السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3405. -- باب: قتل من ارتد عن الإسلام إذا ثبت عليه رجلا كان أو امرأة
-- باب: جو شخص اسلام سے پھر جائے (مرتد ہو جائے) جب اس پر یہ ثابت ہو جائے تو اسے قتل کرنے کا بیان، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔
حدیث نمبر: 16868
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي الْمَرْأَةِ تَكْفُرُ بَعْدَ إِسْلَامِهَا، قَالَ:" تُسْتَتَابُ، فَإِنْ تَابَتْ وَإِلَّا قُتِلَتْ".
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جو عورت مرتد ہو جائے تو اسے توبہ کا کہا جائے گا، اگر توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16868]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للزهري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16869
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَا يُقْتَلْنَ النِّسَاءُ إِذَا هُنَّ ارْتَدَدْنَ ⦗٣٥٤⦘ عَنِ الْإِسْلَامِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب عورتیں اسلام سے مرتد ہوں تو انھیں قتل نہ کیا جائے۔ [ضعیف] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16869]
حدیث نمبر: 16870
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ سُفْيَانَ عَنْ حَدِيثِ عَاصِمٍ فِي الْمُرْتَدَّةِ، فَقَالَ:" أَمَّا مِنْ ثِقَةٍ فَلَا.
عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سفیان رحمہ اللہ سے عاصم کی مرتدہ کے بارے میں حدیث کا سوال کیا تو فرمایا: یہ روایت ثقہ سے نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16870]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لسفيان»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16871
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: فَخَالَفَنَا بَعْضُ النَّاسِ فِي الْمُرْتَدَّةِ، وَكَانَتْ حُجَّتُهُ شَيْئًا رَوَاهُ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي الْمَرْأَةِ تَرْتَدُّ عَنِ الْإِسْلَامِ تُحْبَسُ وَلَا تُقْتَلُ، فَكَلَّمَنِي بَعْضُ مَنْ يَذْهَبُ هَذَا الْمَذْهَبَ، وَبِحَضْرَتِنَا جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ، فَسَأَلْنَاهُمْ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَمَا عَلِمْتُ مِنْهُمْ وَاحِدًا سَكَتَ أَنْ قَالَ: هَذَا خَطَأٌ، وَالَّذِي رَوَى هَذَا لَيْسَ مِمَّنْ يُثْبِتُ أَهْلُ الْحَدِيثِ حَدِيثَهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَتَلَ نِسْوَةً ارْتَدَدْنَ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَكَيْفَ لَمْ يُصَرْ إِلَيْهِ؟.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرتدہ کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کی دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ اسے قید کیا جائے، قتل نہ کیا جائے۔ اس مذہب کے قائلین میں سے بعض نے مجھ سے گفتگو کی جبکہ ہمارے پاس اہل علم حدیث کی ایک جماعت موجود تھی، تو ہم نے ان سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو میرے علم میں ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو یہ کہنے سے خاموش رہا ہو کہ یہ غلطی ہے، اور جس نے اسے روایت کیا ہے وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی حدیث کو محدثین ثابت مانتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اسلام سے مرتد ہونے والی کچھ عورتوں کو قتل کیا، تو اس کو کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16871]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للشافعي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16872
لَعَلَّهُ يُرِيدُ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" قَتَلَ امْرَأَةً، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ قِرْفَةَ، فِي الرِّدَّةِ" ⦗٣٥٥⦘ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
خالد بن یزید بن ابی مالک دمشقی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بتایا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ام قرفہ نامی عورت کو ارتداد کی وجہ سے قتل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16872]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16873
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا: أُمُّ قِرْفَةَ، كَفَرَتْ بَعْدَ إِسْلَامِهَا، فَاسْتَتَابَهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ تَتُبْ، فَقَتَلَهَا" قَالَ اللَّيْثُ: وَذَاكَ الَّذِي سَمِعْنَا، وَهُوَ رَأْيِي. قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَقَالَ لِي مَالِكٌ مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَمَا كَانَ لَنَا أَنْ نَحْتَجَّ بِهِ إِذْ كَانَ ضَعِيفًا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ. قَالَ الشَّيْخُ: ضَعْفُهُ فِي انْقِطَاعِهِ، وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ وَجْهَيْنِ مُرْسَلَيْنِ.
سعید بن عبدالعزیز تنوخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام قرفہ نامی عورت ارتداد کا شکار ہوئی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے توبہ کا کہا، اس نے انکار کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کروا دیا۔
امام لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے یہی سنا ہے اور یہی میری رائے ہے۔ ابن وہب کہتے ہیں: امام مالک رحمہ اللہ نے بھی مجھ سے یہی کہا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم اس سے دلیل نہیں لے سکتے تھے کیونکہ یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: اس کا ضعف اس کے منقطع ہونے کی وجہ سے ہے، اور ہم نے اسے دو مرسل سندوں سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16873]
امام لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے یہی سنا ہے اور یہی میری رائے ہے۔ ابن وہب کہتے ہیں: امام مالک رحمہ اللہ نے بھی مجھ سے یہی کہا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم اس سے دلیل نہیں لے سکتے تھے کیونکہ یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: اس کا ضعف اس کے منقطع ہونے کی وجہ سے ہے، اور ہم نے اسے دو مرسل سندوں سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16873]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16874
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ:" مَنْ كَفَرَ بَعْدَ إِيمَانِهِ طَائِعًا، فَإِنَّهُ يُقْتَلُ"، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: ذَلِكَ فِيمَنْ كَفَرَ بَعْدَ إِيمَانِهِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ جو بھی ایمان کے بعد اپنی مرضی سے کفر کرے اسے قتل کیا جائے گا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16874]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف