فہم دین پروگرام
اثبات رفع یدین کی 245 احادیث
صحیح ابن خزیمۃ، حدیث نمبر: 587
حَدَّثَنَا حَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَطَاءٍ، وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ نَسَبُهُ إِلَى جَدِّهِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اعْتَدَلَ قَائِمًا، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، وَقَالَ: ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ»، وَرَكَعَ، ثُمَّ اعْتَدَلَ وَلَمْ يَصُبَّ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَاعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ هَوَى إِلَى الْأَرْضِ سَاجِدًا، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ»، ثُمَّ تَجَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ إِبْطَيْهِ، وَفَتَحَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَيْهَا، ثُمَّ اعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ في مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ هَوَى سَاجِدًا، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ»، ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ وَقَعَدَ، وَاعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ، ثُمَّ نَهَضَ، ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ صَنَعَ كَذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي تَنْقَضِي فِيهَا الصَّلَاةُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وقَعَدَ عَلَى شِقِّهِ مُتَوَرِّكًا، ثُمَّ سَلَّمَ" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَطَاءٍ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ نا بِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَهَكَذَا قَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَطَاءٍ
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو بالکل سیدھے کھڑے ہوجاتے (پھرحدیث کا کچھ حصّہ بیان کیا) اور کہا کہ پھر آپ «الله اكبر» کہتے اور رُکوع کرتے پھر میانہ روی رُکوع کرتے تو اپنے سر کو نہ جُھکاتے اور نہ اُٹھاتے (بلکہ بالکل برابر رکھتے) اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے۔ پھر آپ «‏‏‏‏سمع الله لمن حمده» ‏‏‏‏ کہتے اور بالکل کھڑے ہو جاتے حتیٰ کہ ہڈی اپنی جگہ پر سیدھی ہو جاتی۔ پھر سجدے کے لئے زمین کی طرف جُھکتے پھر فرماتے «الله اكبر» ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں بازو اپنی بغلوں سے الگ کرتے اور اپنے دونوں پاؤں کی اُنگلیوں کو موڑ لیتے۔ پھر اپنے دائیں پاؤں کو موڑ کر اُس پر بیٹھ جاتے۔ پھر اعتدال کے ساتھ بیٹھ جاتے حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر سیدھی ہو جاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کے لئے جُھکتے پھر فرماتے «الله اكبر» ۔ پھر اپنی دونوں کہنیاں اپنی بغلوں سے علیحدہ کرتے اور اپنے پاؤں کی اُنگلیاں کھول کر رکھتے۔ پھر اپنے پاؤں کو موڑ کر بیٹھ جاتے اور اعتدال کے ساتھ بیٹھ جاتے حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ جاتی۔ پھر اُٹھتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔ حتیٰ کہ جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو «الله اكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے یہاں تک کہ اُن کو اپنے کندھوں کے برابر کرتے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کرتے وقت کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا حتیٰ کہ جب وہ رکعت آ گئی جس میں نماز مکمّل ہو جاتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں پاؤں کو پیچھے کیا اور تورک کرتے ہوئے اپنے پہلو پر بیٹھ گئے، پھر (تشہد کے بعد) سلام پھیرا۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن عطاء وہ محمد بن عمرو بن عطاء ہیں۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن خزیمۃ، حدیث نمبر: 589
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ السَّاعِدِيُّ قَالَ: اجْتَمَعَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: دَعُونِي أُحَدِّثُكُمْ وَأَنَا أَعْلَمُكُمْ بِهَذَا قَالُوا: فَحَدِّثْ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ دَخَلَ الصَّلَاةَ وَكَبَّرَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَالْقَابِضِ عَلَيْهَا فَلَمْ يَصُبَّ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْهُ، وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَاسْتَوَى قَائِمًا، حَتَّى عَادَ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ إِلَى مَوْضِعِهِ»، ثُمَّ ذَكَرَ بُنْدَارٌ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَالَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ: هَكَذَا كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: مَنْ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ، ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ - يَعْنِي إِذَا رَكَعَ - وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَصَلَاتُهُ نَاقِصَةٌ
حضرت عباس بن سہل الساعدی بیان کرتے ہیں کہ انصار کے کچھ افراد جمع ہوئے۔ اُن میں حضرت سہل بن سعد الساعدی، ابوحمید الساعدی اور ابواسید الساعدی بھی تھے، تو اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا، تو سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اجازت دو میں تمہیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز) بیان کرتا ہوں اور میں تم سے اسے زیادہ جانتا ہوں۔ اُنہوں نے کہا (اگر ایسی بات ہے تو) بیان کرو۔ اُنہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہترین وضو کرتے ہوئے دیکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں داخل ہوئے اور تکبیر کہی تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر بلند کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رُکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گُھٹنوں پر ایسے رکھے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو پکڑتے ہوئے ہوں۔ (رُکوع میں) اپنے سر کو نہ اُٹھایا اور نہ بہت جُھکایا (بلکہ درمیانی حالت میں کمر کے برابر رکھا) اور اپنے بازؤں کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھا، پھر (رُکوع سے) اپنا سر اُٹھایا تو سیدھے کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی جگہ میں لوٹ گئی، پھر جناب بندار نے باقی حدیث بیان کی اور حدیث کے آخر میں یہ الفاظ بیان کیے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہھم نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن یحییٰ کو سنا وہ فرما رہے تھے کہ جس شخص نے یہ حدیث سننے کے بعد رُکوع کو جاتے ہوئے اور رُکوع سے سر اُٹھاتے وقت رفع الیدین نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن خزیمۃ، حدیث نمبر: 677
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحٍ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُكُمُ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً، وَلَا أَطْوَلَنَا لَهُ تَبَاعَةً قَالَ: بَلَى قَالُوا: فَاعْرِضْ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ وَاعْتَدَلَ قَائِمًا، حَتَّى يَقَرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ، وَيُكَبِّرُ وَيَرْكَعُ فَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَلَا يَصُبُّ رَأْسَهُ، وَلَا يُقْنِعُهُ، ثُمَّ يَقُولُ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا، حَتَّى يَقَرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَسْجُدُ فَيُجَافِي جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا، وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُومُ فَيَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَقُومُ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ فَيَصْنَعُ مِثْلَ مَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ"
حضرت محمد بن عمرو بن عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کرام کی موجودگی میں سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ نہ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمہاری رفاقت ہم سے پُرانی ہے اور نہ تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا اور پیروی میں ہم سے زیادہ ہو۔ وہ فرماتے ہیں کیوں نہیں (میں تم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو جانتا ہوں) اُنہوں نے کہا (اگر یہ بات ہے) تو پھر پیش کرو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بیان کرو) وہ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر اُٹھاتے تھے پھر «الله اكبر» کہتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل سیدھے کھڑے ہو جاتے حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر سکون کر جاتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قراءت کرتے، پھر دونوں ہاتھ بلند کرتے اور «الله اكبر» کہہ کر رُکوع کرتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھتے، اپنے سر کو نہ اُٹھا کر رکھتے اور نہ زیادہ جُھکاتے (بلکہ درمیانی حال میں برابر رکھتے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سمع الله لمن حمده» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پورے اعتدال کے ساتھ اپنے دونوں کندھوں تک اُٹھاتے۔ حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی جگہ قرار پالیتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «‏‏‏‏الله اكبر» ‏‏‏‏ کہتے اور سجدہ کرتے تو اپنے دونوں بازؤں کو دونوں پہلوؤں سے دور رکھتے، پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم (سجدے سے) سر اُٹھاتے تو اپنا بایاں پاؤں موڑ کر اس پر بیٹھ جاتے اور دائیں پاؤں کی اُنگلیاں کھول کرے رکھتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تو دوسری رکعت میں بھی اس طرح کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت (کے تشہد) سے اُٹھتے تو اسی طرح کرتے جیسے نماز شروع کرتے وقت کیا تھا (یعنی «‏‏‏‏الله اكبر» ‏‏‏‏ کہہ کر کندھوں کے برابر ہاتھ اُٹھاتے۔)
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن خزیمۃ، حدیث نمبر: 693
حَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ، أنا الْمُعْتَمِرُ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھ اُٹھاتے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رُکوع کرنے کا ارادہ کرتے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رُکوع سے اپنا سر اُٹھاتے اور جب دو رکعتوں (کے تشہد) سے اُٹھتے ان تمام مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر اُٹھاتے تھے۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن خزیمۃ، حدیث نمبر: 694
حَدَّثَنَا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِصْرِيُّ، نا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى التُّجِيبِيَّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ جَعَلَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا سَجَدَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا يَفْعَلُهُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو «‏‏‏‏الله اكبر» ‏‏‏‏ کہتے پھر اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے برابر اُٹھاتے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رُکوع کرتے تو اسی طرح (رفع الیدین) کرتے، اور جب سجدہ کرتے تو اسی طرح کرتے، اور جب سجدے سے سر اُٹھاتے تو رفع الیدین نہیں کرتے تھے، اور جب دو رکعتوں کے (تشہد کے) بعد کھڑے ہوتے تو اسی طرح (رفع الیدین) کرتے۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن خزیمۃ، حدیث نمبر: 697
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَحِينَ أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ وَجَافَى يَعْنِي فِي السُّجُودِ وَفَرَشَ فَخِذَهُ الْيُسْرَى، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ يَعْنِي فِي الْجُلُوسِ فِي التَّشَهُّدِ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: وَفَرَشَ فَخِذَهُ الْيُسْرَى، يُرِيدُ لِلْيُمْنَى، أَبِي فَرَشَ فَخِذَهُ الْيُسْرَى لَيَضَعُ فَخِذَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى كَخَبَرِ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسَ: وَضَعَ فَخِذَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «‏‏‏‏الله اكبر» ‏‏‏‏ کہا اور رفع الیدین کی۔ اور جب رُکوع کرنے کا ارادہ کیا تو رفع الیدین کی، اور جب رُکوع سے سر اُٹھایا تو رفع الیدین کی سجدے میں اپنے دونوں ہاتھ (زمین پر) رکھے اور بازؤں کو پہلوؤں سے دور کیا، اور اپنی بائیں ران کو بچھایا، اور اپنی سبابہ انگلی سے اشارہ کیا یعنی تشہد میں بیٹھ کر۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا یہ فرمان ”اپنی بائیں ران کو بچھایا“ اس سے اُن کی مراد یہ ہے کہ بائیں ران کو دائیں ران کے لئے بچھایا۔ میرے والد نے اپنی بائیں ران کو بچھایا تاکہ اپنی دائیں ران کو بائیں ران پر رکھیں۔ جیسا کہ آدم بن ابی ایاس کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں ران کو اپنی بائیں ران پر رکھا۔
تخریج الحدیث: صحیح
صحیح ابن خزیمۃ، حدیث نمبر: 698
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ كَبَّرَ، وَحِينَ رَكَعَ، وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَقَالَ حِينَ سَجَدَ: هَكَذَا، وَجَافَى يَدَيْهِ عَنْ إِبْطَيْهِ، وَوَضَعَ فَخِذَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَقَالَ: هَكَذَا، وَنَصَبَ وَهْبٌ السَّبَّابَةَ وَعَقَدَ بِالْوُسْطَى «، وَأَشَارَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى أَيْضًا بِسَبَّابَتِهِ وَحَلَّقَ بِالْوُسْطَى وَالْإِبْهَامِ، وَعَقَدَ بِالْوُسْطَى» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: وَوَضَعَ فَخِذَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى يُرِيدُ فِي التَّشَهُّدِ
سیدنا وائل بن حجر الحضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب «‏‏‏‏الله اكبر» ‏‏‏‏ کہا تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے، اور جب رُکوع کیا اور جب رُکوع سے اپنا سر اُٹھایا (‏‏‏‏تو رفع الیدین کی) اور جب سجدہ کیا تو فرمایا: ”اس طرح سے“ اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی بغلوں سے دور کیا، اور اپنی دائیں ران کو اپنی بائیں ران پر رکھا، اور فرمایا: ”اس طرح سے (‏‏‏‏رکھا کرو)“ حضرت وہب نے اپنی شہادت کی انگلی کو کھڑا کیا اور درمیان انگلی سے گرہ لگائی۔ جناب محمد بن یحییٰ نے بھی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا، درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے ساتھ حلقہ بنایا اور درمیانی انگلی کے ساتھ گرہ لگائی۔
تخریج الحدیث: صحیح
مسند الحمیدی، حدیث نمبر: 626
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَلَا يَرْفَعُ وَلَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ»
سالم بن عبداللہ اپنے والدکایہ بیان نقل کرتے ہیں۔میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا آغاز کیا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کندھوں تک دونوں ہاتھ بلند کیے۔پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جانے لگے اور رکوع سے سراٹھانے کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین کیا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کیا۔
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري في «صحيحه» برقم: 735، 736، 738، 739، ومسلم في «صحيحه» برقم: 390، ومالك في «الموطأ» برقم: 245، وابن حبان في «صحيحه» برقم: 1861، 1864، 1868، 1877، والنسائي في «المجتبيٰ» برقم: 875، 876، وأبو داود في «سننه» برقم: 721، 722، 741، 742، والترمذي في «جامعه» برقم: 255، 256، والدارمي في «مسنده» برقم: 1285، 1347، 1348، وابن ماجه في «سننه» برقم: 858، والبيهقي في «سننه الكبير» برقم: 2338، 2339، 2347، 2350، 2351، برقم: 2543، 2544، 2545، 2546، 2547، 2548، 2549، 2550، 2551، 2552، 2553، 2563، 2582، 2646، 2859، 6274»
Reference: View
مسند الحمیدی، حدیث نمبر: 627
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَاقِدٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ: «كَانَ إِذَا أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ حَصَبَهُ حَتَّي يَرْفَعَ يَدَيْهِ»
نافع بیان کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی شخص کو دیکھتے کہ وہ نماز کے دوران ہر مرتبہ جھکتے اور اٹھتے ہوئے رفع یدین نہیں کر رہا تو وہ اسے کنکریاں مارتے تھے،یہاں تک کہ وہ رفع یدین کرنے لگتا۔
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه الدارقطني في «سننه» برقم: 1118، والبخاري في الجز رفع اليدين»
Reference: View
مسند الحمیدی، حدیث نمبر: 909
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَرَأَيْتُهُ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ أَضْجَعَ رِجْلَهُ الْيُسْرَي وَنَصَبَ الْيُمْنَي، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَي عَلَي فَخِذِهِ الْيُسْرَي، وَبَسَطَهَا، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَي عَلَي فَخِذِهِ الْيُمْنَي، وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ حَلَقَةً وَدَعَا هَكَذَا» وَنَصَبَ الْحُمَيْدِيُّ السَّبَّابَةَ، قَالَ وَائِلٌ: «ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ فِي الشِّتَاءِ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الْبَرَانِسِ»
سیدنا وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز کرتے تھے، تو رفع یدین کرتے تھے، جب رکوع میں جاتے تھے اور جب رکوع سے سراٹھاتے تھے اس وقت بھی رفع یدین کرتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز نے دوران بیٹھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بائیں ٹانگ کو بچھالیتے تھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا ر کھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ بائیں زانوں پر رکھتے تھے اور اسے کھول کے رکھتے تھے، جبکہ دایاں ہاتھ دائیں زانوں پر رکھتے تھے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو انگلیوں کو بند کرکے ان کاحلقہ بناتے تھے اور اس طرح دعا مانگتے تھے۔
امام حمیدی رحمہ اللہ نے شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کرکے یہ بتایا۔
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں پھر سردی کے موسم میں وہاں آیا، تو میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ لوگ اپنی چادروں کے اندرہی رفع یدین کررہے تھے۔
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان في «صحيحه» 1805، 1860، 1862، 1920، 1945، والحاكم في «مستدركه» برقم: 819، 832، 2931، والنسائي في «المجتبيٰ» برقم: 878، 881، 886، 888، وأبو داود في «سننه» برقم: 723، 725، والترمذي في «جامعه» برقم: 248، 249، 292، والدارمي في «مسنده» برقم: 1277، 1283، 1397، وابن ماجه في «سننه» برقم: 810، 854، 855، 867، 912، والبيهقي في «سننه الكبير» برقم: 2342، 2343، وأحمد في «مسنده» برقم: 19143، 19144»
Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 717
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ فُلَانِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ" كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ، وَكَبَّرَ".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کی تکبیر ہونے کے بعد «الله اكبر» کہتے، کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے، قرأت مکمل ہونے کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جانے لگتے تب بھی اسی طرح کرتے، رکوع سے سر اٹھا کر بھی اسی طرح کرتے، بیٹھے ہونے کی صورت میں کسی رکن کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع یدین نہ فرماتے تھے، البتہ جب دونوں سجدے کر کے کھڑے ہوتے تو رفع یدین کر کے تکبیر کہتے۔
حكم دارالسلام: إسناده حسن

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 4540
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ"، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، وَأَكْثَرُ مَا كَانَ يَقُولُ: وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے آغاز میں اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر کے رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے لیکن دو سجدوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین نہیں کیا۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 736، م: 390

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 4674
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، قَالَ:" رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، وَلَا يَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر کے رفع یدین کرتے تھے، نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «سمع الله لمن حمده» کہنے کے بعد «ربنا ولك الحمد» کہتے تھے، لیکن دو سجدوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین نہیں کیا۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 735، م: 390

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 5033
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: رَأَيْتُ طَاوُسًا" حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ، وَحِينَ يَرْكَعُ، وَحِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ"، فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، أَنَّهُ يُحَدِّثُهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حکم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس کو دیکھا کہ وہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کر رہے تھے، ان کے کسی شاگرد نے مجھے بتایا کہ وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل من أصحاب طاووس الذى حدث عنه الحكم بن عتيبة.

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 5034
حَدَّثَنَاه أَبُو النَّضْرِ، بِمَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حكم دارالسلام: انظر ما قبله .

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 5054
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَابِرٍ، سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ رَأَى أَبَاهُ" يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَزَعَمَ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ".
سالم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے والد صاحب کو نماز کے آغاز میں اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر کے رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے، نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي، لكنه متابع، وانظر ماسلف برقم: 4540 .

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 5081
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے آغاز میں اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر کے رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے، نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن دو سجدوں کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین نہیں کیا۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح.

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 5279
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر کے رفع یدین کرتے تھے، نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے تھے لیکن دو سجدوں کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین نہیں کیا۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 735 ، م : 390 .

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 5762
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا دَخَلَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز شروع کرتے تو کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے تھے، رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 739.

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 6163
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، حِينَ يُكَبِّرُ وَيَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ، وَحِينَ يَرْكَعُ، وَحِينَ يَسْجُدُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہہ کر نماز شروع کرتے وقت اور رکوع سجدہ کرتے وقت کندھوں کے برابر رفع یدین کرتے تھے۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح دون رفع اليدين عند السجود، وهذا إسناد ضعيف .

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 6164
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَ ذَلِكَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح دون رفع اليدين عند السجود، وهذا إسناد ضعيف .

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 6175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ، حَتَّى إِذَا كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ كَبَّرَ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، كَبَّرَ وَهُمَا كَذَلِكَ، رَكَعَ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ يَسْجُدُ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ، وَيَرْفَعُهُمَا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَتَكْبِيرَةٍ كَبَّرَهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ، حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلَاتُهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھ اتنے بلند کرتے کہ وہ کندھوں کے برابر آ جاتے پھر تکبیر کہتے جب رکوع میں جاتے تو پھر اپنے ہاتھ اتنے بلند کرتے کہ وہ کندھوں کے برابر آ جائے پھر تکبیر کہتے اور رکوع میں چلے جاتے جب اپنی پشت کو بلند کرنا چاہتے تو پھر اپنے ہاتھ اتنے بلند کرتے کہ وہ کندھوں کے برابرآجاتے اور «سمع الله لمن حمده» کہتے اور سجدے میں چلے جاتے لیکن سجدے میں رفع یدین نہیں کرتے تھے البتہ ہر رکعت میں اور رکوع سے پہلے ہر تکبیر میں رفع یدین کرتے تھے یہاں تک کہ نماز مکمل ہو جاتی تھی۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن .

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 6328
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا رَكَعَ، وَكُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا؟ قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ".
محا رب بن دثار کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ ہر مرتبہ رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کر رہے ہیں میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعتیں پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور رفع یدین کرتے تھے۔
حكم دارالسلام: إسناده قوي

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 6345
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَهُمَا، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ رَفَعَهُمَا، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے وقت اپنے کندھوں کے برابر یا قریب کر کے رفع یدین کرتے تھے نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے تھے لیکن دو سجدوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین نہیں کیا۔
حكم دارالسلام: إسناده صحيح

Reference: View
مسند احمد، حدیث نمبر: 15604
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
سیدنا مالک بن حویرث سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں رکوع سے سر اٹھاتے وقت سجدہ کرتے وقت اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے یہاں تک کہ آپ اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو کے برابر کر لیتے تھے۔
حكم دارالسلام: في إسناده عنعنة قتادة ، ومتنه صحيح دون قوله: "وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سجوده" فشاذ، سعيد بن أبى عروبة مختلط ورواية ابن أبى عدي عنه بعد اختلاطه، لكنه توبع

Reference: View