السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3756. -- باب: ما جاء في مدة الهدنة
-- باب: جنگ بندی (صلح) کی مدت کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: Q18809
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَتِ الْهُدْنَةُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ عَشْرَ سِنِينَ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان (قریش) کے درمیان جنگ بندی (کا معاہدہ) دس سال کے لیے تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: Q18809]
حدیث نمبر: 18809
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، فِي قِصَّةِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ: فَدَعَتْ قُرَيْشٌ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو فَقَالُوا: اذْهَبْ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَصَالِحْهُ، وَلَا يَكُونَنَّ فِي صُلْحِهِ إِلَّا أَنْ يَرْجِعَ عَنَّا عَامَهُ هَذَا، لَا تُحَدِّثُ الْعَرَبُ أَنَّهُ دَخَلَهَا عَلَيْنَا عَنْوَةً. فَخَرَجَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو مِنْ عِنْدِهِمْ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا قَالَ:" قَدْ أَرَادَ الْقَوْمُ الصُّلْحَ حِينَ بَعَثُوا هَذَا الرَّجُلَ". فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَرَى بَيْنَهُمَا الْقَوْلُ حَتَّى وَقَعَ الصُّلْحُ عَلَى أَنْ تُوضَعَ الْحَرْبُ بَيْنَهُمَا عَشْرَ سِنِينَ، وَأَنْ يَأْمَنَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، وَأَنْ يَرْجِعَ عَنْهُمْ عَامَهُمْ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَدِمَهَا خَلَّوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَكَّةَ فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا، وَأَنَّهُ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا بِسِلَاحِ الرَّاكِبِ، وَالسُّيُوفِ فِي الْقُرُبِ، وَأَنَّهُ مَنْ أَتَانَا مِنْ أَصْحَابِكَ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهِ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ، وَأَنَّهُ مَنْ أَتَاكَ مِنَّا بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهِ رَدَدْتَهُ، وَأَنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ عَيْبَةٌ مَكْفُوفَةٌ، وَأَنَّهُ لَا إِسْلَالَ وَلَا إِغْلَالَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما حدیبیہ کے قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ قریش نے سہیل بن عمرو کو بلایا اور کہا: اس شخص یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور اس سے صلح کر لو، اور اس صلح میں بس یہ بات ضرور ہو کہ وہ اس سال ہمارے پاس سے واپس چلے جائیں، تاکہ عرب یہ باتیں نہ کریں کہ وہ زبردستی ہم پر (مکہ میں) داخل ہو گئے۔ سہیل بن عمرو ان کے پاس سے نکلا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آتے دیکھا تو فرمایا: ”جب ان لوگوں نے اس شخص کو بھیجا ہے تو انہوں نے صلح کا ارادہ کر لیا ہے۔“ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو دونوں کے درمیان گفتگو ہوتی رہی، یہاں تک کہ اس بات پر صلح ہو گئی کہ دس سال تک دونوں کے درمیان جنگ موقوف رہے گی، لوگ ایک دوسرے سے امن میں رہیں گے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سال ان کے پاس سے واپس چلے جائیں گے، یہاں تک کہ جب آئندہ سال آئیں گے تو وہ آپ کے لیے مکہ خالی کر دیں گے اور آپ وہاں تین دن قیام کریں گے، اور آپ مکہ میں صرف سوار کے ہتھیار کے ساتھ داخل ہوں گے اور تلواریں میانوں میں ہوں گی۔ اور یہ کہ آپ کے صحابہ میں سے جو کوئی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر ہمارے پاس آ گیا تو ہم اسے آپ کو واپس نہ کریں گے اور ہم میں سے جو کوئی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر آپ کے پاس گیا تو آپ اسے واپس کریں گے۔ اور ہمارے اور آپ کے درمیان (دلوں کی) گٹھڑی بند رہے گی (یعنی دل صاف رہیں گے)، اور نہ کوئی چوری ہوگی نہ خیانت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18809]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 18810
وَرَوَى عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْعُمَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَتِ الْهُدْنَةُ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلِ مَكَّةَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ أَرْبَعَ سِنِينَ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا ⦗٣٧٢⦘ الْقَاسِمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ كَاسِبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَهُ. الْمَحْفُوظَ هُوَ الْأَوَّلُ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ هَذَا يَأْتِي بِمَا لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُمَا مِنَ الْأَئِمَّةِ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل مکہ کے درمیان حدیبیہ کے سال 4 سال کی صلح تھی۔
اس روایت کا راوی عاصم بن عمر بن حفص عمری بہت ضعیف ہے۔ محفوظ روایت پہلی ہی ہے، یہ عاصم بن عمر ایسی روایات بیان کرتا ہے جن میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی، یحییٰ بن معین، بخاری اور دیگر ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18810]
اس روایت کا راوی عاصم بن عمر بن حفص عمری بہت ضعیف ہے۔ محفوظ روایت پہلی ہی ہے، یہ عاصم بن عمر ایسی روایات بیان کرتا ہے جن میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی، یحییٰ بن معین، بخاری اور دیگر ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِزْيَةِ/حدیث: 18810]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف