السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3567. -- باب: ما على الوالي من أمر الجيش
-- باب: لشکر کے معاملات میں حاکم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 17907
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ قَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَأَنَا أَرَى أَنَّ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ يُرِيدُ بِهِ اللهَ وَمَا عِنْدَهُ، فَيُخَيَّلُ إِلِيَّ بِأَخَرَةٍ أَنَّ قَوْمًا قَرءُوهُ يُرِيدُونَ بِهِ النَّاسَ وَيُرِيدُونَ بِهِ الدُّنْيَا، أَلَا فَأَرِيدُوا اللهَ بِأَعْمَالِكُمْ، ألَا فَأَرِيدُوا اللهَ بِأَعْمَالِكُمْ، أَلَا إِنَّمَا كُنَّا نَعْرِفُكُمْ إِذْ يَتَنَزَّلُ الْوَحْيُ، وَإِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَإِذْ نَبَّأَنَا اللهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ، فَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ وَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّمَا نَعْرِفُكُمْ بِمَا أَقُولُ لَكُمْ، أَلَا مَنْ رَأَيْنَا مِنْهُ خَيْرًا ظَنَنَّا بِهِ خَيْرًا وَأَحْبَبْنَاهُ عَلَيْهِ، وَمَنْ رَأَيْنَا مِنْهُ شَرًّا ظَنَنَّا بِهِ شَرًّا وَأَبْغَضْنَاهُ عَلَيْهِ، سَرَائِرُكُمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ، أَلَا إِنَّمَا أَبْعَثُ عُمَّالِي لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَلِيُعَلِّمُوكُمْ سُنَّتَكُمْ، وَلَا أَبْعَثُهُمْ لِيَضْرِبُوا ظُهُورَكُمْ، وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ، أَلَا فَمَنْ رَابَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلِيَّ، فَوَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَأُقِصَّنَّ مِنْهُ". فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ بَعَثْتَ عَامِلًا مِنْ عُمَّالِكَ فَأَدَّبَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ رَعِيَّتِهِ فَضَرَبَهُ إِنَّكَ لَمُقِصُّهُ مِنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَأُقِصَّنَّ مِنْهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِصُّ مِنْ نَفْسِهِ، أَلَا لَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ فَتُذِلُّوهُمْ، وَلَا تَمْنَعُوهُمْ حُقُوقَهُمْ فَتُكْفِرُوهُمْ، وَلَا تُجَمِّرُوهُمْ فَتَفْتِنُوهُمْ، وَلَا تُنْزِلُوهُمُ الْغِيَاضَ فَتُضَيِّعُوهُمْ.
سیدنا ابو فراس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ لوگوں کو وعظ کر رہے تھے کہ ”اے لوگو! مجھ پر ایسا زمانہ گزرا ہے کہ میں نے لوگوں کو دیکھا وہ قرآن پڑھتے تھے، بدلہ اللہ کی رضا اور اجر چاہتے تھے۔ پھر آخر میں مجھے یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ کچھ لوگوں نے قرآن پڑھا ہے مگر لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اور بدلے میں دنیا کا مال حاصل کرنے کے لیے۔ خبردار! تلاوتِ قرآن سے اللہ کی رضا طلب کرو۔ خبردار! اپنے اعمال سے اللہ کو راضی کرو۔ خبردار! ہم تمہیں جانتے ہیں، جب وحی نازل ہو رہی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے بارے میں خبریں دے دی تھیں۔ اب وحی ختم ہو گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اب ہم تمہیں صرف اسی سے پہچانتے ہیں جو میں تم سے کہہ رہا ہوں۔ خبردار! جس میں ہم بھلائی دیکھتے ہیں اور بھلا خیال کرتے ہیں اور اس کو پسند کرتے ہیں، اور جس میں برائی دیکھتے ہیں اس کو برا سمجھتے ہیں اور اس پر ناراض ہوتے ہیں، اور تمہارے راز اللہ اور تمہارے درمیان ہیں۔ خبردار! ہم عمال کو اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ وہ تمہیں دین اور سنت سکھائیں، اس لیے نہیں بھیجتے کہ وہ تمہاری پیٹھ پر ماریں اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارا مال لے لیں۔ خبردار! اگر کسی کو ان باتوں میں شک ہو تو وہ ہم تک پہنچائے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے! میں اس سے بدلہ لوں گا۔“ تو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے: ”اے امیر المؤمنین! اگر آپ کسی عامل کو بھیجیں اور وہ ادب سکھانے کے لیے کسی کو مارے تو کیا اس سے بھی بدلہ لیں گے؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں! اللہ کی قسم میں اس سے بھی بدلہ لوں گا۔ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کو قصاص کے لیے پیش کرتے تھے۔ خبردار! مسلمانوں کو مار کر ذلیل نہ کرو، ان کے حقوق روک کر انہیں ناشکری (کفر) پر مجبور نہ کرو، ان کو گھر جانے سے روک کر فتنے میں مبتلا نہ کرو اور دشوار گزار جگہ اتار کر مسلمانوں کو ہلاک نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17907]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17908
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَهُ:" إِذَا حَاصَرْتُمُ الْمَدِينَةَ كَيْفَ تَصْنَعُونَ؟". قَالَ: نَبْعَثُ الرَّجُلَ إِلَى الْمَدِينَةِ ونَصْنَعُ لَهُ هَنَةً مِنْ جُلُودٍ. قَالَ:" أَرَأَيْتَ إِنْ ⦗٧٣⦘ رُمِيَ بِحَجَرٍ؟". قَالَ: إِذًا يُقْتَلَ. قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ تَفْتَتِحُوا مَدِينَةً فِيهَا أَرْبَعَةُ آلَافِ مُقَاتِلٍ بِتَضْيِيعِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب تم کسی شہر کا محاصرہ کرتے ہو تو کیا طریقہ اختیار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم شہر کی طرف ایک آدمی کو بھیجتے ہیں اور اسے چمڑے کی ڈھال دیتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اگر اسے پتھر پھینک کر مارا جائے تو؟ عرض کیا: پھر وہ مر جائے گا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اللہ کی قسم! ایک مسلمان کا ضیاع چار ہزار لڑائی کے قابل آدمیوں کے شہر کی فتح کے بدلہ میں بھی پسند نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17908]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17909
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ سَنَةٌ غَلَا فِيهَا السَّمْنُ، فَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْكُلُ الزَّيْتَ فَيُقَرْقِرُ بَطْنُهُ". وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى قَالَ:" كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْكُلُهُ، فَلَمَّا قَلَّ قَالَ:" لَا آكُلُهُ حَتَّى يَأْكُلَهُ النَّاسُ". قَالَ: فَكَانَ يَأْكُلُ الزَّيْتَ فَيُقَرْقِرُ بَطْنُهُ". قَالَ ابْنُ مُكْرَمٍ فِي رِوَايَتِهِ:" فَقَالَ:" قَرْقِرْ مَا شِئْتَ فَوَاللهِ لَا آكُلُ السَّمْنَ حَتَّى يَأْكُلَهُ النَّاسُ". ثُمَّ قَالَ لِي:" اكْسِرْ حَرَّهُ عَنِّي بِالنَّارِ". فَكُنْتُ أَطْبُخُهُ لَهُ فَيَأْكُلُهُ.
حضرت زید بن اسلم رحمہ اللہ کے والد فرماتے ہیں: مسلمانوں پر ایک ایسا سال آیا جس میں گھی کی قیمت بڑھ گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ زیتون کا تیل کھاتے تھے جس سے ان کا پیٹ بولتا (گڑگڑاتا) تھا، اور یحییٰ کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھی کھاتے تھے۔ جب وہ کم ہو گیا تو انہوں نے کہا: اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک لوگ نہ کھائیں۔ چنانچہ آپ تیل کھایا کرتے تھے جس سے آپ کا پیٹ بولتا تھا۔ ابن مکرم کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پیٹ کو مخاطب کر کے کہا: جتنا چاہے بول، اللہ کی قسم! میں اس وقت تک گھی نہیں کھاؤں گا جب تک لوگ نہ کھائیں۔ پھر انہوں نے مجھے کہا: اس کی گرمی کو آگ سے ختم کرو، میں آپ کے لیے اس کو پکاتا تھا اور آپ کھاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17909]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17910
حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ طَاوُسٍ، وَعِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ حَفْصَةَ، وَابْنَ مُطِيعٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَلَّمُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: لَوْ أَكَلْتَ طَعَامًا طَيِّبًا كَانَ أَقْوَى لَكَ عَلَى الْحَقِّ. قَالَ:" أَكُلُّكُمْ عَلَى هَذَا الرَّأْيِ؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ إِلَّا نَاصِحٌ، وَلَكِنْ تَرَكْتُ صَاحِبِيَّ عَلَى جَادَّةٍ فَإِنْ تَرَكْتُ جَادَّتَهُمَا لَمْ أُدْرِكْهُمَا فِي الْمَنْزِلِ". قَالَ:" وَأَصَابَ النَّاسَ سَنَةٌ فَمَا أَكَلَ عَامَئِذٍ سَمْنًا وَلَا سَمِينًا حَتَّى أَحْيَا النَّاسُ.
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا، ابن مطیع اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور آپ سے کہا کہ اگر آپ اچھا کھانا کھائیں تو یہ آپ کو حق کا کام کرنے کے لیے مضبوط کرے گا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم سب کی یہی رائے ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ نے فرمایا: میں جانتا ہوں تم میرے خیر خواہ ہو لیکن میں اپنے دونوں ساتھیوں کے راستے کو چھوڑ دوں اور اگر میں نے ان کا طریقہ چھوڑ دیا تو میں قیامت کے دن ان کو نہیں پا سکوں گا۔ لوگوں پر تنگی کا سال آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پورا سال گھی نہیں کھایا اور نہ بھنا ہوا موٹا گوشت، حتیٰ کہ لوگ جان میں آگئے اور ترو تازہ ہوگئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17910]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17911
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْهُذَلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: لَمَّا كَانَتِ الرَّمَادَةُ أَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ شَدِيدٌ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ رَكِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَابَّةً لَهُ، فَرَأَى فِي رَوْثِهَا شَعِيرًا فَقَالَ:" وَاللهِ لَا أَرْكَبُهَا حَتَّى يَحْسُنَ حَالُ النَّاسِ".
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قحط کے سال مسلمانوں کو سخت فاقے لاحق ہوئے۔ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر سوار تھے تو انہوں نے اس کی لید میں جَو کا ایک دانہ دیکھا تو کہا: اللہ کی قسم! میں اس پر سوار نہیں ہوں گا حتیٰ کہ لوگوں کی حالت بہتر ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17911]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17912
وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنَّ عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ أَذْرَبِيجَانَ بِخَبِيصٍ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَيَشْبَعُ الْمُسْلِمُونَ فِي رِحَالِهِمْ مِنْ هَذَا؟". فَقَالَ الرَّسُولُ: اللهُمَّ لَا. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَا أُرِيدُهُ". وَكَتَبَ إِلَى عُتْبَةَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ كَدِّكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أَبِيكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أُمِّكَ، فَأَشْبِعْ مَنْ قِبَلَكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي رِحَالِهِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْهُ فِي رَحْلِكَ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا ⦗٧٤⦘ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، فَذَكَرَهُ.
ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ نے کچھ حلوہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آذربائیجان سے بھیجا تو آپ رضی اللہ عنہ نے قاصد سے پوچھا: ”کیا مسلمان اس سے سیر ہو گئے ہیں؟“ تو اس نے کہا: ”نہیں۔“ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے یہ نہیں چاہیے۔“ اور عتبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ”یہ تیری کوشش و محنت سے نہیں ہے نہ تیرے ماں باپ کی کوشش سے ہے۔ پہلے ان مسلمانوں کو سیر کر جو تیرے پاس ہیں، اپنے گھر اتنا دے جتنا تو نے اپنے گھر کے لیے رکھا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17912]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 17913
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ:" مِمَّنْ أَنْتَ؟". قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ مِصْرَ. قَالَتْ:" كَيْفَ وَجَدْتُمُ ابْنَ حُدَيْجٍ فِي غَزَاتِكُمْ هَذِهِ؟". قُلْتُ: خَيْرَ أَمِيرٍ، مَا يَنْفُقُ لِرَجُلٍ مِنَّا فَرَسٌ وَلَا بَعِيرٌ إِلَّا أَبْدَلَ لَهُ مَكَانَهُ بَعِيرًا، وَلَا غُلَامٌ إِلَّا أَبْدَلَ لَهُ مَكَانَهُ غُلَامًا، فَقَالَتْ:" إِنَّهُ لَا يَمْنَعُنِي قَتْلُهُ أَخِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ، وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ". وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَسَّانَ الْعَطَّارُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.
عبدالرحمن بن شماسہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انہوں نے پوچھا: تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا: مصری ہوں، تو انہوں نے پوچھا: تم نے اپنی لڑائیوں میں ابن حُدیج کو کیسا پایا؟ میں نے کہا: وہ اچھا امیر ہے، جنگ میں جس کا گھوڑا یا اونٹ کام آیا، وہ اس کا بدلہ اونٹ سے دیتا ہے اور اگر کسی کا غلام کام آیا (مارا گیا) تو وہ بدلہ میں اس کو غلام دیتا ہے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس کا میرے بھائی کو قتل کرنا مجھے وہ حدیث بیان کرنے سے نہیں روکتا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ» ”اے اللہ! جو شخص مسلمانوں کے معاملات کا وارث ہو، کسی طرح بھی ممکن ہو ان پر نرمی کرے، تو اے اللہ! اس پر نرمی کر، اور جو ان پر مشقت کا ذریعہ بن جائے، اے اللہ! تو اس پر مشقت ڈال دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17913]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17914
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي حِينَ حَاصَرَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا -:" إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ". فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: كَيْفَ نَذْهَبُ وَلَمْ نَفْتَحْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَاغْدُوا لِلْقِتَالِ". فَغَدَوْا عَلَيْهِمْ، فَأَصَابَتْهُمْ جِرَاحَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا". فَأَعْجَبَهُمْ ذَلِكَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس وقت طائف والوں کا محاصرہ کیا گیا اور نتیجتاً کچھ حاصل نہ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم ان شاء اللہ کل واپس جائیں گے“ تو مسلمانوں نے کہا: کیسے واپس جائیں ہم کامیاب تو ہوئے نہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح لڑائی کے لیے تیار رہو“ صبح انہوں نے ان پر حملہ کیا تو ان کو زخم لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم کل واپس جائیں گے“ تو لوگوں نے اس کو پسند کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17914]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح