السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3476. -- باب: ما جاء في الإقرار بالسرقة والرجوع عنه قال عطاء: إذا اعترف مرة قطع
-- باب: چوری کا اقرار کرنے اور پھر اس سے رجوع کر لینے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان، عطاء فرماتے ہیں: ”جب وہ ایک مرتبہ اعتراف کر لے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 17275
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ سَرَقَ شَمْلَةً، فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا سَرَقَ، فَقَالَ:" لَا إِخَالُهُ سَرَقَ" فَقَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ سَرَقْتُ، قَالَ:" اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ احْسِمُوهُ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ"، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ:" تُبْ إِلَى اللهِ"، قَالَ: تُبْتُ إِلَى اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَابَ اللهُ عَلَيْكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چادر چوری کی تھی، لوگوں نے کہا: اس نے چوری کی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال نہیں کہ اس نے چوری کی ہو۔“ اس نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! یہ میں نے چوری کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اس کو داغ دو، پھر میرے پاس لے کر آؤ۔“ اس کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تُبْ إِلَى اللَّهِ» ”اللہ سے توبہ کر۔“ اس نے کہا: میں نے اللہ سے توبہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تَابَ اللَّهُ عَلَيْكَ» ”اللہ نے تیری توبہ قبول کی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17275]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 17276
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْذِرِ الْبَزَّارِ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ، رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَنَّ سَارِقًا سَرَقَ مَتَاعًا، فَأَخَذُوا مَعَهُ الْمَتَاعَ فَاعْتَرَفَ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ:" لَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطَعَ، فَلَمَّا قُطِعَ قَالَ:" تُبْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالَ: أَتُوبُ إِلَى اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ" وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَاقَ، وَقَالَ: عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ، وَقَالَ فِي مَتْنِهِ: وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ.
ابو امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کوئی سامان چوری کیا۔ وہ چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا، اس نے اعتراف کیا، اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ» ”میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے۔“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ تین مرتبہ فرمائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ پھر جب ہاتھ کاٹا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ سے توبہ کر۔“ اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما!“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17276]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17277
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عُمَرَ، أُتِيَ بِسَارِقٍ فَقَالَ: وَاللهِ مَا سَرَقْتُ قَطُّ قَبْلَهَا، فَقَالَ:" كَذَبْتَ مَا كَانَ اللهُ لِيُسْلِمَ عَبْدًا عِنْدَ أَوَّلِ ذَنْبِهِ، فَقَطَعَهُ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک چور لایا گیا، چور نے کہا: میں نے اس سے پہلے کبھی چوری نہیں کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو جھوٹ کہہ رہا ہے، اللہ تعالیٰ کے لائق نہیں کہ وہ کسی بندے کا گناہ پہلی مرتبہ ظاہر کر دے، پھر اس کا ہاتھ کاٹا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17277]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17278
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ ⦗٤٨٠⦘ يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ،" أَنَّهُ أُتِيَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ سَرَقَتْ، فَقَالَ لَهَا: سَرَقْتِ؟ قُولِي: لَا، فَقَالَتْ: لَا، فَخَلَّى عَنْهَا".
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک سیاہ لونڈی لائی گئی جس نے چوری کی تھی، انہوں نے اس سے کہا: کیا تو نے چوری کی ہے؟ کہہ دے: نہیں۔ اس نے کہا: نہیں، پس انہوں نے اس کو چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17278]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17279
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أُتِيَ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ بِامْرَأَةٍ سَرَقَتْ جَمَلًا، فَقَالَ:" أَسَرَقْتِ؟ قُولِي: لَا".
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس نے ایک اونٹ چوری کیا تھا۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو نے چوری کی ہے؟ کہہ دے: نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17279]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف