السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3381. -- باب: ما جاء في قتال أهل البغي والخوارج
-- باب: اہلِ بغاوت اور خوارج سے قتال کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16699
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِيُّ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: ذَكَرَ الْخَوَارِجَ، وَقَالَ حَمَّادٌ: ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ، فَقَالَ:" فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ" قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّْمِيِّ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خوارج یا اہل نہروان کا ذکر کیا اور فرمایا: ”ان میں ایک شخص ہے جو ناقص ہاتھ والا یا بھرے ہوئے گوشت کے ہاتھ والا ہے۔ اگر تم تکبر میں نہ آؤ تو میں تمہیں اس چیز کے بارے میں بتاؤں جس کا اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ان سے لڑیں گے۔“ میں نے کہا: کیا آپ نے یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، ربِ کعبہ کی قسم! تین مرتبہ فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16699]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16700
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَيْسَتْ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا قَضَى اللهُ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاتَّكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ، وَلَيْسَتْ لَهُ ذِرَاعٌ، عَلَى عَضُدِهِ مِثْلُ حَلَمَةِ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ"، فَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ وَتَتْرُكُونَ هَؤُلَاءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِي ذَرَارِيِّكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ، وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ، فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللهِ"، قَالَ سَلَمَةُ: فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلًا مَنْزِلًا، حَتَّى قَالَ: مَرَرْنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ، قَالَ: فَلَمَّا الْتَقَيْنَا وَعَلَى الْخَوَارِجِ يَوْمَئِذٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِيُّ، فَقَالَ لَهُمْ: أَلْقُوا الرِّمَاحِ، وَسُلُّوا سُيُوفَكُمْ مِنْ جُفُونِهَا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَا فَرَجَعْتُمْ، قَالَ: فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِهِمْ، وَسَلُّوا السُّيُوفَ، وَشَجَرَهُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ، قَالَ: فَقُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَمَا أُصِيبَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلَّا رَجُلَانِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: الْتَمِسُوا فِيهُمُ الْمُخْدَجَ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِنَفْسِهِ فَالْتَمَسَهُ فَوَجَدَهُ، فَقَالَ: صَدَقَ اللهُ، وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُبَيْدَةُ السَّلْمَانِيُّ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ ⦗٢٩٦⦘ الْمُؤْمِنِينَ آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَسَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِيْ وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلَاثًا وَهُوَ يَحْلِفُ لَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
زید بن وہب جہنی، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خوارج کے خلاف جنگ میں شریک تھے، فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے لوگو! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے، تمہاری قراءت ان کی قراءت کے مقابلے میں، تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابلے میں اور تمہارے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں کوئی چیز نہیں ہوں گے۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کی نماز ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گی۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ جو لشکر ان سے لڑے گا اگر وہ جان لے کہ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر ان کے لیے کیا فیصلہ فرمایا ہے تو وہ اسی پر بھروسا کر کے (دوسرے) اعمال چھوڑ بیٹھیں۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک شخص ہوگا جس کا بازو ہوگا مگر کلائی نہیں ہوگی اور اس کے بازو پر عورت کے پستان جیسا گوشت کا لوتھڑا ہوگا، جس پر سفید بال ہوں گے۔““ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم معاویہ اور اہل شام کی طرف جاؤ گے اور انہیں اپنے پیچھے اپنی اولاد اور مالوں میں چھوڑ جاؤ گے؟ اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں، کیونکہ انہوں نے خون بہایا ہے اور لوگوں کے مویشیوں پر حملے کیے ہیں؛ لہٰذا اللہ کا نام لے کر چلو۔“
سلمہ کہتے ہیں: زید بن وہب نے مجھے ایک ایک منزل بیان کی یہاں تک کہ کہا: ہم ایک پل سے گزرے۔ جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو اس دن خوارج کا سردار عبداللہ بن وہب راسبی تھا، اس نے ان سے کہا: نیزے پھینک دو اور تلواریں میانوں سے نکال لو، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہیں اللہ کا واسطہ دیں گے جیسے حروراء کے دن واسطہ دیا تھا تو تم لوٹ گئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے نیزے دور پھینک دیے اور تلواریں نکال لیں، اور لوگوں نے انہیں نیزوں سے مارا، تو وہ ایک دوسرے پر گر کر قتل ہوئے، اور اس دن (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے) لوگوں میں سے صرف 2 آدمی قتل ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان میں ناقص بازو والے آدمی کو تلاش کرو۔“ لوگوں نے تلاش کیا تو وہ نہ ملا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود گئے تو وہ مل گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ نے سچ فرمایا ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (حق) پہنچا دیا ہے۔“ اس پر عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرمانے لگے: ”اے امیر المؤمنین! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں، اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں!“ یہاں تک کہ انہوں نے تین مرتبہ قسم لی اور آپ ہر بار قسم اٹھاتے رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16700]
سلمہ کہتے ہیں: زید بن وہب نے مجھے ایک ایک منزل بیان کی یہاں تک کہ کہا: ہم ایک پل سے گزرے۔ جب ہمارا آمنا سامنا ہوا تو اس دن خوارج کا سردار عبداللہ بن وہب راسبی تھا، اس نے ان سے کہا: نیزے پھینک دو اور تلواریں میانوں سے نکال لو، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہیں اللہ کا واسطہ دیں گے جیسے حروراء کے دن واسطہ دیا تھا تو تم لوٹ گئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے نیزے دور پھینک دیے اور تلواریں نکال لیں، اور لوگوں نے انہیں نیزوں سے مارا، تو وہ ایک دوسرے پر گر کر قتل ہوئے، اور اس دن (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے) لوگوں میں سے صرف 2 آدمی قتل ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان میں ناقص بازو والے آدمی کو تلاش کرو۔“ لوگوں نے تلاش کیا تو وہ نہ ملا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود گئے تو وہ مل گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ نے سچ فرمایا ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (حق) پہنچا دیا ہے۔“ اس پر عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرمانے لگے: ”اے امیر المؤمنین! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں، اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں!“ یہاں تک کہ انہوں نے تین مرتبہ قسم لی اور آپ ہر بار قسم اٹھاتے رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16700]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16701
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالُوا: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، فَقَالَ: كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَصَفَ نَاسًا إِنِّي لَأَعْرِفُ صِفَتَهُمْ فِي هَؤُلَاءِ، يَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يُجَاوِزُ هَذَا مِنْهُمْ، وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ، أَبْغَضُ خَلْقِ اللهِ إِلَيْهِ، مِنْهُمْ أَسْوَدُ إِحْدَى يَدَيْهِ حَلَمَةُ ثَدْيٍ، فَلَمَّا قَتَلَهُمْ قَالَ: انْظُرُوا، فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُوا شَيْئًا، قَالَ: ارْجِعُوا، فَوَاللهِ مَا كَذَبْتُ، وَلَا كَذَبْتُ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ وَجَدُوهُ فِي خَرِبَةٍ، فَأَتَوْا بِهِ حَتَّى وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: وَأَنَا حَاضِرٌ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ وَقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16701]
حدیث نمبر: 16702
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقْسِمُ قَسْمًا، أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ، وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اعْدِلْ، فَقَالَ: وَيْحَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ، لَقَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ"، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ ائْذَنْ لَيَّ فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَقْرءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَجُوزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَنْظُرُ إِلَى نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يَنْظُرُ إِلَى رِصَافِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يَنْظُرُ إِلَى نَضِيِّهِ، وَهُوَ قِدْحُهُ، فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يَنْظُرُ إِلَى قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ، آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِحْدَى عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ وَمِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ النَّاسِ" ⦗٢٩٧⦘ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَاتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ، فَأَمَرَ بِذَلِكَ الرَّجُلَ فَالْتُمِسَ، فَأَتَى به حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهِ عَلَى نَعْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي نَعَتَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَالضَّحَّاكِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم فرما رہے تھے تو ذوالخویصرہ آیا، یہ بنو تمیم کا ایک شخص تھا، کہنے لگا: یا رسول اللہ! انصاف کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو برباد ہو! اگر میں عدل نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا؟ تو تو برباد ہو گیا، خسارے میں پڑ گیا، اگر میں عدل نہ کروں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: مجھے اجازت دیں میں اسے قتل کر دوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، اس کے ایسے اصحاب ہوں گے کہ تم جن کی نمازوں اور روزوں کے سامنے اپنی نمازوں اور روزوں کو حقیر سمجھو گے۔ قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے (نکل جاتا ہے)، اس کے پھل کو دیکھا جائے تو اس میں کچھ نہیں ملتا، پھر اس کے پٹھے کو دیکھا جائے تو اس میں کچھ نہیں ملتا، پھر اس کی لکڑی کو دیکھا جائے تو اس میں کچھ نہیں ملتا، پھر اس کے پروں کو دیکھا جائے تو ان میں کچھ نہیں ملتا، وہ گوبر اور خون سے آگے نکل چکا ہوتا ہے۔ ان کی نشانی ایک سیاہ فام شخص ہوگا جس کے ایک بازو پر عورت کے پستان کی طرح یا ہلتے ہوئے گوشت کے لوتھڑے کی طرح گوشت ہوگا، ان کا خروج اس وقت ہوگا جب لوگ تفرقہ میں پڑ جائیں گے۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور میں نے ان کے خلاف جہاد بھی کیا اور اس آدمی کو تلاش بھی کیا اور اس میں وہ صفات بھی دیکھیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16702]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16703
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ،: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، وَالْحَدِيثُ لِلْعَبَّاسِ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ، قَوْمٌ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ، وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى يَرْتَدَّ عَلَى فَوْقِهِ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ، يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللهِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْءٍ، مَنْ قَاتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللهِ مِنْهُمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا سِيمَاهُمْ؟ قَالَ:" التَّحْلِيقُ". وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، وَعَبْدِ الله بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَأَبِي بَكْرَةٍ، وَأَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ وَاسْتَدَلَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي قِتَالِ أَهْلِ الْبَغِيِّ بِقَوْلِ اللهِ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا، فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللهِ، فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ، وَأَقْسِطُوا، إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ} [الحجرات: ٩] .
سیدنا انس بن مالک اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”عنقریب میری امت میں اختلاف اور تفرقہ ہو گا۔ قول اچھا اور فعل برا ہو گا، قرآن پڑھیں گے لیکن حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے۔ وہ اس وقت تک واپس نہیں لوٹیں گے جب تک تیر اپنے سوفار پر واپس نہ آ جائے۔ وہ مخلوق میں بدترین لوگ ہوں گے۔ خوشخبری ہے ان کے لیے جو ان سے لڑتے ہوئے شہید ہوں یا انہیں قتل کریں۔ وہ کتاب اللہ کی طرف بلائیں گے حالانکہ خود اس پر نہیں ہوں گے۔ جو ان سے لڑے گا وہ اللہ کے ہاں بہت محبوب ہو گا۔“ پوچھا گیا: ان کی نشانی کیا ہو گی؟ فرمایا: ”گنجا ہونا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے باغیوں سے قتال کی دلیل اس آیت سے لی ہے: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ [سورة الحجرات: 9] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16703]
امام شافعی رحمہ اللہ نے باغیوں سے قتال کی دلیل اس آیت سے لی ہے: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ [سورة الحجرات: 9] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16703]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16704
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِد بْنِ شَرِيكٍ، ثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ، قَالَ: فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ، وَرَكِبَ حِمَارَهُ وَرَكِبَ مَعَهُ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: تَنَحَّ، فَقَدْ آذَانِي نَتْنُ حِمَارِكَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: وَاللهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ، قَالَ: فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَوْمُهُ، فَتَضَارَبُوا بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ، فَبَلَغَنَا إِنَّمَا نَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا} [الحجرات: ٩] الْآيَةُ. ⦗٢٩٨⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، كِلَاهُمَا عَنْ مُعْتَمِرٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ”کاش آپ عبداللہ بن ابی کے پاس چلیں،“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر روانہ ہوئے اور آپ کے ساتھ آپ کے کچھ صحابہ بھی سوار ہو کر گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا: ”مجھ سے دور رہیے، اللہ کی قسم! آپ کے گدھے کی بو نے مجھے تکلیف دی ہے۔“ تو مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا: ”اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گدھے کی بو تجھ سے کہیں زیادہ اچھی ہے۔“ اس پر دونوں طرف سے لوگ غصہ ہو گئے اور انہوں نے چھڑیاں اور جوتے اٹھا لیے اور ایک دوسرے کو مارنے لگے، تو ہمیں یہ بات پہنچی کہ یہ آیت: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا﴾ [سورة الحجرات: 9] اسی بارے میں نازل ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16704]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16705
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ، وَانْطَلَقَ النَّاسُ يَمْشُونَ، قَالَ: وَهِيَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ، فَذَكَرَهُ. قَالَ أَنَسٌ: فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا أُنْزِلَتْ فِيهِمْ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16705]
حدیث نمبر: 16706
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِمْلَاءً، ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزَّاهِدُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيِّ بْنِ رُسْتُمَ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ثَنَا جَدِّي، وَثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ،، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ،: أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي وَاللهِ لَقَدْ حَرَصْتُ أَنِ اتَّسَمْتُ بِسَمْتِكَ، وَأَقْتَدِي بِكَ فِي أَمْرِ فُرْقَةِ النَّاسِ، وَأَعْتَزِلَ الشَّرَّ مَا اسْتَطَعْتُ، وَإِنِّي أَقْرَأُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللهِ مُحْكَمَةً قَدْ أَخَذَتْ بِقَلْبِي، فَأَخْبِرْنِي عَنْهَا، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:" {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا، فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللهِ، فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ، وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ} [الحجرات: ٩] أَخْبِرْنِي عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: وَمَالَكَ وَلِذَلِكَ، انْصَرِفْ عَنِّي، فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنَّا سَوَادُهُ، أَقْبَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَقَالَ: مَا وَجِدْتُ فِي نَفْسِي مِنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَا وَجِدْتُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أُقَاتِلْ هَذِهِ الْفِئَةَ الْبَاغِيَةَ كَمَا أَمَرَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ. زَادَ الْقَطَّانُ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ حَمْزَةُ: فَقُلْنَا لَهُ: وَمَنْ تَرَى الْفِئَةَ الْبَاغِيَةَ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: ابْنُ الزُّبَيْرِ بَغَى عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ، فَأَخْرَجَهُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ، وَنَكَثَ عَهْدَهُمْ. فَفِي قَوْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ اسْتِعْمَالِ الْآيَةِ فِي قِتَالِ الْفِئَةِ الْبَاغِيَةِ.
حمزہ بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک عراقی شخص آیا اور کہا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم“! میری بڑی خواہش رہی ہے کہ لوگوں کے تفرقے کے معاملے میں آپ کا طریقہ اختیار کروں اور آپ کی پیروی کروں اور اپنی طاقت کے مطابق شر سے دور رہوں۔ میں کتاب اللہ سے یہ آیت پڑھتا ہوں جو محکم ہے اور اس نے میرے دل کو پکڑ لیا ہے۔ اس کے بارے میں مجھے بتائیے کہ اللہ کا یہ فرمان ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الحجرات: 9] کا کیا معنی ہے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: تجھے اس کی کیا ضرورت؟ چل جا۔ وہ چلا گیا یہاں تک کہ نظروں سے اوجھل ہو گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اس امت کے معاملات میں سے کسی چیز کا مجھے اپنے دل میں اتنا افسوس نہیں ہوا جتنا اس بات کا ہے کہ میں نے اس باغی گروہ سے قتال نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے۔ حمزہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: کون سا باغی گروہ؟ فرمایا: ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان پر بغاوت کی ہے، عہد کو توڑا ہے اور ان کو ان کے گھروں سے نکالا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16706]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 16707
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ ⦗٢٩٩⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَغِبَتْ عَنْهُ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا، فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللهِ} [الحجرات: ٩] ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس سے اس امت نے اتنی بے رغبتی کی ہو جتنی اس آیت سے کی ہے: ﴿وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا﴾ [سورة الحجرات: 9] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ البَغْيِ/حدیث: 16707]