🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3481. جماع أبواب ما لا قطع فيه -- باب: لا قطع على المختلس، ولا على المنتهب، ولا على الخائن
ان صورتوں کے ابواب کا جامع بیان جن میں ہاتھ کاٹنا واجب نہیں ہے۔ -- باب: اچک لینے والے، لوٹ مار کرنے والے اور خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17300
وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ،" أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ، فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَاذَتْ بِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُ يَدَهَا" فَقُطِعَتْ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، ثنا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ شَبِيبٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کر لی، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس نے آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی پناہ لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔“ چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17300]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17301
وَرَوَاهُ مَسْعُودُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيهِ: سُرِقَتْ قَطِيفَةٌ مِنْ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أُمِّهِ عَائِشَةَ بِنْتِ مَسْعُودِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهَا مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا سَرَقَتِ الْمَرْأَةُ تِلْكَ الْقَطِيفَةَ مِنْ بَيْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمْنَا ذَلِكَ، وَكَانَتِ ⦗٤٨٨⦘ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَجِئْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمْنَاهُ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي عَرْضِ الْفِدَاءِ وَالشَّفَاعَةِ وَالْقَطْعِ. فَأَمَّا رِوَايَةُ اللَّيْثِ عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي الْعَارِيَةِ فَإِنَّمَا رَوَاهَا أَبُو صَالِحٍ عَنِ اللَّيْثِ، وَخَالَفَهُ ابْنُ وَهْبٍ وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَرِوَايَتُهُمَا أَوْلَى بِالصِّحَّةِ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي صَالِحٍ، وَأَمَّا رِوَايَةُ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَهِيَ مُنْفَرِدَةٌ، وَالْعَدَدُ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ وَقَدْ رَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ امْرَأَةً مَخْزُومِيَّةً كَانَتْ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا: أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، فَذَكَرَهُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَوْ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، وَرَوَاهُ ابْنُ غَنَجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ الشَّيْخُ الْعَالِمُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: فَالْحَدِيثُ مُخْتَلَفٌ عَلَى نَافِعٍ فِي إِسْنَادِهِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ رِوَايَةَ مَنْ رَوَى الْعَارِيَةَ عَلَى تَعْرِيفِهَا، وَالْقَطْعُ كَانَ سَبَبَ سَرِقَتِهَا الَّتِي نُقِلَتْ فِي سَائِرِ الرِّوَايَاتِ فَلَا تَكُونُ مُخْتَلِفَةً، وَيَكُونُ تَقْدِيرُ الْخَبَرِ أَنَّ امْرَأَةً مَخْزُومِيَّةً كَانَتْ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ، كَمَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ، سَرَقَتْ، كَمَا رَوَاهُ غَيْرُهُ، فَقُطِعَتْ، يَعْنِي بِالسَّرِقَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا مسعود بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے ایک عورت نے وہ چادر چوری کر لی تو ہمیں یہ بات بہت بھاری لگی، وہ قریش کی ایک عورت تھی، چنانچہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (سفارش کی) بات کی۔ پھر انہوں نے فدیہ پیش کرنے، سفارش اور ہاتھ کاٹنے کے بارے میں حدیث ذکر کی۔
رہی لیث کی یونس سے، زہری سے عاریت والی روایت، تو اسے لیث سے صرف ابو صالح نے روایت کیا ہے، اور ابن وہب اور ابن مبارک نے ان کی مخالفت کی ہے، اور ان دونوں کی روایت ابو صالح کی روایت سے زیادہ صحیح ہونے کے لائق ہے۔ اور زہری سے معمر کی روایت میں وہ منفرد ہیں، اور ایک راوی کے مقابلے میں جماعت حفظ کے زیادہ لائق ہے۔ معمر نے اسے ایوب سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا ہے کہ ایک مخزومی عورت سامان عاریتاً لے کر انکار کر دیتی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ امام ابوداود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے جویریہ نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر سے یا صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا، اور ابن غنج نے نافع سے، انہوں نے صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا۔
پس اس حدیث کی سند میں نافع پر اختلاف ہے۔ اور یہ احتمال ہے کہ جن راویوں نے عاریت کا ذکر کیا انہوں نے اس عورت کی پہچان کے لیے کیا ہو، اور ہاتھ کاٹنا اس کی اس چوری کی وجہ سے تھا جو باقی تمام روایات میں منقول ہے، اس طرح روایات میں اختلاف نہیں رہتا، اور خبر کا مطلب یہ ہو گا کہ ایک مخزومی عورت جو سامان عاریتاً لے کر انکار کر دیتی تھی، جیسا کہ معمر نے روایت کیا، اس نے چوری کی، جیسا کہ دوسروں نے روایت کیا، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، یعنی چوری کی وجہ سے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17301]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں