السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3499. -- باب: الأوعية
-- باب: (نبیذ بنانے والے) برتنوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 17476
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ وَالْأَبْيَضِ وَالْأَحْمَرِ.
سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہرے، سرخ، سفید تمام مٹکوں کی نبیذ“ سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17476]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17477
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ النَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ" وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ، فَإِذَا لَمْ يَجِدُوا لَهُ سِقَاءً يُنْبَذُ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ، وَأَنَا أَسْمَعُ، لِأَبِي الزُّبَيْرِ: مِنْ بِرَامٍ؟ قَالَ: مِنْ بِرَامٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَأَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَغَيْرِهِمَا.
ابن عمر اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کدو، تارکول اور درخت کی جڑ کے مٹکے میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔“
اور جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزہ نہ ملتا تو پتھر کے برتن میں بنائی جاتی۔ لوگوں میں سے کسی نے ابو الزبیر سے پوچھا اور میں سن رہا تھا: کیا تراشے ہوئے پتھر کا؟ انہوں نے کہا: تراشے ہوئے پتھر کا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17477]
اور جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزہ نہ ملتا تو پتھر کے برتن میں بنائی جاتی۔ لوگوں میں سے کسی نے ابو الزبیر سے پوچھا اور میں سن رہا تھا: کیا تراشے ہوئے پتھر کا؟ انہوں نے کہا: تراشے ہوئے پتھر کا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17477]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17478
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنُ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَاذَانَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَخْبِرْنَا بِمَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَوْعِيَةِ، أَخْبِرْنَا بِلُغَتِكُمْ وَفَسِّرْهُ لَنَا بِلُغَتِنَا، قَالَ: نَهَى عَنِ الْحَنْتَمِ، وَهِيَ الْجَرَّةُ، وَنَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ، وَهِيَ الْمُقَيَّرُ، وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَهُوَ الْقَرْعُ، وَنَهَى عَنِ النَّقِيرِ، وَهِيَ أَصْلُ النَّخْلَةِ تُنْقَرُ نَقْرًا وَتُنْسَجُ نَسْجًا، وَأَمَرَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الْأَسْقِيَةِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنَّى وَبِنْدَارٍ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ.
زاذان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ہمیں ان برتنوں کے بارے میں بتائیے جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، اپنی لغت میں بتائیے اور پھر ہماری لغت میں اس کی وضاحت فرمائیں۔ انہوں نے فرمایا: ”مٹی کے گھڑے، تارکول لگے گھڑے، کدو کے برتن اور کھجور کی جڑ کو درمیان سے خالی کر کے بنائے گئے مٹکے سے منع فرمایا ہے اور حکم دیا کہ مشکیزوں میں نبیذ بنایا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17478]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17479
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كَانَ أَبُو بَكْرَةَ يُنْتَبَذُ لَهُ ⦗٥٣٨⦘ فِي جَرَّةٍ، فَقَدِمَ أَبُو بَرْزَةَ مِنْ غَيْبَةٍ كَانَ غَابَهَا فَنَزَلَ بِمَنْزِلِ أَبِي بَكْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ مَنْزِلَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي إِنْكَارِ مَا نُبِذَ لَهُ فِي جَرَّةٍ، وَقَوْلِهِ لِامْرَأَتِهِ: وَدِدْتُ أَنَّكِ جَعَلْتِيهِ فِي سِقَاءٍ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرَةَ حِينَ جَاءَ قَالَ: قَدْ عَرَفْنَا الَّذِي نُهِينَا عَنْهُ، نُهِينَا عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ، فَأَمَّا الدُّبَّاءُ فَإِنَّا مَعْشَرَ ثَقِيفٍ بِالطَّائِفِ، كُنَّا نَأْخُذُ الدُّبَّاءَ فَنَخْرِطُ فِيهَا عَنَاقِيدَ الْعِنَبِ، ثُمَّ نَدْفِنُهَا، ثُمَّ نَتْرُكُهَا حَتَّى تَهْدُرَ ثُمَّ تَمُوتُ، وَأَمَّا النَّقِيرُ فَإِنَّ أَهْلَ الْيَمَامَةِ كَانُوا يَنْقِرُونَ أَصْلَ النَّخْلَةِ فَيَشْدَخُونَ فِيهِ الرُّطَبَ وَالْبُسْرَ، ثُمَّ يَدَعُونَهُ حَتَّى يَهْدُرَ ثُمَّ يَمُوتُ، وَأَمَّا الْحَنْتَمُ فَجِرَارٌ كَانَ يُحْمَلُ إِلَيْنَا فِيهَا الْخَمْرُ، وَأَمَّا الْمُزَفَّتُ فَهِيَ هَذِهِ الْأَوْعِيَةُ الَّتِي فِيهَا هَذَا الزِّفْتُ قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، وَقَدْ قَالَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِنَّ الْمَعْنَى فِي النَّهْيِ عَنِ الِانْتِبَاذِ فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ أَنَّ النَّبِيذَ فِيهَا يَكُونُ أَسْرَعَ إِلَى الْفَسَادِ وَالِاشْتِدَادِ حَتَّى يَصِيرَ مُسْكِرًا، وَهُوَ فِي الْأَسْقِيَةِ أَبْعَدُ مِنْهُ، ثُمَّ وَرَدَتِ الرُّخْصَةُ فِي الْأَوْعِيَةِ كُلِّهَا إِذَا لَمْ يَشْرَبُوا مُسْكِرًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبدالرحمن بن جوشن کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مٹی کے گھڑے میں نبیذ بنایا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ ایک سفر سے واپس آئے اور اپنے گھر جانے سے پہلے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے آئے۔ انہوں نے مٹی کے مٹکے کی ممانعت کی حدیث بیان کی اور ان کی بیوی کو کہا کہ مجھے امید ہے کہ آئندہ آپ پینے والے برتنوں میں ہی نبیذ بنائیں گی۔ جب سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ آئے تو فرمایا کہ جن برتنوں سے منع فرمایا ہے وہ ہم جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «الدُّبَّاءُ»، «النَّقِيرُ»، «الْحَنْتَمُ» اور «الْمُزَفَّتُ» “ سے منع فرمایا ہے۔ «الدُّبَّاءُ»: ہم اہل ثقیف بڑے کدو کے بیج نکال کر اس میں انگور ڈال کر زمین میں دفنا دیتے تھے اور جب اس میں جوش پیدا ہو جاتا تو انہیں نکال کر مسل لیتے تھے اور «النَّقِيرُ» اہل یمامہ کا برتن ہے کہ وہ کھجور کی جڑ کو درمیان سے کھوکھلی کر کے اس میں تر اور کچی کھجور ملا کر چھوڑ دیتے تھے حتیٰ کہ ان میں جوش پیدا ہو جاتا، پھر ان کو پیس لیتے اور «الْحَنْتَمُ» مٹکے میں ہمیں شراب دی جاتی اور «الْمُزَفَّتُ» تارکول کے برتن کو کہتے ہیں۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے اور اہل علم میں سے ایک جماعت کا خیال ہے کہ ان برتنوں میں منع اس لیے کیا تھا کہ ان میں نشہ جلدی پیدا ہو جاتا ہے اور دوسرے برتنوں میں دیر سے اور ان برتنوں کے استعمال میں رخصت بھی ہے کہ جب نشہ پیدا ہونے سے پہلے چیز استعمال کر لی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17479]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح