السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3487. -- باب: المحارب يتوب
-- باب: محارب (ڈاکو یا باغی) کے توبہ کر لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q17319
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ} [المائدة: 34] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ حِكَايَةً عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، قَالَ: كُلُّ مَا كَانَ لِلَّهِ مِنْ حَدٍّ سَقَطَ بِتَوْبَتِهِ، وَكُلُّ مَا كَانَ لِلْآدَمِيِّينَ لَمْ يَبْطُلْ، قَالَ: وَبِهَذَا أَقُولُ.
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ﴾ ”مگر وہ لوگ جو تمہارے ان پر قابو پانے سے پہلے توبہ کر لیں۔“ [سورة المائدة: 34]
امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے بعض اصحاب سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے کہا: ”ہر وہ حد جو اللہ تعالیٰ کا حق ہو، وہ اس (مجرم) کی توبہ سے ساقط ہو جاتی ہے، اور ہر وہ حق جو انسانوں کا ہو، وہ باطل نہیں ہوتا۔“
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”اور میں بھی یہی کہتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: Q17319]
امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے بعض اصحاب سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے کہا: ”ہر وہ حد جو اللہ تعالیٰ کا حق ہو، وہ اس (مجرم) کی توبہ سے ساقط ہو جاتی ہے، اور ہر وہ حق جو انسانوں کا ہو، وہ باطل نہیں ہوتا۔“
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”اور میں بھی یہی کہتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: Q17319]
حدیث نمبر: 17319
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" مَنْ حَارَبَ فَهُوَ مُحَارَبٌ قَالَ سَعِيدٌ: فَإِنْ أَصَابَ دَمًا قُتِلَ، وَإِنْ أَصَابَ دَمًا وَمَالًا صُلِبَ، فَإِنَّ الصَّلْبَ أَشَدُّ، وَإِذَا أَصَابَ مَالًا وَلَمْ يُصِبْ دَمًا قُطِعَتْ يَدُهُ وَرِجْلُهُ لِقَوْلِهِ: {أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ} [المائدة: ٣٣] ، فَإِنْ تَابَ فَتَوْبَتُهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللهِ، وَيُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ".
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو ڈاکہ زنی کرے وہی جنگ کرنے والا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اگر صرف قتل کیا ہے تو اسے بھی قتل کیا جائے۔ اگر قتل کے ساتھ مال بھی لوٹا ہے تو اسے قتل اور پھر سولی پر لٹکایا جائے۔ اگر صرف مال لوٹا ہے، قتل نہیں کیا تو اس کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں۔ اگر توبہ کرلے تو یہ اس کے اور اللہ کے درمیان ہے، حد قائم کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17319]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17320
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ" فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ الْحُدُودَ ثُمَّ يَجِيءُ تَائِبًا، قَالَ: تُقَامُ عَلَيْهِ الْحُدُودُ".
ہشام رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جو حد کو پہنچ جائے اور توبہ کر لے، تو بھی اس پر حد قائم کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17320]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17321
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ" فِي الرَّجُلِ إِذَا قَطَعَ الطَّرِيقَ وَأَغَارَ ثُمَّ رَجَعَ تَائِبًا، أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ، وَتَوْبَتُهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ" وَرُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَبُولِ تَوْبَةِ الْمُحَارِبِ بِخِلَافِ قَوْلِ هَؤُلَاءِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جو ڈاکہ زنی کرے اور غارت گری کرے تو اس پر توبہ کے باوجود حد قائم کی جائے گی، باقی اللہ اور اس کا معاملہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17321]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17322
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ⦗٤٩٤⦘ يَعْنِي أَبَا عَمْرٍو الْحِيرِيَّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُثْمَانَ اسْتَخْلَفَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا صَلَّى الْفَجْرَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ مُرَادٍ فَقَالَ: هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ التَّائِبِ، أَنَا فُلَانٌ ابْنُ فُلَانٍ، مِمَّنْ حَارَبَ اللهَ وَرَسُولَهُ، جِئْتُ تَائِبًا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيَّ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: جَاءَ تَائِبًا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيْهِ، فَلَا يُعْرَضُ إِلَّا بِخَيْرٍ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس فجر کی نماز کے بعد ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں ڈاکو تھا قبل اس کے کہ آپ مجھے پکڑیں میں خود اللہ سے توبہ کر چکا ہوں، تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: واقعی تو پہلے آ گیا ہے، اور اس کے ساتھ بھلائی کا معاملہ فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17322]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف