🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3462. -- باب: ما جاء عن الصحابة رضي الله عنهم فيما يجب به القطع
-- باب: جن صورتوں میں ہاتھ کاٹنا واجب ہوتا ہے، ان کے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی آثار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17190
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" قَطَعَ يَدَ سَارِقٍ فِي بَيْضَةٍ مِنْ حَدِيدٍ ثَمَنُ رُبْعِ دِينَارٍ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کا ہاتھ ایک «بَيْضَةِ حَدِيدٍ» ”لوہے کے خود“ کی چوری میں کاٹا جس کی قیمت ربع دینار تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17190]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17191
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِسَارِقٍ قَدْ سَرَقَ ثَوْبًا، قَالَ: فَقَالَ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" قَوِّمْهُ، فَقَوَّمَهُ ثَمَانِيَةَ دَرَاهِمَ، فَلَمْ يَقْطَعْهُ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کپڑا چور لایا گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو کہا، اس کی قیمت لگائی گئی تو آٹھ درہم بنی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ نہ کاٹا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17191]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17192
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ الشَّرِيفُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ:" لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي الدِّينَارِ أَوِ الْعَشَرَةِ دَرَاهِمَ" فَكِلَاهُمَا مُنْقَطِعٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ”ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مگر ایک دینار یا دس دراہم میں۔“ [ضعیف]
یہ دونوں روایتیں منقطع ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17192]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17193
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ بَعْضُ النَّاسِ: قَدْ رُوِّينَا قَوْلَنَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: قُلْتُ: رَوَاهُ الزَّعَافِرِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَصْحَابُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا، وَحَدِيثُ جَعْفَرٍ عَنْ عَلِيٍّ أَوْلَى أَنْ يَثْبُتَ مِنْ حَدِيثِ الزَّعَافِرِيِّ، قَالَ: فَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي عَشَرَةِ دَرَاهِمَ"، قُلْنَا: فَقَدْ رَوَى الثَّوْرِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي عَزَّةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَطَعَ سَارِقًا فِي خَمْسَةِ دَرَاهِمَ" وَهَذَا أَقْرَبُ أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا عَنْ عَبْدِ اللهِ مِنْ حَدِيثِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: فَكَيْفَ لَمْ تَأْخُذُوا بِهَذَا؟ قُلْنَا: هَذَا حَدِيثٌ لَا يُخَالِفُ حَدِيثَنَا، إِذَا قَطَعَ فِي ثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ قَطَعَ فِي خَمْسَةٍ أَوْ أَكْثَرَ، قَالَ: فَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمْ يَقْطَعْ فِي ثَمَانِيَةِ دَرَاهِمَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: رِوَايَتُهُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَيْرُ صَحِيحَةٍ، وَقَدْ رَوَى مَعْمَرٌ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا، فَلَمْ نَرَ أَنْ نَحْتَجَّ بِهِ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ بِثَابِتٍ، وَلَيْسَ لِأَحَدٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّةٌ، وَعَلَى الْمُسْلِمِينَ اتِّبَاعُ أَمْرِهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَلَا إِلَى حَدِيثٍ صَحِيحٍ ذَهَبَ مَنْ خَالَفَنَا، وَلَا إِلَى مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ مَنْ تَرَكَ الْحَدِيثَ وَاسْتَعْمَلَ ظَاهِرَ الْقُرْآنَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَمَّا رِوَايَةُ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ الزَّعَافِرِيِّ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْقَطْعِ، فَلَمْ أَقِفْ عَلَيْهَا بَعْدُ، وَإِنَّمَا رِوَايَتُهُ فِي أَقَلِّ الصَّدَاقِ، وَقَدْ أَنْكَرَهَا عَلَيْهِ عُلَمَاءُ عَصْرِهِ، فَإِنْ كَانَ قَدْ رَوَى أَيْضًا فِي الْقَطْعِ فَهُوَ مُنْكَرٌ، وَدَاوُدُ لَا يُحْتَجُّ بِمِثْلِهِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ: مُظْلِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِمِثْلِهِ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے کہا: ہم نے اپنا قول سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اسے زعافری نے شعبی سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، جبکہ جعفر بن محمد کے اصحاب نے ہمیں ان کے والد کے واسطے سے خبر دی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاتھ کاٹنا ربع دینار یا اس سے زیادہ میں ہے“، اور جعفر کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت زعافری کی حدیث سے زیادہ ثبوت کے لائق ہے۔ اس نے کہا: ہم نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مگر دس درہموں میں۔“ ہم نے کہا: ثوری نے عیسیٰ بن ابی عزہ سے، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ دراہم میں چور کا ہاتھ کاٹا“، اور یہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے صحیح ہونے کے زیادہ قریب ہے بنسبت مسعودی کی اس حدیث کے جو وہ قاسم سے اور وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ اس نے کہا: پھر تم نے اسے کیوں نہیں لیا؟ ہم نے کہا: یہ حدیث ہماری حدیث کے خلاف نہیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دراہم میں ہاتھ کاٹا تو پانچ یا اس سے زیادہ میں بھی کاٹیں گے۔ اس نے کہا: ہم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے آٹھ درہموں میں ہاتھ نہیں کاٹا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت صحیح نہیں، اور معمر نے عطاء خراسانی سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے: ”ہاتھ کاٹنا ربع دینار یا اس سے زیادہ میں ہے“، لیکن ہم نے اس سے دلیل لینا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ وہ ثابت نہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں کسی کی کوئی حجت نہیں، مسلمانوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پیروی لازم ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہماری مخالفت کرنے والا نہ تو کسی صحیح حدیث کی طرف گیا اور نہ اس موقف کی طرف جس کی طرف وہ لوگ گئے جنہوں نے حدیث کو چھوڑ کر قرآن کے ظاہر پر عمل کیا۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رہی داود اودی زعافری کی عامر شعبی سے اور ان کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہاتھ کاٹنے کے بارے میں روایت، تو وہ مجھے اب تک نہیں ملی، ان کی روایت تو صرف کم از کم مہر کے بارے میں ہے، اور ان کے زمانے کے علماء نے اس پر ان کا انکار کیا ہے، پس اگر انہوں نے ہاتھ کاٹنے کے بارے میں بھی روایت کی ہو تو وہ منکر ہے، اور داود جیسے راوی سے دلیل نہیں لی جاتی۔ اور یہ ایک اور غیر واضح سند سے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اور وہ ضعیف ہے، اس جیسی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17193]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17194
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ، ثنا أَبِي، ثنا عَاصِمٌ أَظُنُّهُ ابْنَ عُمَرَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْيَسَعِ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ النَّزَّالِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" ⦗٤٥٥⦘ لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي عَشَرَةِ دَرَاهِمَ، وَلَا يَكُونُ الْمَهْرُ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ" هَذَا إِسْنَادٌ يَجْمَعُ مَجْهُولِينَ وَضُعَفَاءَ وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنُ مَسْعُودٍ فَهُوَ مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَخَالَفَهُ الْمَسْعُودِيُّ فَرَوَاهُ مُرْسَلًا كَمَا مَضَى، وَالَّذِي رَوَى فِي مُعَارَضَتِهِ لَيْسَ بِأَضْعَفَ مِنْهُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مگر دس درہموں میں اور حق مہر دس درہموں سے کم میں نہیں ہوتا۔
یہ سند مجہول اور ضعیف راویوں پر مشتمل ہے۔ اور رہی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث تو وہ منقطع ہے، اسے ابوحنیفہ سے، انہوں نے قاسم بن عبدالرحمن سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے ابن مسعود سے روایت کیا گیا ہے، اور مسعودی نے ان کی مخالفت کی اور اسے مرسلاً روایت کیا جیسا کہ گزر چکا، اور جو اس کے مقابلے میں روایت کی گئی ہے وہ اس سے زیادہ ضعیف نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17194]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17195
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي عَزَّةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ وَأَمَّا حَدِيثُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ ذَكَرْنَا انْقِطَاعَهُ مِنْ جِهَةِ أَنَّهُ إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْهُ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ لَمْ يُدْرِكْ أَحَدًا مِنَ الصَّحَابَةِ وَرُوِّينَا فِيمَا مَضَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي الْقَطْعِ فِي خَمْسَةِ دَرَاهِمَ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈھال کے بدلے ہاتھ کاٹا جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔
اور رہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی حدیث تو ہم اس کا منقطع ہونا ذکر کر چکے ہیں، کیونکہ اسے ان سے صرف قاسم بن عبدالرحمن نے روایت کیا ہے اور انہوں نے صحابہ میں سے کسی کو نہیں پایا۔ اور ہم پہلے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے پانچ درہموں میں ہاتھ کاٹنا نقل کر چکے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17195]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17196
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْفَلَّاسُ وَكَانَ حَافِظًا، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا تُقْطَعُ الْخَمْسُ إِلَّا فِي خَمْسٍ" ⦗٤٥٦⦘ وَرَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پانچ درہموں میں ہاتھ کاٹا جائے گا، ایک اور روایت حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17196]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17197
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولَانِ:" الْقَطْعُ فِي أَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ فَصَاعِدًا" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَا إِنَّمَا قَالَاهُ حِينَ صَارَ صَرْفُ رُبْعِ دِينَارٍ بِأَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ، وَكَذَلِكَ مَا رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعَنْ غَيْرِهِ فِي الْخَمْسِ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ عِنْدَ تَغَيُّرِ الصَّرْفِ، وَالْأَصْلُ فِي النِّصَابِ هُوَ رُبْعُ دِينَارٍ بِدَلَالَةِ مَا مَضَى مِنَ السُّنَّةِ الثَّابِتَةِ.
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”چار یا اس سے زیادہ درہموں پر ہاتھ کاٹا جائے گا“، شیخ فرماتے ہیں: ”ممکن ہے کہ ان دونوں نے یہ بات اس وقت کہی ہو جب ربع دینار کی قیمت چار درہم ہو گئی تھی، اور اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ سے پانچ (درہموں) کے بارے میں جو ہم نے روایت کیا ہے، ممکن ہے وہ قیمت بدلنے کے وقت ہو، اور نصاب میں اصل ربع دینار ہی ہے، جیسا کہ گزری ہوئی ثابت سنت اس پر دلالت کرتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17197]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17198
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" مَا طَالَ عَلَيَّ، وَمَا نَسِيتُ: الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نہ میں بھولی ہوں اور نہ مجھ پر کوئی لمبا عرصہ گزرا ہے، ہاتھ ربع دینار یا اس سے زیادہ میں کاٹا جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17198]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں