السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3248. -- باب: عمد القتل بالحجر وغيره مما الأغلب أنه لا يعاش من مثله
-- باب: پتھر یا کسی ایسی چیز سے جان بوجھ کر قتل کرنا جس کی ضرب لگنے سے عموماً جان نہیں بچتی، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 15994
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا يَزِيدُ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جَرْوَةَ بْنِ حَمِيلٍ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَيَضْرِبَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ بِمِثْلِ آكِلَةِ اللَّحْمِ، ثُمَّ يَرَى أَنِّي لَا أُقِيدُهُ وَاللهِ لَأُقِيدَنَّهُ مِنْهُ تَابَعَهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جَرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قال يزيد قَالَ الْحَجَّاجُ: آكِلَةُ اللَّحْمِ يَعْنِي عَصًا مُحَدَّدَةً قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنَ الْحُكْمِ أَنَّهُ رَأَى الْقَوَدَ فِي الْقَتْلِ بِغَيْرِ حَدِيدَةٍ، وَذَلِكَ إِذَا كَانَ مِثْلُهُ يَقْتُلُ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اگر کوئی اپنے بھائی کو آکلۃ اللحم (یعنی نوکیلی لاٹھی) جیسی چیز سے مارے اور پھر یہ سوچے کہ میں اس سے قصاص نہیں لوں گا، میں اس سے ضرور اس کا قصاص لوں گا۔
ابو عبید فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے پتہ چلا کہ اگر لوہے کے بغیر کسی اور چیز سے بھی قتل کیا جائے تو بھی قصاص ہے جب وہ اس کی طرح قتل کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 15994]
ابو عبید فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے پتہ چلا کہ اگر لوہے کے بغیر کسی اور چیز سے بھی قتل کیا جائے تو بھی قصاص ہے جب وہ اس کی طرح قتل کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 15994]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15995
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيَّ، قَالَ: يَنْطَلِقُ الرَّجُلُ الْأَيِّدُ إِلَى رَجُلٍ يَضْرِبُهُ بِالْعَصَا حَتَّى يَقْتُلَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: لَيْسَ بِعَمْدٍ وَأِيُّ الْعَمْدِ أَعْمَدُ مِنْ ذَلِكَ؟.
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر لیثی رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ ایک صاحب حیثیت آدمی ایک شخص کو لاٹھیاں مار مار کر قتل کر دے اور پھر کہے کہ یہ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تو بتاؤ اس سے بڑھ کر جان بوجھ کر اور کیا ہو گا؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 15995]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن