السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3185. -- باب: يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة وأن لبن الفحل يحرم
-- باب: رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب (پیدائش) سے حرام ہوتے ہیں، اور اس بات کا بیان کہ ”لبن الفحل“ (یعنی جس مرد کے نطفے کی وجہ سے عورت کو دودھ اترا ہو وہ) بھی حرمت کا باعث ہے۔
حدیث نمبر: 15605
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ السَّرِيُّ، نا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُرَاهُ فُلَانًا" لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ كَانَ فُلَانًا حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ يَدْخُلُ عَلَيَّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ" لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
عمرہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے، انہوں نے ایک آدمی کی آواز سنی، وہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخلے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ آدمی آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس کو جانتا ہوں، وہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی چچا ہے۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر فلاں یعنی اس کا چچا رضاعی زندہ ہوتا تو وہ مجھ پر داخل ہو سکتا تھا؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! رضاعت ان رشتوں کو حرام کرتی ہے جو پیدائش حرام کرتی ہے۔“
یہ الفاظ امام شافعی کی حدیث کے ہیں۔ اس کو امام بخاری نے صحیح میں اسماعیل بن ابی اویس اور اس کے علاوہ دیگر رواۃ سے نقل کیا ہے اور اس کو امام مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15605]
یہ الفاظ امام شافعی کی حدیث کے ہیں۔ اس کو امام بخاری نے صحیح میں اسماعیل بن ابی اویس اور اس کے علاوہ دیگر رواۃ سے نقل کیا ہے اور اس کو امام مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15605]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15606
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، نا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ الْهُذَلِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ هَاشِمٍ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو رشتے پیدائش سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے حرام ہوتے ہیں۔“ اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ابو معمر ہذلی عن علی بن ہاشم کی سند سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15606]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15607
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي، ح، وَأنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَ: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، نا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ بَعْدَمَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ فَقُلْتُ لَهُ: لَا آذَنُ لَكَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ فَإِنَّ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا يَمْنَعُكِ أَنْ تَأْذَنِي لِعَمِّكِ؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ تَرِبَتْ يَمِينُكِ" قَالَ عُرْوَةُ: فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا تُحَرِّمُونَ مِنَ النَّسَبِ، لَفْظُ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ وَفِي رِوَايَةِ عُقَيْلٍ بَعْدَمَا نَزَلَ الْحِجَابُ فَقُلْتُ: وَاللهِ لَا آذَنُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْبَاقِي نَحْوَهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَعَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: افلح (ابو قیس کے بھائی) نے مجھ پر (داخل ہونے کی) اجازت طلب کی پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد۔ میں نے اسے کہا: میں تجھے اجازت نہیں دیتی حتیٰ کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لوں، کیونکہ ابو قیس کے بھائی نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا بلکہ ابو قیس کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا ہے۔ فرماتی ہیں: مجھ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! افلح (ابو قیس کے بھائی) نے مجھ پر داخل ہونے کی اجازت طلب کی، میں نے اس کو اجازت دینے سے انکار کر دیا حتیٰ کہ اس کے بارے میں آپ سے اجازت لے لوں۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کس چیز نے اپنے چچا کو اجازت دینے سے روکا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بیشک مجھے اس آدمی نے دودھ نہیں پلایا بلکہ مجھے اس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کو اجازت دے، بیشک وہ تیرا چچا ہے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔“
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: ”تم رضاعت سے (وہ سب) حرام قرار دو جو تم نسب سے حرام کرتے ہو۔“
یہ شعیب بن ابی حمزہ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور عقیل کی روایت میں ہے (حجاب کے حکم نازل ہونے کے بعد): میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کو اجازت نہیں دوں گی یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال نہ کر لوں، اور باقی (روایت) اسی طرح ہے۔ اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں یحییٰ بن بکیر اور ابو الیمان سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15607]
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: ”تم رضاعت سے (وہ سب) حرام قرار دو جو تم نسب سے حرام کرتے ہو۔“
یہ شعیب بن ابی حمزہ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور عقیل کی روایت میں ہے (حجاب کے حکم نازل ہونے کے بعد): میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کو اجازت نہیں دوں گی یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال نہ کر لوں، اور باقی (روایت) اسی طرح ہے۔ اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں یحییٰ بن بکیر اور ابو الیمان سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15607]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15608
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
ہمیں یونس نے ابن شہاب رحمہ اللہ سے اسی روایت کی خبر دی، اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں حرملہ رحمہ اللہ عن ابن وہب رحمہ اللہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15608]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15609
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ عَمَّهَا أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا بَعْدَمَا ضُرِبَ الْحِجَابُ فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ حَتَّى يَأْتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْتَأْذِنَهُ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَتْ جَاءَ عَمِّي أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ فَرَدَدْتُهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ، فَقَالَ:" أَوَلَيْسَ بِعَمِّكِ؟" قَالَتْ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ:" إِنَّهُ عَمُّكِ فَيَلِجُ عَلَيْكِ" وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا تُحَرِّمُ مِنَ الْوِلَادَةِ، ⦗٧٤٤⦘ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
سیدنا عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ ان کا چچا ابو قعیس کا بھائی آیا، ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی اور پردے کا حکم نازل ہو چکا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے اجازت دینے سے انکار کیا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا کہ میرا چچا ابو قعیس کا بھائی آیا تھا، میں نے اس کو واپس بھیج دیا حتیٰ کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ تیرا چچا نہیں ہے؟“ میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے دودھ نہیں پلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرا چچا ہے وہ تیرے پاس آ سکتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رضاعت سے (ان رشتوں کو) حرام قرار دیتی تھیں جو پیدائش سے حرام ہوتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15609]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15610
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، نا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا شُعْبَةُ، نا الْحَكَمُ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ فَلَمْ آذَنْ لَهُ فَقَالَ أَتَحْتَجِبِينَ مِنِّي وَأَنَا عَمُّكِ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي بِلَبَنِ أَخِي قَالَتْ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" صَدَقَ أَفْلَحُ فَائْذَنِي لَهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مجھ سے ابوقعیس کے بھائی افلح نے اجازت طلب کی، میں نے اسے اجازت نہیں دی۔ اس نے کہا: کیا تو مجھ سے پردہ کرتی ہے اور میں تیرا چچا ہوں؟ فرماتی ہیں: میں نے کہا: یہ کیسے؟ اس نے کہا: تجھے میرے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہے۔ فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ”افلح نے سچ کہا، اسے اجازت دے۔“
اس کو بخاری نے صحیح میں آدم سے روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے ایک دوسری سند عن شعبہ سے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15610]
اس کو بخاری نے صحیح میں آدم سے روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے ایک دوسری سند عن شعبہ سے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15610]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15611
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، ح قَالَ: وَأنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَمَّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ يُسَمَّى أَفْلَحُ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَحَجَبَتْهُ فَأَخْبَرَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا:" لَا تَحْتَجِبِي فَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ.
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ میرے رضاعی چچا افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے ان سے پردہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان سے پردہ نہ کر، کیونکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔“ اس کو مسلم نے صحیح میں قتیبہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15611]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15612
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَنْبَرٍ، أنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، نا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ فَقَالَ:" إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ وَإِنَّ اللهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ" وَفِي رِوَايَةِ هُدْبَةَ:" إِنَّهَا لَا تَصْلُحُ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ هُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کا ارادہ کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور اللہ تعالیٰ نے رضاعت سے وہ سب حرام کیا ہے جو نسب سے حرام کیا ہے۔“ اور ہدبہ کی روایت میں ہے کہ: ”وہ میرے لیے درست نہیں ہے کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت سے جو حرام ہوتا ہے، نسب سے بھی وہ حرام ہوتا ہے۔“
بخاری نے اس کو صحیح میں مسلم بن ابراہیم سے روایت کیا ہے اور مسلم نے اس کو ہدبہ بن خالد سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15612]
بخاری نے اس کو صحیح میں مسلم بن ابراہیم سے روایت کیا ہے اور مسلم نے اس کو ہدبہ بن خالد سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15612]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15613
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ ⦗٧٤٥⦘ بْنُ عَبْدِ اللهِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَالِي أَرَاكَ تَتَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ:" عِنْدَكَ شَيْءٌ؟" قُلْتُ: نَعَمِ ابْنَةُ حَمْزَةَ قَالَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ نے قریش اور ہمیں چھوڑ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس کوئی چیز ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں! حمزہ کی بیٹی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔“ اس کو مسلم نے صحیح میں محمد بن ابی بکر مقدمی سے روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15613]
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15613]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ 1446»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15614
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُسْلِمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: قِيلَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ عَنِ ابْنَةِ حَمْزَةَ أَوْ قِيلَ: لَا تَخْطُبُ ابْنَةَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ قَالَ:" إِنَّ حَمْزَةَ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَارُونَ الْأَيْلِيِّ وَغَيْرُهُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ یا کہا گیا: آپ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نکاح کا پیغام نہیں بھیجتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک حمزہ میرا رضاعی بھائی ہے۔“
اس کو مسلم نے اپنی صحیح میں ہارون ایلی اور اس کے علاوہ ابن وہب سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15614]
اس کو مسلم نے اپنی صحیح میں ہارون ایلی اور اس کے علاوہ ابن وہب سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 15614]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح