السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. -- باب التطهير بماء البحر
-- سمندر کے پانی سے پاکی حاصل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: Q1
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا} [الفرقان: ٤٨] وَقَالَ: {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا} [النساء: ٤٣] طَيِّبًا.
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ظَاهِرُ الْقُرْآنِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ كُلَّ مَاءٍ طَاهِرٌ مَاءَ بَحْرٍ وَغَيْرَهُ وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ يُوَافِقُ ظَاهِرَ الْقُرْآنِ، فِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَا أَعْرِفُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ الَّذِي..
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ظَاهِرُ الْقُرْآنِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ كُلَّ مَاءٍ طَاهِرٌ مَاءَ بَحْرٍ وَغَيْرَهُ وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ يُوَافِقُ ظَاهِرَ الْقُرْآنِ، فِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَا أَعْرِفُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ الَّذِي..
اللہ جل ثناؤہ نے فرمایا: ﴿وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا﴾ ”اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اتارا۔“ [سورة الفرقان: 48]
اور فرمایا: ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ ”پھر اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔“ [سورة النساء: 43]
ابو عبداللہ محمد بن ادریس شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”قرآن مجید کا ظاہری مفہوم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ہر طرح کا پانی پاک ہے، خواہ وہ سمندر کا پانی ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور، اور اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی حدیث بھی مروی ہے جو قرآن کے ظاہری مفہوم کے عین مطابق ہے، البتہ اس کی سند میں ایک ایسا راوی موجود ہے جسے میں نہیں جانتا۔“ پھر انہوں نے وہ حدیث ذکر کی جو (آگے آ رہی ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: Q1]
اور فرمایا: ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ ”پھر اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔“ [سورة النساء: 43]
ابو عبداللہ محمد بن ادریس شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”قرآن مجید کا ظاہری مفہوم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ہر طرح کا پانی پاک ہے، خواہ وہ سمندر کا پانی ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور، اور اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی حدیث بھی مروی ہے جو قرآن کے ظاہری مفہوم کے عین مطابق ہے، البتہ اس کی سند میں ایک ایسا راوی موجود ہے جسے میں نہیں جانتا۔“ پھر انہوں نے وہ حدیث ذکر کی جو (آگے آ رہی ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: Q1]
حدیث نمبر: 1
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى رَحِمَهُمَا اللهُ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ دَاسَةَ بِالْبَصْرَةِ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنْا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، ⦗٦⦘ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ" وَقَدْ تَابَعَ الْجُلَاحُ أَبُو كَثِيرٍ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ عَلَى رِوَايَتِهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ.
سیدنا مغیرہ بن بردہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑی مقدار میں پانی لے کر جاتے ہیں، اگر ہم اس پانی کے ساتھ وضو کریں تو ہم پیاسے رہ جائیں، کیا ہم سمندر کے پانی کے ساتھ وضو کر لیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد 83، والترمذي 69، والنسائي 332»
الحكم على الحديث: صحيح
12
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1 in Urdu