السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3334. -- باب: من قال: في الغرة عبد أو أمة أو فرس أو بغل، أو كذا وكذا من الشاء، وليس بمحفوظ
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک غرہ (جنین کی دیت) میں غلام، لونڈی، گھوڑا، خچر، یا اتنی اتنی بکریاں ہیں، حالانکہ یہ موقف محفوظ (مستند) نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 16416
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، ثنا عِيسَى هُوَ ابْنُ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ: عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، أَوْ فَرَسٍ، أَوْ بَغْلٍ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ لَمْ يَذْكُرَا فَرَسًا وَلَا بَغْلًا قَالَ الشَّيْخُ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يَذْكُرْهُ أَيْضًا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین کی چٹی کے بارے میں ”غلام یا لونڈی یا گھوڑا یا خچر“ کا فیصلہ فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الدِّيَاتِ/حدیث: 16416]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16417
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَشَارَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ فِي الْمَرْأَةِ، وَفِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ: عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، أَوْ فَرَسٍ كَذَا رَوَاهُ مُرْسَلًا وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، فَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ طَاوُسٍ.
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ طلب کیا، پھر مکمل روایت بیان کی اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین اور عورت کے بارے میں فیصلہ فرمایا اور جنین کے بدلے ”غلام یا لونڈی یا گھوڑے“ کا فیصلہ فرمایا۔
اسی طرح انہوں نے اسے مرسل روایت کیا ہے، اور عمرو بن دینار نے اسے طاؤس سے روایت کیا تو اسے طاؤس کا اپنا قول بنا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الدِّيَاتِ/حدیث: 16417]
اسی طرح انہوں نے اسے مرسل روایت کیا ہے، اور عمرو بن دینار نے اسے طاؤس سے روایت کیا تو اسے طاؤس کا اپنا قول بنا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الدِّيَاتِ/حدیث: 16417]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16418
أَخْبَرْنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، سَأَلَ النَّاسَ عَنِ الْجَنِينِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ غُرَّةً وَقَالَ طَاوُسٌ: الْفَرَسُ غُرَّةٌ.
سابقہ روایت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الدِّيَاتِ/حدیث: 16418]
حدیث نمبر: 16419
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً خَذَفَتِ امْرَأَةً فَأَسْقَطَتْ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ فِي وَلَدِهَا خَمْسَمِائَةِ شَاةٍ، وَنَهَى يَوْمَئِذٍ عَنِ الْخَذْفِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: كَذَا الْحَدِيثُ خَمْسُمِائَةٍ، وَالصَّوَابُ مِائَةُ شَاةٍ قَالَ الشَّيْخُ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ وَأَبِي قِلَابَةَ وَأَبِي الْمَلِيحِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالُوا: وَقَضَى، فِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ أَوْ مِائَةٌ مِنَ الشَّاءِ، وَهَذَا مُرْسَلٌ وَرَوَى ذَلِكَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فِيهِ غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، أَوْ عِشْرُونَ وَمِائَةُ شَاةٍ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حضرت عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے پتھر مار کر دوسری کا حمل ساقط کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بچے کے بدلے ۵۰۰ بکریوں کا فیصلہ سنایا“ اور آئندہ پتھر مارنے سے اس دن منع کر دیا۔
ابوداؤد میں بھی ۵۰۰ کا ذکر ہے لیکن صحیح ۱۰۰ بکریاں ہیں۔ شیخ فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس قصے کے بارے میں ابوملیح رضی اللہ عنہ کی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین کے بارے میں ”غلام یا لونڈی یا ۱۰۰ بکریوں کے جرمانے کا فیصلہ سنایا“۔ یہ مرسل ہے اور ابوملیح رضی اللہ عنہ کی ضعیف سند سے بھی ایک روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”غلام یا لونڈی یا ۱۲۰ بکریوں کے جرمانے کا فیصلہ سنایا“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الدِّيَاتِ/حدیث: 16419]
ابوداؤد میں بھی ۵۰۰ کا ذکر ہے لیکن صحیح ۱۰۰ بکریاں ہیں۔ شیخ فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس قصے کے بارے میں ابوملیح رضی اللہ عنہ کی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین کے بارے میں ”غلام یا لونڈی یا ۱۰۰ بکریوں کے جرمانے کا فیصلہ سنایا“۔ یہ مرسل ہے اور ابوملیح رضی اللہ عنہ کی ضعیف سند سے بھی ایک روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”غلام یا لونڈی یا ۱۲۰ بکریوں کے جرمانے کا فیصلہ سنایا“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الدِّيَاتِ/حدیث: 16419]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح