🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3774. -- (إذا قتل الكلبُ المُعَلَّمُ الصيدَ، فإنه يجوز أكلُه)
-- سکھایا ہوا کتا اگر شکار کو قتل کر بھی دے تو اسے کھایا جاسکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18872
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ:" إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ". قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ". قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ أَكَلَ؟ قَالَ:" فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا حَبَسَ عَلَى نَفْسِهِ وَلَمْ يَحْبِسْ عَلَيْكَ". قَالَ: قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي وَأَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ؟ قَالَ:" لَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى الْآخَرِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چوڑائی کے بل شکار کو لگنے والے تیر کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تیر دھار کی جانب سے شکار کو لگے تو کھا لیں اور جب تیر چوڑائی کی جانب سے لگ کر شکار کو قتل کر دے تو یہ لکڑی کی چوٹ کھا کر مرا تصور ہوگا، اس شکار کو نہ کھائیں“، راوی کہتے ہیں کہ اگر میں اپنے کتے کو چھوڑوں؟ فرمایا: ”جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے تو «بِسْمِ اللّٰهِ» ”بسم اللہ“ اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھ، پھر کھا لو“، راوی کہتے ہیں: اگر کتے نے اس سے کھا لیا؟ فرمایا: ”پھر نہ کھاؤ کیونکہ اس نے اپنے لیے شکار کیا ہے، تیرے لیے نہیں“، راوی کہتے ہیں: اگر میں اپنے کتے کے ساتھ اور کتے پاؤں؟ فرمایا: ”تب نہ کھاؤ کیونکہ آپ نے اپنے کتے پر اللہ کا نام لیا ہے دوسرے کتے پر نہیں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18872]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18873
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى أَبُو غَسَّانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ:" مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ". وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ وَأَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَهُ كَلْبًا غَيْرَ كَلْبِكَ فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ".
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تیر کی چوڑائی کی جانب سے کیے ہوئے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو تیر کی دھار لگے اسے کھاؤ اور جو چوڑائی کی جانب سے تیر لگ کر مرے تو وہ لکڑی کی چوٹ سے مرا ہوا تصور ہو گا“ اور میں نے کتے کے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے اور اللہ کا نام لے اور کتا شکار کو تیرے لیے روک لے تو کھا لے، اگر کتے نے شکار سے کچھ کھا لیا ہو تو پھر شکار کو نہ کھاؤ۔ اگر آپ اپنے کتے کے ساتھ کسی دوسرے کتے کو بھی پائیں اور آپ کو ڈر ہو کہ کہیں شکار اس کتے نے پکڑا یا قتل کیا ہو، پھر بھی نہ کھائیں کیونکہ اپنے کتے کو چھوڑتے ہوئے آپ نے اللہ کا نام لیا تھا، دوسرے پر نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18873]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18874
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ:" مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ، فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ، وَإِنْ وَجَدْتَ عِنْدَهُ كَلْبًا غَيْرَهُ فَخَشِيتَ أَنْ ⦗٣٩٦⦘ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْهُ فَإِنَّكَ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ". وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ:" مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ، وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ".
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کتے کے شکار کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کتا شکار آپ کے لیے روکے، کھائے نہیں، اس شکار کو آپ کھا لیں کیونکہ اس کا پکڑنا ہی ذبح تصور کیا جائے گا۔ اگر اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ اور یہ ڈر ہو کہ ممکن ہے کہ شکار کو اس نے پکڑا یا قتل کیا ہے تو نہ کھائیں کیونکہ اپنے کتے کو چھوڑتے ہوئے آپ نے اللہ کا نام لیا تھا دوسرے پر نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے چوڑائی کی جانب سے لگنے والے تیر کی وجہ سے شکار ہونے والے جانور کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شکار کو تیر دھار کے بل لگے اسے کھا لو اور جس کو آپ تیر چوڑائی کے بل ماریں تو وہ لکڑی کی چوٹ سے مرا تصور ہو گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18874]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18875
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ وَلَمْ يَقْتُلْ فَاذْبَحْ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ فَقَدْ أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَطْعَمْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زَكَرِيَّا وَعَاصِمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے تو «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ اور «اَللّٰهُ اَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھ، اگر شکار مرنے سے پہلے آپ پالیں تو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لو اور اگر قتل شدہ شکار پالیں اور کتے نے کھایا بھی نہیں تو آپ کھا لیں، کیونکہ آپ کے لیے اس نے شکار کیا ہے؛ اگر شکار میں سے اس نے کچھ کھایا ہے تو تمہیں چاہیے کہ اسے نہ کھاؤ، اس لیے کہ کتے نے اسے اپنے لیے شکار کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18875]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18876
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْمَنِيعِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ وَإِنْ قَتَلْنَ، إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ، فَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِنْ خَالَطَهَا كِلَابٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم کتوں سے شکار کرنے والے لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنے سکھائے ہوئے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑے، اگر کتا شکار کو تیرے لیے روک لے تو کھا لو، اگر کتا شکار کو قتل کر کے شکار سے کچھ کھا لے تو پھر آپ شکار کو نہ کھائیں؛ کیونکہ ممکن ہے اس نے اپنے لیے شکار کیا ہو، اور اگر اس کے ساتھ دوسرے کتے شامل ہو جائیں تب بھی نہ کھائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18876]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18877
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ حَبَّانَ، ثنا ابْنُ الْجُنَيْدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَدِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَكَلَ مِنْهُ؟ قَالَ:" إِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّهُ لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ".
سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اگر کتا شکار سے کھا لے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کتا شکار سے کھا لے تو پھر نہ کھاؤ، کیونکہ یہ سکھایا ہوا نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18877]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18878
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَيَحْتَمِلُ الْقِيَاسُ أَنْ يَأْكُلَ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ الْكَلْبُ، وَهَذَا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَبَعْضِ أَصْحَابِنَا، وَإِنَّمَا تَرَكْنَا هَذَا لِلْأَثَرِ الَّذِي ذَكَرَ الشَّعْبِيُّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" فَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ". وَإِذَا ثَبَتَ الْخَبَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجُزْ تَرْكُهُ لِشَيْءٍ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قیاس کا تقاضا یہ ہو سکتا ہے کہ شکار کھا لیا جائے اگرچہ کتے نے اس میں سے کھا لیا ہو، اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم اور ہمارے بعض اصحاب کا قول ہے، ہم نے اسے صرف اس اثر کی وجہ سے چھوڑا ہے جو شعبی نے ذکر کیا کہ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر کتا شکار سے کھالے تو شکار مت کھاؤ۔“ جب یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے تو اس کو چھوڑنا درست نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18878]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18879
قَالَ الشَيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَّا الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِذَا أَرْسَلَ أَحَدُكُمْ كَلْبَهُ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرَ اسْمَ اللهِ فَلْيَأْكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ أَكَلَ مِنْهُ أَوْ لَمْ يَأْكُلْ وَأَمَّا الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ ذَكَرَهَا عَنْهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّإِ مُنْقَطِعًا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تم اپنے سکھائے ہوئے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑو، تو کتے نے کھایا ہو یا نہ کھایا ہو، آپ شکار کو کھا سکتے ہیں۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں جو روایت ہے، اسے امام مالک نے موطا میں منقطع سند کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18879]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18880
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ السِّرَاجُ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: كُلْ وَإِنْ أَكَلَ نِصْفَهُ، يَعْنِي الْكَلْبَ. وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ.
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر کتا نصف شکار بھی کھا لے تو آپ کھا سکتے ہیں۔
یہ روایت بھی مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18880]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18881
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: حُمَيْدُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدًا قُلْتُ: إِنَّ لَنَا كِلَابًا ضَوَارِيَ فَيُمْسِكْنَ عَلَيْنَا وَيَأْكُلْنَ وَيُبْقِينَ، قَالَ:" كُلْ وَإِنْ لَمْ يُبْقِينَ إِلَّا نِصْفَهُ" وَهَذَا مَوْصُولٌ، وَرُوِيَ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَرُوِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِ أَقَاوِيلِهِمْ.
حمید بن مالک نے سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمارے شکاری کتے شکار کرتے وقت کچھ کھا لیتے ہیں اور کچھ چھوڑ دیتے ہیں، فرماتے ہیں: اگر آدھا بھی چھوڑ دیں تو کھا لیا کرو۔
یہ روایت موصول (متصل سند والی) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18881]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں