🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3419. -- باب: ما جاء فيمن تزوج امرأة ولم يمسها ثم زنى
-- باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس سے صحبت نہ کی، پھر زنا کا ارتکاب کر لیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16945
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ: أَخْبَرَكَ أَبُوكَ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مَنْظُورِ بْنِ زَيَّانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَمَسَّهَا ثُمَّ زَنَى، فَقَالَ سَعِيدٌ: السُّنَّةُ فِيهِ أَنْ يُجْلَدَ وَلَا يُرْجَمَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کی شادی ہوئی، لیکن اپنی بیوی سے وطی نہیں کی، پھر اس سے زنا ہو جائے تو؟ فرمایا: اس میں سنت یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں، رجم نہ کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 16945]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16946
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي عِجْلٍ قَالَ: جِئْتُ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗٣٧٨⦘ بِصِفِّينَ، فَإِذَا رَجُلٌ فِي زَرْعٍ يُنَادِي: إِنِّي قَدْ أَصَبْتُ فَاحِشَةً، فَأَقِيمُوا عَلَيَّ الْحَدَّ، فَرَفَعْتُهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" هَلْ تَزَوَّجْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَخَلْتَ بِهَا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَجَلَدَهُ مِائَةً، وَأَغْرَمَهُ نِصْفَ الصَّدَاقِ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا.
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ بنو عجل کے ایک شخص نے مجھے بتایا کہ جنگ صفین میں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ اچانک ایک آدمی چیخنے لگا: میں نے زنا کر لیا ہے، مجھ پر حد قائم کی جائے۔ میں اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: شادی کی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: بیوی سے دخول بھی کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے سو کوڑے مارے اور بیوی کو نصف حق مہر دلوایا اور ان کے درمیان جدائی کروا دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 16946]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16947
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أََبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، وَأَبُو الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، قَالَا: أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَنَشَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ، قَالَ:" تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَّا امْرَأَةً فَزَنَى قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَأَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَرْأَةَ لَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ عِنْدَهُ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَمَّا التَّفْرِيقُ بَيْنَهُمَا بِالزِّنَا حُكْمًا، فَلَا نَقُولُ بِهِ لِمَا ذَكَرْنَا فِي كِتَابِ النِّكَاحِ مِنَ الْحُجَجِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا بِرِضَاهُ بِالتَّفْرِيقِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حنش بن معتمر کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی، پھر دخول سے پہلے اس نے کسی سے زنا کر لیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس پر حد لگا دی اور عورت نے بھی اس کے پاس نہ رہنا چاہا تو ان میں بھی جدائی کروا دی۔
شیخ فرماتے ہیں کہ ان کے درمیان جدائی حکماً تھی۔ ہم یہ نہیں کہتے اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ ان کی رضا مندی سے تفریق کرائی گئی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 16947]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16948
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: كَانُوا يَقُولُونَ" مَنْ تَزَوَّجَ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ أُحْصِنَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَزَنَى قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِامْرَأَتِهِ، فَلَا رَجْمَ عَلَيْهِ، وَالْمَرْأَةُ مِثْلُ ذَلِكَ، فَإِنْ دَخَلَ بِامْرَأَتِهِ سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ أَوْ أَكْثَرَ، فَزَنَى بَعْدَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ الرَّجْمُ، وَالْمَرْأَةُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَالْإِمَاءُ أُمَّهَاتُ الْأَوْلَادِ لَا يُوجِبْنَ الرَّجْمَ".
ابوزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے فقہائے اہل مدینہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی اس سے پہلے محصن نہ رہا ہو، شادی کرے، لیکن بیوی سے نہ ملا ہو، پھر اس سے زنا ہو جائے تو اس پر رجم نہیں ہے اور عورت بھی اسی طرح ہے، اور اگر وہ دن یا رات کی ایک گھڑی یا اس سے زیادہ اپنی بیوی سے مل چکا ہو، پھر اس کے بعد زنا کرے تو اس پر رجم ہے اور عورت بھی اسی طرح ہے، اور لونڈیاں جو اولاد کی مائیں ہوں (ان سے صحبت) رجم کو واجب نہیں کرتیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 16948]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں