🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3408. -- باب: من قال: يحبس ثلاثة أيام
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک (مرتد کو) تین دن قید رکھا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16887
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلٌ مِنْ قِبَلِ أَبِي مُوسَى، فَسَأَلَهُ عَنِ النَّاسِ فَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ كَانَ فِيكُمْ مِنْ مُغَرِّبَةِ خَبَرٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، قَالَ: فَمَا فَعَلْتُمْ بِهِ؟ قَالَ: قَرَّبْنَاهُ فَضَرَبْنَا عُنُقَهُ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" فَهَلَّا حَبَسْتُمُوهُ ثَلَاثًا، وَأَطْعَمْتُمُوهُ كُلَّ يَوْمٍ رَغِيفًا، وَاسْتَتَبْتُمُوهُ، لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ أَوْ يُرَاجِعَ أَمْرَ اللهِ، اللهُمَّ إِنِّي لَمْ أَحْضُرْ وَلَمْ آمُرْ وَلَمْ أَرْضَ إِذْ بَلَغَنِي" قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْكِتَابِ: مَنْ قَالَ: لَا يُتَأَنَّى بِهِ زَعَمَ أَنَّ الْحَدِيثَ الَّذِي رُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْ حَبَسْتُمُوهُ ثَلَاثًا، لَيْسَ بِثَابِتٍ؛ لِأَنَّهُ لَا يُعْلَمُ مُتَّصِلًا، وَإِنْ كَانَ ثَابِتًا كَانَ لَمْ يُجْعَلْ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ قَبْلَ ثَلَاثٍ شَيْئًا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ رُوِيَ فِي التَّأَنِّي بِهِ حَدِيثٌ آخَرُ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ.
محمد بن عبد القاری کہتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے اس سے کچھ لوگوں کے بارے میں سوال کیا، پھر فرمایا: کیا تم میں سے کسی کے پاس کوئی عجیب خبر ہے؟ اس نے کہا: ہاں، ایک شخص نے اسلام لانے کے بعد کفر کر لیا۔ پوچھا: پھر تم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ اس نے کہا: ہم نے اسے قتل کر دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے اسے تین دن قید کیوں نہ کیا، اسے کھلاتے پلاتے اور اس پر اسلام پیش کرتے شاید وہ اللہ کے امر کی طرف لوٹ آتا۔ اے اللہ! نہ میں حاضر تھا، نہ میں نے اس کا حکم دیا اور نہ میں اس پر راضی ہوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ کتاب میں فرماتے ہیں: جو یہ کہتا ہے کہ اسے مہلت نہ دی جائے، وہ کہتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث: ”تم نے اسے تین دن قید کیوں نہ کیا“ ثابت نہیں، کیونکہ اس کا متصل ہونا معلوم نہیں، اور اگر ثابت بھی ہو تو انہوں نے تین دن سے پہلے قتل کرنے والے پر کوئی چیز لازم نہیں کی۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مہلت دینے کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک اور حدیث متصل سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16887]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16888
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلْنَا عَلَى تُسْتَرَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْفَتْحِ، وَفِي قُدُومِهِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ عُمَرُ:" يَا أَنَسُ مَا فَعَلَ الرَّهْطُ السِّتَّةُ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ⦗٣٦٠⦘ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ فَلَحِقُوا بِالْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: فَأَخَذْتُ بِهِ فِي حَدِيثٍ آخَرَ لِيَشْغَلَهُ عَنْهُمْ، قَالَ: مَا فَعَلَ الرَّهْطُ السِّتَّةُ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ فَلَحِقُوا بِالْمُشْرِكِينَ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ؟ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قُتِلُوا فِي الْمَعْرَكَةِ، قَالَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَهَلْ كَانَ سَبِيلُهُمْ إِلَّا الْقَتْلَ؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنْتُ أَعْرِضُ عَلَيْهِمْ أَنْ يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَبَوَا اسْتَوْدَعْتُهُمُ السِّجْنَ" وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ أَيْضًا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم تستر پر اترے۔۔۔ پھر انہوں نے فتح کے بارے میں لمبی حدیث ذکر فرمائی اور بتایا کہ ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے دریافت فرمایا: اے انس! ان بکر بن وائل کے چھ لوگوں کا کیا بنا جو مرتد ہوئے تھے؟ وہ کہتے ہیں: میں نے انہیں دوسری بات میں مشغول کرنا چاہا لیکن انہوں نے پھر یہی سوال کر لیا تو میں نے کہا: وہ معرکہ میں مارے گئے۔ انہوں نے کہا: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! کیا ان کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، میں ان پر اسلام پیش کرتا کہ وہ اسے قبول کر لیں، اگر وہ انکار کرتے تو میں انہیں قید میں ڈال دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُرْتَدِّ/حدیث: 16888]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں