السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3197. -- باب: حبس الرجل لأهله قوت سنة
-- باب: آدمی کا اپنے اہل و عیال کے لیے سال بھر کی خوراک جمع کر کے رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15700
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ هُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَثْعَمِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، نا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: قَالَ لِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: إِيشِ عِنْدَكَ فِي الْقُوتِ؟ قُلْتُ: لَا شَيْءَ قَالَ: ثُمَّ ذَكَرْتُ بَعْدُ حَدِيثًا حَدَّثَنَا بِهِ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَبِيعُ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَيَحْبِسُ لِأَهْلِهِ قُوتَ سَنَتِهِمْ" ⦗٧٧٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ وَكِيعٍ.
ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: مجھے سفیان ثوری نے کہا: ”کیا تیرے پاس خوراک کی کوئی چیز ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، کوئی چیز نہیں۔ کہتے ہیں: پھر میں نے بعد میں حدیث ذکر کی، ہمیں معمر نے زہری سے، انہوں نے مالک سے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنی نضیر کی کھجوریں فروخت کرتے تھے اور اپنے اہل کے لیے ایک سال کی خوراک روک لیتے تھے۔“
اس کو بخاری رحمہ اللہ نے محمد بن سلام سے، انہوں نے وکیع سے صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15700]
اس کو بخاری رحمہ اللہ نے محمد بن سلام سے، انہوں نے وکیع سے صحیح میں روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15700]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15701
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيمَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ وَغَيْرِهِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَغَيْرِهِ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں منقول ہے جو اللہ نے اپنے رسول پر مالِ فئے کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مال میں سے اپنے اہل پر ان کے سال کا خرچہ خرچ کرتے، پھر جو باقی ہوتا اس کو بیت المال میں شامل کر دیتے۔“
اس کو بخاری نے ابن بکیر اور اس کے علاوہ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے معمر اور اس کے علاوہ کی حدیث سے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15701]
اس کو بخاری نے ابن بکیر اور اس کے علاوہ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے معمر اور اس کے علاوہ کی حدیث سے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15701]