🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3447. -- باب: ما جاء في نفي الرقيق
-- باب: غلاموں کو جلاوطن کرنے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17096
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ" أَنَّ عَبْدًا كَانَ يَقُومُ عَلَى رَقِيقِ الْخُمُسِ، وَإِنَّهُ اسْتَكْرَهَ جَارِيَةً مِنْ ذَلِكَ الرَّقِيقِ فَوَقَعَ بِهَا، فَجَلَدَهُ عُمَرُ وَنَفَاهُ، وَلَمْ يَجْلِدِ الْوَلِيدَةَ؛ لِأَنَّهُ اسْتَكْرَهَهَا.
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک غلام خمس کے غلاموں پر کھڑا تھا کہ وہ زبردستی ان غلاموں میں سے ایک لونڈی پر واقع ہو گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کوڑے لگائے اور جلا وطن کر دیا اور لونڈی کو کچھ نہ کہا؛ کیونکہ اس سے زبردستی ہوئی تھی۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی کو حد لگائی اور فدک کی طرف جلا وطن کر دیا، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ام ولد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اسے حد لگے گی، جلا وطن نہیں کی جائے گی۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حد بھی لگے گی، جلا وطن بھی ہو گی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 17096]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17097
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، كَانُوا يَقُولُونَ:" إِذَا زَنَى الْعَبْدُ أَوِ الْأَمَةُ فَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فَعَلَ ذَلِكَ جَلْدُ خَمْسِينَ، وَلَا تَغْرِيبَ عَلَى مَمْلُوكٍ، وَكَانُوا يَقُولُونَ: مَنْ أَصَابَ حَدًّا وَهُوَ مَمْلُوكٌ فَلَمْ يُقَمْ عَلَيْهِ حَتَّى عَتَقَ فَعَلَيْهِ حَدُّ الْمَمْلُوكِ".
ابو زناد رحمہ اللہ فقہائے اہل مدینہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب غلام یا لونڈی زنا کر لے تو ان میں سے ہر ایک پر پچاس کوڑے ہیں، جلا وطنی ان پر نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو غلامی کی حالت میں حد کا مستحق ہوا اور اس پر حد قائم نہ کی گئی یہاں تک کہ وہ آزاد ہو گیا تو اس پر غلام ہی کی حد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 17097]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں