السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3723. -- باب: الفرق بين نكاح نساء من يؤخذ منه الجزية وذبائحهم
-- باب: جن لوگوں سے جزیہ لیا جاتا ہے ان کی عورتوں سے نکاح اور ان کے ذبیحوں کے درمیان فرق کا بیان۔
حدیث نمبر: 18663
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَجُوسِ هَجَرَ يَعْرِضُ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ، فَمَنْ أَسْلَمَ قَبِلَ مِنْهُ، وَمَنْ أَبَى ضُرِبَتْ عَلَيْهِ الْجِزْيَةُ عَلَى أَنْ لَا تُؤْكَلَ لَهُمْ ذَبِيحَةٌ وَلَا تُنْكَحَ لَهُمُ امْرَأَةٌ. ⦗٣٢٤⦘ هَذَا مُرْسَلٌ، وَإِجْمَاعُ أَكْثَرِ الْمُسْلِمِينَ عَلَيْهِ يُؤَكِّدُهُ وَلَا يَصِحُّ مَا رُوِيَ عَنْ حُذَيْفَةَ فِي نِكَاحِ مَجُوسِيَّةٍ، وَالرِّوَايَةُ فِي نَصَارَى بَنِي تَغْلِبَ عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَرِدُ فِي مَوْضِعِهَا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
حسن بن محمد بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے مجوس کو اسلام کی دعوت دی۔ جس نے اسلام قبول کر لیا تو درست وگرنہ دوسروں پر جزیہ لاگو کر دیا اور فرمایا: ”ان کا ذبح شدہ جانور نہ کھایا جائے اور ان کی عورتوں سے نکاح نہ کیا جائے۔“
یہ روایت مرسل ہے، اور اکثر مسلمانوں کا اس پر اجماع اس کی تائید کرتا ہے، اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مجوسی عورت سے نکاح کے بارے میں جو روایت کیا گیا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18663]
یہ روایت مرسل ہے، اور اکثر مسلمانوں کا اس پر اجماع اس کی تائید کرتا ہے، اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مجوسی عورت سے نکاح کے بارے میں جو روایت کیا گیا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18663]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف