🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3377. -- باب: ما على من رفع إلى السلطان ما فيه ضرر على مسلم من غير جناية
-- باب: اس شخص پر عائد ہونے والے گناہ و وعید کا بیان جو حکمران تک کسی مسلمان کے خلاف ایسی بات پہنچائے جس سے اسے بغیر کسی جرم کے نقصان پہنچے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16672
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَاسَرْجَسِيُّ، ثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ حُذَيْفَةَ، فَمَرَّ رَجُلٌ فَقَالُوا: هَذَا يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى السُّلْطَانِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ". قَالَ الْأَعْمَشُ: وَالْقَتَّاتُ النَّمَّامُ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ.
ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص گزرا تو لوگوں نے کہا: یہ بادشاہ کو جا کے باتیں بتاتا ہے، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16672]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16673
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَمَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ، قَالَ: لَا يَسْمَعَنَّ هَذَا فَيَصِيرُ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنَ، فَأَتَيَاهُ فَسَأَلَاهُ عَنْ تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئًا، وَلَا تَقْتُلُوا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَسْحَرُوا، وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا تَقْذِفُوا الْمُحْصَنَةَ، وَلَا تَفِرُّوا مِنَ الزَّحْفِ، وَلَا تُمَشُّوا مُبَرَئٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِتَقْتُلُوهُ أَوْ لِتُهْلِكُوهُ، وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً يَهُوَدُ أَنْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ"، فَقَبَّلَا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ⦗٢٨٨⦘ وَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ، فَقَالَ:" مَا يَمْنَعُكُمَا مِنِ اتِّبَاعِي؟" فَقَالَا: إِنَّ دَاوُدَ دَعَا أَنْ لَا يَزَالَ فِي ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ، وَإِنَّا نَخْشَى إِنِ اتَّبَعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا الْيَهُوَدُ"، قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَرَّةً: وَلَا تَقْذِفُوا الْمُحْصَنَةَ، أَوْ لَا تَفِرُّوا مِنَ الزَّحْفِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: شَكّ شُعْبَةُ.
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب کے دو آدمیوں میں سے ایک نے دوسرے کو کہا: چلو اس نبی کے پاس چلتے ہیں، (دوسرے نے کہا:) وہ یہ بات نہ سن لے ورنہ (خوشی سے) اس کی چار آنکھیں ہو جائیں گی۔ وہ آئے اور آ کر نو واضح آیات کے بارے میں پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، قتل نہ کرو، چوری، زنا، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاک دامن عورتوں پر تہمت نہ لگاؤ، جنگ سے نہ بھاگو، کسی بے قصور کو سلطان کے پاس نہ لے جاؤ تاکہ وہ اسے قتل کر دے اور اے یہود! تمہارے لیے خاص یہ ہے کہ ہفتے کے دن میں زیادتی نہ کرو۔“ تو ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں چومے اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں آپ نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”پھر تمہیں میری اتباع سے کیا چیز روکتی ہے؟“ انہوں نے کہا: بے شک داود علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ نبی ان کی اولاد سے ہی ہوں، اور ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم آپ کی اتباع کر لیں تو یہود ہمیں قتل کر دیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16673]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16674
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ التَّاجِرُ الزَّاهِدُ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ، بِبَغْدَادَ، ثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا عُبَيْدَةُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قَالَ كَعْبٌ:" أَعْظَمُ النَّاسِ خَطِيئَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِي يَسْعَى بِأَخِيهِ إِلَى إِمَامِهِ".
کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن سب سے گناہگار وہ شخص ہو گا جو اپنے بھائی کو امام کے پاس لے کر جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16674]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں