السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3208. -- باب: الخالة أحق بالحضانة من العصبة
-- باب: خالہ کے عصبہ (پدری رشتہ داروں) کی نسبت پرورش (حضانت) کی زیادہ حق دار ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15768
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي ذِي الْقِعْدَةِ، فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ كَتَبُوا هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ، فَقَالُوا: لَا نُقِرُّ بِهَذَا، وَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا، وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ:" أَنَا رَسُولُ اللهِ، وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، يَا عَلِيُّ، امْحُ" رَسُولُ اللهِ" قَالَ: وَاللهِ لَا أَمْحُوكَ أَبَدًا. فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ، وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ مَكَانَ" رَسُولُ اللهِ" فَكَتَبَ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: أَنْ لَا يُدْخِلَ مَكَّةَ السِّلَاحَ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ، وَأَنْ لَا يُخْرِجَ مِنْ أَهْلِهَا أَحَدًا أَرَادَ أَنْ يَتَّبِعَهُ، وَأَنْ لَا يَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا. فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ، أَتَوْا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: قُلْ لِصَاحِبِكَ فَلْيَخْرُجْ عَنَّا، فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ. فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَتْبَعُهُمْ ابْنَةُ حَمْزَةَ، فَنَادَتْ: يَا عَمُّ، يَا عَمُّ. فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَالَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ: دُونَكِ. فَحَمَلَتْهَا، فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ، وَزَيْدٌ، وَجَعْفَرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ. فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَخَذْتُهَا، وَهِيَ بِنْتُ عَمِّي. قَالَ جَعْفَرٌ: ابْنَةُ عَمِّي، وَخَالَتُهَا تَحْتِي. وَقَالَ زَيْدٌ: ابْنَةُ أَخِي. فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ:" الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ" وَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَنْتَ مِنِّي، ⦗٩⦘ وَأَنَا مِنْكَ" وَقَالَ لِجَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَشْبَهْتَ خَلْقِي، وَخُلُقِي" وَقَالَ لِزَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَنْتَ أَخُونَا، وَمَوْلَانَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، هَكَذَا رَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ مُدْرَجًا. وَرَوَى إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِسْرَائِيلَ قِصَّةَ ابْنَةِ حَمْزَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، وَهُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى مَرَّةً أُخْرَى مُنْفَرِدَةً، وَرَوَاهُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی القعدہ میں عمرہ کا ارادہ کیا۔ اہل مکہ نے انکار کر دیا کہ جب تک کوئی معاہدہ نہ ہو جائے مسلمان مکہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ معاہدہ یہ ہو گا کہ مسلمان تین دن سے زیادہ نہیں رکیں گے۔ جب معاہدہ لکھا گیا تو کاتب نے لکھا: یہ معاہدہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے طے کردہ ہے۔ مشرکین کہنے لگے: اگر ہم آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مان لیں تو جھگڑا کس بات کا؟ آپ رسول اللہ نہیں بلکہ محمد بن عبداللہ ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں رسول اللہ بھی ہوں اور ابن عبداللہ بھی ہوں۔“ اور فرمایا: ”اے علی! رسول اللہ کا لفظ مٹا دے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں تو اسے ہرگز نہیں مٹاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خط (تحریر) پکڑا اور اس پر یہ لکھ دیا کہ یہ محمد بن عبداللہ کی طرف سے عہد نامہ ہے کہ وہ مکہ میں اسلحہ لے کر داخل نہیں ہوں گے، صرف تلوار ہو گی وہ بھی میان میں، اور اہل مکہ سے کوئی مسلمانوں کے ساتھ نہیں جائے گا اور اگر کوئی مسلمان اہل مکہ سے ملنا چاہتا ہے مسلمانوں کو چھوڑ کر تو اسے روکا نہیں جائے گا۔ جب مسلمان مکہ میں داخل ہو گئے اور مدت پوری ہو گئی تو اہل مکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اپنے صاحب سے کہیں کہ اب یہاں سے چلے جائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکل پڑے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی آپ کے پیچھے چل پڑی اور چیخنے لگی: اے چچا جان! اے چچا جان! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ لیا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سپرد کر دیا، تو سیدنا علی، سیدنا زید اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہو گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اسے میں نے پکڑا تھا اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ میرے بھی چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ میرے بھائی کی بچی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالہ کے حق میں فیصلہ فرمایا اور فرمایا: ”خالہ ماں کے قائم مقام ہوتی ہے۔“ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا: ”تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔“ اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”تو تخلیق اور اخلاق کے لحاظ سے مجھ سے مشابہ ہے۔“ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”اے زید! تو ہمارا بھائی اور مولیٰ ہے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں عبید اللہ بن موسیٰ سے اسے بیان کیا ہے۔
اسی طرح عبید اللہ بن موسیٰ نے اسرائیل سے اسے مدرجاً روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15768]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں عبید اللہ بن موسیٰ سے اسے بیان کیا ہے۔
اسی طرح عبید اللہ بن موسیٰ نے اسرائیل سے اسے مدرجاً روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15768]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15769
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ، قَالُوا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ هَذَا آخِرُ يَوْمٍ مِنْ شَرْطِ صَاحِبِكَ، فَمُرْهُ فَلْيَخْرُجْ، فَحَدَّثَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ:" نَعَمْ" فَخَرَجَ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء میں تین دن مکہ میں ٹھہرے، جب تیسرا دن ہوا تو اہل مکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کہنے لگے: آج معاہدہ کا آخری دن ہے، تو اپنے صاحب کو کہیں کہ چلے جائیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور پھر مکہ سے نکل گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15769]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15770
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِي هَانِئُ بْنُ هَانِئٍ، وَهُبَيْرَةُ بْنُ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَاتَّبَعَتْهُ ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي: يَا عَمُّ، يَا عَمُّ. فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَالَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ: دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ. فَحَمَلَتْهَا، فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا أَخَذْتُهَا، وَبِنْتُ عَمِّي. وَقَالَ جَعْفَرٌ: بِنْتُ عَمِّي، وَخَالَتُهَا عِنْدِي. وَقَالَ زَيْدٌ: ابْنَةُ أَخِي. فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ:" الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ" وَقَالَ لِزَيْدٍ:" أَنْتَ أَخُونَا، وَمَوْلَانَا" فَحَجَلَ، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ:" أَنْتَ أَشْبَهُهُمْ بِي خَلْقًا وَخُلُقًا" فَحَجَلَ وَرَاءَ ⦗١٠⦘ حَجْلِ زَيْدٍ ثُمَّ قَالَ لِي:" أَنْتَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْكَ" فَحَجَلْتُ وَرَاءَ حَجْلِ جَعْفَرٍ، قَالَ: وَقُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَتَزَوَّجُ بِنْتَ حَمْزَةَ؟ قَالَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ" وَيُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ رِوَايَةُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ فِي قِصَّةِ ابْنَةِ حَمْزَةَ مُخْتَصِرَةً كَمَا رُوِّينَا، ثُمَّ رَوَاهَا عَنْهُمَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ كَمَا رُوِّينَا، فَقَصَّةُ الْحَجْلِ فِي رِوَايَتِهِمَا دُونَ رِوَايَةِ الْبَرَاءِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِّينَا هَذِهِ الْقِصَّةُ أَيْضًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ”چچا! چچا!“ کی صدائیں لگاتی ہوئی پیچھے آگئی، میں نے اسے پکڑا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا تو سیدنا علی، سیدنا زید بن حارثہ اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف ہو گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں نے اسے پکڑا ہے اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ میرے بھی چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالہ کے حق میں فیصلہ دیا اور فرمایا: ”خالہ ماں کے قائم مقام ہوتی ہے“ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”تو ہمارا بھائی اور مولیٰ ہے“ تو وہ پاؤں کے بل پیچھے ہٹ گئے، پھر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”تو میرے ساتھ تخلیق اور اخلاق میں سب سے زیادہ مشابہ ہے“ تو وہ بھی ایک پاؤں کے بل زید کے پیچھے ہو گئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہے“ تو وہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہو گئے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے شادی کر لیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے“۔ ممکن ہے جو ابواسحاق کی براء سے روایت ہے اس میں بنتِ حمزہ کا واقعہ مختصر ہو اور پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مکمل بیان کیا گیا ہو اور پاؤں کے بل پیچھے ہٹنے کا قصہ اسی روایت میں ہے براء کی روایت میں نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15770]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15771
حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ نَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ بِنْتِ حَمْزَةَ، قَالَ: فَقَالَ جَعْفَرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا أَحَقُّ بِهَا، فَإِنَّ خَالَتَهَا عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا الْجَارِيَةُ فَأَقْضِي بِهَا لِجَعْفَرٍ، فَإِنَّ خَالَتَهَا عِنْدَهُ، وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ" هَكَذَا حَدَّثَنَاهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ. وَهُوَ فِي كِتَابِ سُنَنِ أَبِي دَاوُدَ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْعَظِيمِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَالَّذِي عِنْدَنَا أَنَّ الْأَوَّلَ أَصَحُّ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْأُوَيْسِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بنتِ حمزہ رضی اللہ عنہما کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اس پر میرا حق زیادہ ہے کہ اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”اس کی خالہ جعفر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں ہے اور خالہ ماں ہی ہوتی ہے۔“
ایسے ہی یہ قصہ سنن ابی داؤد میں مختلف سندوں سے مذکور ہے لیکن ہمارے نزدیک یہی زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15771]
ایسے ہی یہ قصہ سنن ابی داؤد میں مختلف سندوں سے مذکور ہے لیکن ہمارے نزدیک یہی زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 15771]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح