🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3633. -- باب: فتح مكة حرسها الله تعالى
-- باب: فتح مکہ کا بیان، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18283
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ أَبِي قُحَافَةَ وَابْنَةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِهِ كَانَتْ تَقُودُهُ يَوْمَ الْفَتْحِ، حَتَّى إِذَا هَبَطَتْ بِهِ إِلَى الْأَبْطَحِ لَقِيَتْهَا الْخَيْلُ وَفِي عُنُقِهَا طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرِقٍ، فَاقْتَطَعَهُ إِنْسَانٌ مِنْ عُنُقِهَا، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى جَاءَ بِأَبِيهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي إِسْلَامِهِ، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتِهِ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ وَالْإِسْلَامِ طَوْقَ أُخْتِي. فَوَاللهِ مَا أَجَابَهُ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ فَمَا أَجَابَهُ أَحَدٌ فَقَالَ: يَا أُخَيَّةُ احْتَسِبِي طَوْقَكِ فَوَاللهِ إِنَّ الْأَمَانَةَ الْيَوْمَ فِي النَّاسِ لَقَلِيلٌ. وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُمْ لَمْ يَغْنَمُوا شَيْئًا، وَأَنَّهَا فُتِحَتْ صُلْحًا إِذْ لَوْ فُتِحَتْ عَنْوَةً لَكَانَتْ وَمَا مَعَهَا غَنِيمَةً، وَلَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَطْلُبُ طَوْقَهَا.
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما ابوقحافہ اور ان کی ایک بیٹی کے بارے میں، جو ان کی سب سے چھوٹی اولاد میں سے تھی، فرماتی ہیں کہ وہ فتح کے دن انہیں (ہاتھ پکڑ کر) لے جا رہی تھی۔ جب وہ انہیں لے کر ابطح میں اتری تو اسے گھڑ سوار ملے، اس کے گلے میں چاندی کا ہار تھا۔ کسی انسان نے اس کی گردن سے اسے کاٹ لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کو لے کر آئے۔ ان کے اسلام کے بارے میں حدیث ذکر کی۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمانے لگے: ”میں تمہیں اللہ اور اسلام کی قسم دیتا ہوں، میری بہن کا ہار (واپس کر دو)۔“ اللہ کی قسم! کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر انہوں نے دوسری مرتبہ کہا، تب بھی کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر فرمایا: ”اے پیاری بہن! اپنے ہار پر اللہ سے اجر کی امید رکھو، اللہ کی قسم! آج لوگوں میں امانت داری کم ہے۔“
یہ دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے غنیمت حاصل نہ کی، بلکہ صلح کی فتح تھی۔ اگر زبردستی فتح ہوتی تو وہ اور اس کے پاس جو کچھ تھا غنیمت ہوتا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے ہار کا مطالبہ نہ کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18283]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18284
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَنْزِلُ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ:" وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ؟". وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ وَلَمْ يَرِثْهُ عَلِيٌّ وَلَا جَعْفَرٌ شَيْئًا؛ لِأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ كَمَا مَضَى.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اپنے مکہ کے گھر میں رہیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑے ہیں؟“ کیونکہ عقیل اور طالب ابو طالب کے وارث تھے، علی اور جعفر رضی اللہ عنہما ان کے وارث نہیں تھے کیونکہ یہ دونوں مسلمان تھے، عقیل اور طالب دونوں کافر تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18284]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں