سردی کا موسم تھا میں نے دیکھا کہ لوگوں نے چادریں اوڑھ رکھی ہیں اور سردی کی وجہ سے وہ اپنے ہاتھوں کو چادروں کے نیچے سے ہی حرکت دے رہے ہیں۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: فرأيته يحركها يدعو بها فهو شاذ، انفرد به زائدة

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 18871
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ حِينَ رَكَعَ، ثُمَّ حِينَ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" رَفَعَ يَدَيْهِ، وَرَأَيْتُهُ مُمْسِكًا يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاَةِ، فَلَمَّا جَلَسَ حَلَّقَ بِالْوُسْطَى وَالَإِِبْهَامِ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى".
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو سوچا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے ہیں چناچہ نبی کریم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنا لیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔
حكم دارالسلام: إسناده قوي

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 18876
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قُلْتُ:" لَأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ: حِينَ أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ سَجَدَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَعَدَ، فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى فَخِذِهِ فِي صِفَةِ عَاصِمٍ ثُمَّ وَضَعَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الأْيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ ثَلاثًين، وَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا، وَأَشَارَ زُهَيْرٌ بِسَبَّابَتِهِ الَأُولَى، وَقَبَضَ إِصْبَعَيْنِ، وَحَلَّقَ الَإِبْهَامَ عَلَى السَّبَّابَةِ الثَّانِيَةِ. قَالَ زُهَيْرٌ: قَالَ عَاصِمٌ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ أَنَّ وَائِلًَا، قَالَ: أَتَيْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى وَعَلَى النَّاسِ ثِيَابٌ فِيهَا الْبَرَانِسُ وَفِيهَا الْأَكْسِيَةُ، فَرَأَيْتُهُمْ يَقُولُونَ هَكَذَا تَحْتَ الثِّيَابِ.
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو سوچا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے ہیں چناچہ نبی کریم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ حضرت وائل سے مروی ہے کہ میں ایک مرتبہ پھر موسم سرما میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو اپنی چادروں کے اندر ہی سے اٹھا رہے تھے۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 18877
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ:" أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى، فَكَبَّرَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ، رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَخَوَّى فِي رُكُوعِهِ، وَخَوَّى فِي سُجُودِهِ، فَلَمَّا قَعَدَ يَتَشَهَّدُ وَضَعَ فَخِذَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ، وَحَلَّقَ بِالْوُسْطَى"..
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو سوچا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے ہیں چناچہ نبی کریم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 20535
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، وَأَبُو عَامِرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ".
حضرت مالک بن حویرث سے ارشاد فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں رکوع کرتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو کے برابر کر لیتے تھے۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 737، م: 391

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 20536
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرثِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، حَتَّى حَاذَتَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
حضرت مالک بن حویرث سے ارشاد فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں رکوع کرتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے یہاں تک کہ آپ اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو کے برابر کر لیتے تھے۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 737، م: 391

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 20537
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِيَالَ فُرُوعِ أُذُنَيْهِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ".
حضرت مالک بن حویرث سے روایت ہے کہ آپ رکوع سجدہ کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو کے برابر کر لیتے تھے۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح لكن دون ذكر السجود فيه، فهذا الحرف شاذ

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 23599
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُهُ وَهُوَ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ، يَقُولُ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لَهُ: مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا صُحْبَةً، وَلَا أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَاعَةً! قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: كَانَ" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اعْتَدَلَ قَائِمًا، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَى بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ" فَرَكَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ فَلَمْ يَصُبَّ رَأْسَهُ وَلَمْ يَقْنَعْهُ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" ثُمَّ رَفَعَ وَاعْتَدَلَ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ هَوَى سَاجِدًا، وَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ" ثُمَّ جَافَى وَفَتَحَ عَضُدَيْهِ عَنْ بَطْنِهِ، وَفَتَحَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَيْهَا، وَاعْتَدَلَ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ، ثُمَّ هَوَى سَاجِدًا، وَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ" ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ وَقَعَدَ عَلَيْهَا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عُضْوٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ نَهَضَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ صَنَعَ كَذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ الرَّكْعَةُ الَّتِي تَنْقَضِي فِيهَا الصَّلَاةُ، أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَقَعَدَ عَلَى شِقِّهِ مُتَوَرِّكًا، ثُمَّ سَلَّمَ.
حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں" جن میں حضرت ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ شامل تھے" یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز آپ سب لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان سے فرمایا کہ آپ ہم سے زیادہ قدیم صحبت نہیں رکھتے اور نہ ہی ہم سے زیادہ ان کے ساتھ رہے انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے اپنے ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے جب رکوع کرنا چاہتے تو کندھوں تک ہاتھ بلند کر کے رفع الیدین کرتے تھے پھر «الله اكبر» کہہ کر رکوع کرتے اور اعتدال کے ساتھ رکوع کرتے نہ سر زیادہ جھکاتے اور نہ زیادہ اونچا رکھتے اور اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے اور سر اٹھا کر اعتدال کے ساتھ کھڑے ہو جاتے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ قائم ہوجاتی۔ پھر «الله اكبر» کہتے ہوئے سجدے میں گر جاتے اپنے بازوؤں کو جدا اور کھلا رکھتے تھے پیٹ سے لگنے نہیں دیتے تھے اپنے پاؤں کی انگلیاں کشادہ رکھتے پھر بائیں پاؤں کو موڑ کر اس پر بیٹھ جاتے اور اس طرح اعتدال کے ساتھ بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنی اپنی جگہ قائم ہو جاتی پھر «الله اكبر» کہتے ہوئے دوسرا سجدہ کرتے پھر باؤں پاؤں موڑ کر بیٹھ جاتے اور اس طرح اعتدال کے ساتھ بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنی اپنی جگہ قائم ہو جاتی پھر کھڑے ہو کر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے تھے حتیٰ کہ جب آخری رکعت آتی جس میں نماز ختم ہو جاتی ہے تو اپنے بائیں پاؤں کو پیچھے رکھ کر اپنے ایک پہلو پر سرین کے بل بیٹھ جاتے اور پھر اختتام پر سلام پھیر دیتے۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 828

Reference: View
صحیح ابن حبان، حدیث نمبر: 1861
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا، وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ" وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تھے تو دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے۔ جب آپ رکوع میں جانے کیلئے تکبیر کہتے تھے اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تھے تو انہیں اس طرح سے بلند کرتے تھے اور آپ یہ کہتے تھے:
"اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو چن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے لیے مخصوص ہے"۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں میں (یعنی دو سجدوں کے درمیان) ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن حبان، حدیث نمبر1862
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: كُنْتُ غُلامًا لا أَعْقِلُ صَلاةَ أَبِي، فَحَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَكَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّفِّ رَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ، ثُمَّ الْتَحَفَ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي ثَوْبِهِ، فَأَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، أَخْرَجَ يَدَيْهِ، وَرَفَعَهُمَا، وَكَبَّرَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، رَفَعَ يَدَيْهِ، فَكَبَّرَ، فَسَجَدَ، ثُمَّ وَضَعَ وَجْهَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ". قَالَ ابْنُ جُحَادَةَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، فَقَالَ: هِيَ صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَهُ مَنْ فَعَلَهُ، وَتَرَكَهُ مَنْ تَرَكَهُ. (توضيح مصنف) قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ مِنَ الثِّقَاتِ الْمُتْقِنِينَ وَأَهْلُ الْفَضْلِ فِي الدِّينِ، إِلا أَنَّهُ وَهِمَ فِي اسْمِ هَذَا الرَّجُلِ، إِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ، فَقَالَ: وَائِلُ بْنُ عَلْقَمَةَ، وَإِنَّمَا هُوَ عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی جب آپ صف میں داخل ہوئے (یعنی نماز پڑھنا شروع کی) تو آپ نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور تکبیر کہی۔ آپ نے التحاف کے طور پر کپڑا لپیٹا تھا۔ آپ نے تھوڑا سا اپنا ہاتھ کپڑے کے اندر داخل کر لیا اور دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا۔ پھر آپ نے جب رکوع میں جانے کا ارادہ کیا، تو دونوں ہاتھ باہر نکال لیے اور ان کو بلند کیا اور تکبیر کہی پھر آپ رکوع میں چلے گئے۔ جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو آپ نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے گئے۔ پھر آپ نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھا۔ ابن حجادہ نامی راوی بیان کرتے ہیں۔ میں نے اس بات کا تزکرہ حسن بن ابوالحسن سے کیا، تو وہ بولے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے جس نے ایسا کرنا تھا اس نے ایسا کیا جس نے اس کو چھوڑنا تھا اس نے اسے چھوڑ دیا۔ امام ابو حاتم رحمہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: محمد بن جحادہ نامی راوی ثقہ اور متقن راویوں میں سے ایک ہیں۔ یہ دین راری کے حوالے سے اہلِ فضل ہیں تاہم اس راوی نام کے بارے میں انہیں وہم ہوا، کیونکہ گھوڑا ٹھوکر کھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ وائل بن علقمہ ہے، حالانکہ وہ علقمہ بن وائل ہے۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن حبان، حدیث نمبر: 1864
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ"
سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نے نماز کا آغاز کیا، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر لیے یہاں تک کہ انہیں دونوں کندھوں کے برابر لے آئے۔ جب آپ نے رکوع میں جانے کا ارادہ کیا، اور بعد میں آپ نے رکوع سے سر اٹھایا (تو بھی رفع یدین) کیا۔ آپ نے سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کیا۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن حبان، حدیث نمبر: 1865
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَزَارِيُّ، بِسَارِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلاسُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ:" أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالُوا: مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً، وَلا أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً! قَالَ: بَلَى. قَالُوا: فَاعْرِضْ. قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ، اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا رَكَعَ، كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ رَكَعَ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فِي صُلْبِهِ وَلَمْ يَنْصِبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقَنِّعْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ اعْتَدَلَ، ثُمَّ سَجَدَ وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَقَعَدَ وَاعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، كَبَّرَ، ثُمَّ قَامَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي تَنْقَضِي فِيهَا أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَى رِجْلِهِ مُتَوَرِّكًا، ثُمَّ سَلَّمَ"
محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابو حمید رضی اللہ عنہ کو دس صحابہ کرام، جن میں اسے ایک حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کی موجودگی میں یہ کہتے ہوئے سنا: میں تم سب کے مقابلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہوں۔ لوگوں نے دریافت کیا آپ نہ تو پرانے صحابی ہیں اور نہ ہم سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہیں۔ حضرت ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا ایسا ہی ہے۔ دیگر صحابہ کرام نے فرمایا: پھر آپ پیش کیجئے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا کرتے تھے) تو حضرت ابو حمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے تھے، تو آپ قبلہ کی طرف رخ کرتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے۔ یہاں تک کہ انہیں کندھوں تک اٹھا لیتے تھے۔ پھر آپ اللہ اکبر کہتے پھر آپ جب رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے۔ پھر آپ اپنی پشت کو سیدھا کر لیتے اور سر کو اٹھاتے نہیں تھے اور بالکل جھکاتے بھی نہیں تھے۔ پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے (یعنی رکوع سے اٹھتے تھے) اور یہ کہتے تھے"اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی" پھر آپ اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے انہیں کندھوں کے برابر لے آتے تھے پھر آپ سیدھے کھڑے ہو جاتے تھے پھر آپ سجدے میں جاتے تھے اور اپنے پاؤں کی انگلیاں کے کنارے قبلہ کی طرف کر لیتے تھے پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے۔ اللہ اکبر کہتے تھے اور اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا لیتے تھے اور اس ٹانگ پر تورک کے طور پر بیٹھ جاتے تھے پھر سلام پھیر لیتے تھے۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن حبان، حدیث نمبر: 1868
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَهُمَا إِلَى مَنْكِبَيْهِ"
سالم اپنے والد کے حوالے سے یہ نقل کرتے ہیں: جب آپ نماز شروع کرتے تھے تو رفع یدین کرتے تھے۔ جب رکوع میں جاتے تھے رفع یدین کرتے تھے۔ جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تھے (یعنی جب رکوع سے کھڑے ہو جاتے تھے) تو رفع یدین کرتے تھے۔ جب آپ دو رکعت کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو بھی دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن حبان، حدیث نمبر: 1873
أَخْبَرَنَا شَبَّابُ بْنُ صَالِحٍ، بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ: أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ:" إِذَا صَلَّى كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، رَفَعَ يَدَيْهِ"، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ هَكَذَا.
ابو قلابہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو دیکھا، جب انہوں نے نماز ادا کی تو تکبیر کہی اور رفع یدین کیا جب انہوں نے رکوع میں جانے کا ارادہ کیا، تو رفع یدین کیا۔ جب رکوع سے سر اٹھایا، تو رفع یدین کیا۔ انہوں نے یہ بات بیان کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن حبان، حدیث نمبر: 1877
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ"
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: جب آپ نماز شروع کرتے تھے، تو آپ رفع یدین کرتے تھے، جب آپ رکوع میں جانے کا ارادہ کرتے تھے، جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے، جب دو رکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو آپ ان تمام مقامات پر دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کیا کرتے تھے۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن حبان، حدیث نمبر: 1945
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، وَهُمْ يَنْفُضُونَ أَيْدِيَهُمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ، فَقُلْتُ: لأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَكَبَّرَ حَتَّى افْتَتَحَ الصَّلاةَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ إِبْهَامَيْهِ قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، فَلَمَّا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ سَجَدَ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فِي الْمَوْضِعِ مِنْ وَجْهِهِ، فَلَمَّا جَلَسَ افْتَرَشَ قَدَمَيْهِ، وَوَضَعَ مِرْفَقَهُ الأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ خِنْصَرَهُ وَالَّتِي تَلِيهَا، وَجَمَعَ بَيْنَ إِبْهَامِهِ وَالْوُسْطَى، وَرَفَعَ الَّتِي تَلِيهَا يَدْعُو بِهَا"
عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ہم لوگ مدینہ منورہ آئے، تو لوگ اپنے ہاتھ اپنے کپڑوں (یعنی چادروں) کے اندر رکھے ہوئے تھے۔ میں نے سوچا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ضرور جائزہ لوں گا۔ روای بیان کرتے ہیں: آپ نے تکبیر کہی نماز کا آغاز کیا، اور رفع یدین کیا، یہاں تک کہ میں نے آپ کے انگوٹھوں کو آپ کے کانوں کے قریب دیکھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا جب آپ رکوع میں گئے، تو آپ نے رفع یدین کیا جب آپ نے اپنا سر اٹھایا، تو آپ نے «سمع الله لمن حمده» پڑھا پھر آپ نے تکبیر کہی اور رفع یدین کیا، پھر آپ سجدے میں چلے گئے۔ آپ نے اپنا سر دونوں ہاتھوں کے درمیان چہرے کے مد مقابل رکھا جب آپ بیٹھے تو آپ نے اپنے دونوں پاؤں کو بچھا لیا اور دائین کہنی کو دائیں زانو پر رکھا۔ آپ نے سب سے چھوٹی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی کو بند کیا۔ آپ نے انگوٹھے اور درمیانی انگلی کو اکٹھا کیا، اور اس کے ساتھ والی انگلی (یعنی شہادت کی انگلی) کو بلند کیا۔ آپ نے اس کے ہمراہ دعا پڑھی۔
تخریج الحدیث: صحیح