السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3524. -- باب:: الرجل يجد مع امرأته الرجل فيقتله
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے اور اسے قتل کر دے۔
حدیث نمبر: 17644
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ كَمَا مَضَى.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو دیکھوں تو اسے چھوڑ دوں اور چار گواہ تلاش کروں؟ فرمایا: ”ہاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17644]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17645
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ الرَّجُلُ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا" قَالَ سَعْدٌ: بَلَى وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ" ⦗٥٨٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت دی! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17645]
حدیث نمبر: 17646
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَالَ رَجُلٌ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ، وَإِنْ تَكَلَّمَ بِهِ جَلَدْتُمُوهُ، لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَاتِ اللِّعَانِ، ثُمَّ جَاءَ الرَّجُلُ فَقَذَفَ امْرَأَتَهُ، فَلَاعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ:" عَسَى أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا"، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کی رات مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو دیکھوں اور اسے قتل کر دوں تو تم مجھے قتل کر دو گے، اگر اس پر تہمت لگاؤں تو حدِ قذف لگاؤ گے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جا کر یہ بتاتا ہوں، تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور یہ بات ذکر کی تو آیتِ لعان نازل ہوئی۔ پھر ایک شخص نے آ کر اپنی بیوی پر الزام لگایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان لعان کروایا اور فرمایا: ”یہ سیاہ گھنگریالے بالوں والا بچہ جنے گی“ پھر اس نے ویسا ہی بچہ جنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17646]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17647
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرِجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ خَيْبَرِيٍّ، وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ، أَوْ فَقَتَلَهُمَا، فَأُشْكِلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ الْقَضَاءُ، فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ يَسْأَلُ لَهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَسَأَلَ أَبُو مُوسَى عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ عَلِيٌّ: إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِي، عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَتُخْبِرَنِّي، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: كَتَبَ إِلِيَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ،" إِنْ لَمْ يَأْتِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَلْيُعْطَ بِرُمَّتِهِ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل شام میں سے کسی نے اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے کو دیکھا تو ان دونوں کو قتل کر دیا؛ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس فیصلے میں بڑے پریشان ہوئے تو انہوں نے یہ بات سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجی کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے جو ہماری زمین میں نہیں ہے، تو انہوں نے کہا: مجھ سے معاویہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں ابو الحسن یہ کہتا ہوں کہ اگر وہ چار گواہ نہیں لاتا تو اسے قصاص دلایا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17647]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17648
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا ثَابِتٌ، وَحُمَيْدٌ، وَمَطَرٌ، وَعَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مِنَ الْعَرَبِ نَزَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ فَذَبَحَ لَهُمْ شَاةً، وَلَهُ ابْنَتَانِ فَقَالَ لِإِحْدَاهُمَا: اذْهَبِي فَاحْتَطِبِي، قَالَ: فَذَهَبَتْ فَلَمَّا تَبَاعَدَتْ تَبِعَهَا أَحَدُهُمْ فَرَاوَدَهَا عَنْ نَفْسِهَا فَقَالَتِ: اتَّقِ اللهَ، وَنَاشَدَتْهُ فَأَبَى عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: رُوَيْدَكَ حَتَّى أَسْتَصْلِحَ لَكَ، فَذَهَبَتْ وَنَامَ، فَجَاءَتْ بِصَخْرَةٍ فَفَلَقَتْ رَأْسَهُ فَقَتَلَتْهُ، فَجَاءَتْ إِلَى أَبِيهَا فَأَخْبَرَتْهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: اسْكُتِي، لَا تُخْبِرِي أَحَدًا، فَهَيَّأَ الطَّعَامَ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: كُلُوا، فَقَالُوا: حَتَّى يَجِيءَ صَاحِبُنَا، فَقَالَ: كُلُوا، فَإِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ، فَلَمَّا أَكَلُوا حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْأَمْرِ كَيْتَ ⦗٥٨٦⦘ وَكَيْتَ، فَقَالُوا: يَا عَدُوَّ اللهِ قَتَلْتَ صَاحِبَنَا، وَاللهِ لَنَقْتُلَنَّكَ بِهِ، فَارْتَفَعُوا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ:" مَا كَانَ اسْمُ صَاحِبِكُمْ؟" فَقَالُوا: غَفَلٌ، قَالَ:" هُوَ كَاسْمِهِ، وَأَبْطَلَ دَمَهُ" فَهَذَا مُرْسَلٌ.
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کے پاس عرب میں سے کچھ لوگ آئے، اس کی دو بیٹیاں تھیں۔ اس نے بکری ذبح کی اور ایک بیٹی سے کہا کہ لکڑیاں اکٹھی کرو، وہ گئی تو ان مہمانوں میں سے ایک شخص اس کے پیچھے گیا تو اس لڑکی نے خطرہ محسوس کیا، وہ کہنے لگی: اللہ سے ڈر، اور اسے قسم دی، لیکن اس نے انکار کر دیا تو اس نے کہا: ٹھہرو تو میں تمہارے لیے تیار ہو جاؤں، وہ چلی گئی اور وہ شخص سو گیا۔ رات کے پہر میں وہ لڑکی پتھر لائی اور اس شخص کے سر کو کچل کر اسے قتل کر دیا اور اپنے باپ کو آکر ساری بات بتا دی تو اس کے والد نے کہا: خاموش رہو، کسی کو نہ بتانا۔ کھانا لگاؤ، انہوں نے کہا: کھاؤ، تو مہمانوں نے کہا: ہمارا ساتھی آجائے، تو وہ کہنے لگا: آپ کھاؤ وہ آجائے گا۔ جب انہوں نے کھا لیا اور اللہ کا شکر ادا کر لیا تو اس نے سارا معاملہ انہیں بتا دیا اور وہ کہنے لگے: اے اللہ کے دشمن! تو نے ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے، ہم تجھے قتل کریں گے، تو وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اسے لے آئے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اس کا نام کیا تھا؟ کہا: «غَفْلٌ» ”غفل“، فرمایا: وہ اپنے نام جیسا تھا اور اس کے خون کو باطل قرار دے دیا۔
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17648]
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17648]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17649
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا أَضَافَ نَاسًا مِنْ هُذَيْلٍ، فَذَهَبَتْ جَارِيَةٌ لَهُمْ تَحْتَطِبُ فَأَرَادَهَا رَجُلٌ مِنْهُمْ عَنْ نَفْسِهَا، فَرَمَتْهُ بِفِهْرٍ فَقَتَلَتْهُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" ذَاكَ قَتِيلٌ اللهِ وَاللهِ لَا يُودَى أَبَدًا".
عبید بن عمیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ہذیل کے کچھ لوگوں کی مہمانی کی، ان کی ایک لونڈی لکڑیاں اکٹھی کرنے گئی تو ان میں سے ایک آدمی نے اس سے برائی کا ارادہ کیا، اس نے اسے پتھر مار کر قتل کر دیا۔ یہ معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ اللہ کا مارا ہوا ہے، اللہ کی قسم! اس کی دیت کبھی ادا نہیں کی جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17649]
حدیث نمبر: 17650
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: هَذَا عِنْدَنَا مِنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ الْبَيِّنَةَ قَامَتْ عِنْدَهُ عَلَى الْمَقْتُولِ، أَوْ عَلَى أَنَّ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ أَقَرَّ عِنْدَهُ بِمَا يُوجِبُ لَهُ أَنْ يَقْتُلَ الْمَقْتُولَ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہمارے نزدیک بھی ہے کہ مقتول پر حجت قائم ہو گئی تھی اور اس کے ولی نے وجہ قتل کو قبول کر لیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17650]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ للشافعي»
الحكم على الحديث: صحيح