🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3653. -- باب: من كره شراء أرض الخراج
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے خراجی زمین خریدنے کو ناپسند کیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18400
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سُفْيَانَ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا تَشْتَرُوا رَقِيقَ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ خَرَاجٍ يُؤَدِّي بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ، وَأَرْضِيهِمْ فَلَا تَبْتَاعُوهَا، وَلَا يُقِرَّنَّ أَحَدُكُمْ بِالصَّغَارِ بَعْدَ إِذْ نَجَّاهُ اللهُ مِنْهُ". قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: أَرَادَ فِيمَا نَرَى أَنَّهُ إِذَا كَانَتْ لَهُ مَمَالِيكُ وَأَرْضٌ وَأَمْوَالٌ ظَاهِرَةٌ كَانَتْ أَكْثَرَ لِجِزْيَتِهِ، وَكَانَتْ سُنَّةُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِمْ إِنَّمَا كَانَتْ يَضَعُ الْجِزْيَةَ عَلَى قَدْرِ الْيَسَارِ وَالْعُسْرِ، فَلِهَذَا كَرِهَ أَنْ يُشْتَرَى رَقِيقُهُمْ، وَأَمَّا شِرَاءُ الْأَرْضِ فَإِنَّهُ ذَهَبَ فِيهِ إِلَى الْخَرَاجِ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، أَلَا تَرَاهُ يَقُولُ: وَلَا يُقِرَّنَّ أَحَدُكُمْ بِالصَّغَارِ بَعْدَ إِذْ نَجَّاهُ اللهُ مِنْهُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَقَدْ رَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْدَ عُمَرَ رِجَالٌ مِنْ أَكَابِرِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَكَانَتْ لَهُ أَرْضٌ بِرَاذَانَ، وَخَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ وَغَيْرُهُمَا.
ابو عیاض حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ تم ذمی شخص سے غلام نہ خریدو، کیونکہ وہ جزیہ دینے والے لوگ ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے ادا کرتے ہیں اور ان کی زمینیں بھی نہ خریدو اور تم میں سے کوئی اپنے آپ کو ذلت میں کیوں ڈالتا ہے جب اللہ رب العزت نے اس کو نجات دے دی ہے۔
ابو عبید فرماتے ہیں: ہمارے خیال میں ان کی مراد یہ تھی کہ جب ذمی کے پاس غلام، زمین اور ظاہری مال ہوں تو اس کا جزیہ زیادہ ہوتا ہے، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ان پر آسانی اور تنگی کے حساب سے جزیہ مقرر کرتے تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے ان کے غلاموں کو خریدنا ناپسند کیا، اور زمین کے خریدنے میں ان کی نظر خراج پر تھی، انہوں نے ناپسند کیا کہ یہ خراج مسلمانوں پر ہو۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ وہ فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی اپنے آپ کو ذلت میں نہ ڈالے جب کہ اللہ نے اس کو نجات دے دی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد کبارِ صحابہ، جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود، جن کی زمین راذان میں تھی، اور خباب بن ارت رضی اللہ عنہما وغیرہ شامل ہیں، انہوں نے اس بارے میں رخصت دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18400]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18401
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عُبَيْدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ شَيْئًا، وَيَقُولُ: عَلَيْهَا خَرَاجُ الْمُسْلِمِينَ".
قتادہ رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ جزیہ کی زمین میں سے کچھ بھی خریدنے کو ناپسند کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مسلمانوں کا جزیہ ان کے ذمہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18401]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18402
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: اشْتَرَيْتُ أَرْضًا. قَالَ: الشِّرَاءُ حَسَنٌ. قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أُعْطِي مِنْ كُلِّ جَرِيبِ أَرْضٍ دِرْهَمًا وَقَفِيزًا مِنْ طَعَامٍ. قَالَ: وَلَا تَجْعَلْ فِي عُنُقِكَ صَغَارًا.
کلیب بن وائل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے زمین خریدی ہے، تو انہوں نے فرمایا: زمین خریدنا اچھا ہے۔ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ میں ہر زمین کی کھیتی کے عوض ایک درہم اور ایک کھانے کا قفیز (پیمانہ) ادا کرتا ہوں، تو انہوں نے کہا کہ ذلت کو اپنے گلے میں نہ ڈالو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 18402]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں