السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3369. -- باب: الترغيب في لزوم الجماعة والتشديد على من نزع يده من الطاعة
-- باب: جماعت (مسلمانوں کی اجتماعی ہیئت) کو لازم پکڑنے کی ترغیب اور اس شخص پر سخت وعید کا بیان جو اطاعت سے اپنا ہاتھ کھینچ لے۔
حدیث نمبر: 16610
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْيَشْكُرِيُّ، قَالُوا: ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، يَقُولُ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ، فَجَاءَنَا اللهُ بِهَذَا الْخَيْرِ، فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَفِيهِ دَخَنٌ"، قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟ قَالَ:" قَوْمٌ يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ"، قُلْتُ: هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ:" نَعَمْ، دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهِا قَذَفُوهُ فِيهَا"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صِفْهُمْ لَنَا، قَالَ:" هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا"، قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ:" تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ"، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ تَكُنْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟ قَالَ:" فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ كَذَلِكَ". قَالَ أَبُو عَمَّارٍ ⦗٢٧٠⦘ فِي حَدِيثِهِ: صِفْهُمْ لَنَا، قَالَ:" هُمْ مِنْ كَذَا، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا". لَفْظُ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ.
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں سوال کرتے تھے اور میں شر کے بارے میں سوال کرتا تھا اس ڈر سے کہ کوئی برائی مجھ میں نہ آجائے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور برائی میں تھے، اللہ یہ خیر لے آیا، کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے پھر پوچھا کہ کیا پھر شر کے بعد خیر ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن اس میں «دُخَنٌ» ”دخن“ ہوگا۔“ میں نے پوچھا: «دُخَنٌ» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ میری ہدایت کے علاوہ میں ہدایت تلاش کریں گے، لوگ اس کا اعتراف اور انکار کریں گے۔“ میں نے کہا: کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ایسے لوگ جو جہنم کی طرف بلائیں گے۔ جو ان کی دعوت کو قبول کرے گا وہ جہنم میں جائے گا۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ان کی صفات بیان فرمائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہم میں سے ہی ہوں گے، ہماری ہی زبان بولیں گے۔“ میں نے کہا: اگر میں انہیں پا لوں تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑنا۔“ میں نے پوچھا: اگر اس وقت مسلمانوں کی جماعت اور امام نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان تمام فِرقوں سے جدا رہنا، چاہے کسی درخت کی جڑ سے مل کر بیٹھ جانا یہاں تک کہ تجھے موت آجائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16610]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16611
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِيُّ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي قَيْسِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِلْعَصَبِيَّةِ، أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبِيَّةٍ، أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا، لَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا، وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جو شخص اطاعت سے نکل جائے اور جماعت کو چھوڑ دے اور اسی حالت پر فوت ہو جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا، اور جو «عِمِّيَّة» کے جھنڈے تلے لڑے، عصبیت کی خاطر غصے میں آئے، یا عصبیت کی طرف بلائے، یا عصبیت کی مدد کرے اور مارا جائے تو اس کا مارا جانا جاہلیت کا مارا جانا ہے، اور جو میری امت کے خلاف نکلے اور اس کے ہر نیک و بد کو قتل کرے، اس کے مومن (کو مارنے) سے بھی نہ بچے اور اس کے عہد والے کا عہد پورا نہ کرے وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16611]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16612
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الطَّيَالِسِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَسَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ، فَلَمَّا رَآهُ قَالَ: هَاتُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، قَالَ: إِنِّي لَمْ أَجِئْكَ لِأَجْلِسَ، إِنَّمَا جِئْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَاصِمٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ سَالِمًا فِي إِسْنَادِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عبداللہ بن مطیع کے پاس آئے تو انہوں نے دیکھ کر فرمایا: ابو عبدالرحمن کے لیے تکیہ لاؤ، تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں بیٹھنے نہیں آیا، میں ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اطاعتِ امیر سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تو یومِ قیامت وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے لیے کوئی دلیل نہیں ہوگی، اور جو بغیر بیعت کے فوت ہو گیا وہ جاہلیت کی موت مرا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16612]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16613
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أَنْبَأَ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ قَالَ:" وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَمَرَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِنَّ: الْجَمَاعَةُ وَالسَّمْعُ وَالطَّاعَةُ وَالْهِجْرَةُ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَمَن خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ رَأْسِهِ، إِلَّا أَنْ يُرَاجِعَ، وَمَنْ دَعَا دَعْوَةً جَاهِلِيَّةً فَإِنَّهُ مِنْ جُثَا جَهَنَّمَ"، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى، فَادْعُوا بِدَعْوَةِ اللهِ الَّذِي سَمَّاكُمْ بِهَا الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عَبَّادَ اللهِ".
سیدنا حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا حکم مجھے اللہ تعالیٰ نے دیا ہے: «السَّمْعِ» ”سننا“، «الطَّاعَةِ» ”فرمانبرداری“، «الْجَمَاعَةِ» ”جماعت“، «الْهِجْرَةِ» ”ہجرت“ اور «الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» ”اللہ کی راہ میں جہاد“۔ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی جدا ہوا، اس نے اسلام کا کڑا اپنی گردن سے اتار دیا، ہاں اگر وہ واپس لوٹ آئے تو اور بات ہے، اور جس نے جاہلیت والا دعویٰ کیا وہ جہنمی ہے۔“ ایک شخص کہنے لگا: اگر وہ نماز و روزہ کی پابندی کرتا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاہے وہ نماز روزہ کی پابندی کرتا ہو۔ تم لوگوں کو اللہ کی اس دعوت کے ساتھ پکارو جس نے تمہارا نام مسلمین، مؤمنین اور اللہ کے بندے رکھا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16613]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16614
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثَنَا ⦗٢٧١⦘ أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الشَّعْرَانِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَزُهَيْرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أُهْبَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو جماعت سے ایک بالشت بھی جدا ہوا تو اس نے اپنی گردن سے اسلام کے کڑے کو نکال دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16614]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف