السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3797. -- باب: ما لفظ البحر وطفا من ميتة
-- باب: اس مردار کا بیان جسے سمندر باہر پھینک دے یا جو پانی پر تیرنے لگے۔
حدیث نمبر: 18982
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْتُ الْبَحْرَيْنَ فَسَأَلَنِي أَهْلُ الْبَحْرَيْنِ عَمَّا يَقْذِفُ الْبَحْرُ مِنَ السَّمَكِ فَأَمَرْتُهُمْ بِأَكْلِهِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: مَا أَمَرْتَهُمْ؟ قُلْتُ: أَمَرْتُهُمْ بِأَكْلِهِ. فَقَالَ: لَوْ قُلْتَ غَيْرَ ذَلِكَ لَعَلَوْتُكَ بِالدِّرَّةِ. ثُمَّ قَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ} [المائدة: ٩٦] ، قَالَ: صَيْدُهُ مَا اصْطِيدَ، وَطَعَامُهُ مَا رَمَى بِهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بحرین آیا تو وہاں کے لوگوں نے سمندر کی باہر پھینکی ہوئی مچھلی کے بارے میں مجھ سے پوچھا تو میں نے انہیں اسے کھانے کا حکم دیا۔ پھر میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: تم نے انہیں کیا حکم دیا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے انہیں اسے کھانے کا کہا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور کہتے تو میں تمہیں درے مارتا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ﴾ [سورة المائدة: 96] جو اس سے شکار کیا جائے اور جس کو یہ باہر پھینک دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18982]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18983
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَقْبَلْتُ مِنَ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى ⦗٤٢٨⦘ إِذَا كُنْتُ بِالرَّبَذَةِ سَأَلَنِي نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ عَنْ صَيْدٍ وَجَدُوهُ عَلَى الْمَاءِ طَافٍ، فَسَأَلُونِي عَنِ اشْتِرَائِهِ وَأَكْلِهِ، فَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يَشْتَرُوهُ وَيَأْكُلُوهُ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَكَأَنَّهُ وَقَعَ فِي قَلْبِي شَكٌّ مِمَّا أَمَرْتُهُمْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَمَا أَمَرْتَهُمْ بِهِ؟ قَالَ: أَمَرْتُهُمْ بِهِ أَنْ يَشْتَرُوهُ وَيَأْكُلُوهُ. قَالَ: لَوْ أَمَرْتَهُمْ بِغَيْرِ ذَلِكَ لَفَعَلْتُ. أَيْ كَأَنَّهُ تَوَعَّدَهُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بحرین سے آیا تو ربذہ نامی جگہ پر عراق کے محرم لوگوں نے پانی پر تیر کر آنے والے شکار کے بارے میں مجھ سے پوچھا، وہ اس کے خریدنے اور کھانے کے بارے میں سوال کر رہے تھے تو میں نے حالتِ احرام میں ان کو یہ شکار خرید کر کھانے کی اجازت دے دی۔ پھر میں مدینہ آیا تو اس مسئلے کے بارے میں میرے دل میں شک تھا جو میں نے ان کو حکم دیا تھا، تو میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے پوچھا: آپ نے اس کے بارے میں ان کو کیا حکم دیا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے انہیں خرید کر کھانے کی اجازت دی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو اس کے علاوہ کوئی اور بات کہتا تو میں یہ کرتا، گویا کہ وہ ان کو دھمکی دے رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18983]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18984
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ: {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ} [المائدة: ٩٦] ، قَالَ: صَيْدُهُ مَا صِيدَ، وَطَعَامُهُ مَا قَذَفَ.
ابو مجلز، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ﴾ [سورة المائدة: 96] ”سمندر کا شکار تمہارے لیے حلال کر دیا گیا اور اس کا کھانا تمہارے لیے فائدے کی چیز ہے“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا شکار تو وہی ہے جو شکار کیا گیا اور کھانے سے مراد وہ ہے جو وہ باہر پھینک دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18984]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18985
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا حُصَيْنٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" صَيْدُهُ مَا اصْطِيدَ، وَطَعَامُهُ مَا لَفَظَ بِهِ الْبَحْرُ.
سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ اس کا شکار وہ ہے جو اس سے حاصل کیا جائے اور اس کا کھانا وہ ہے جو باہر پھینک دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18985]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18986
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَمَّا لَفَظَ الْبَحْرُ فَنَهَاهُ عَنْ أَكْلِهِ. قَالَ نَافِعٌ: ثُمَّ انْقَلَبَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَدَعَا بِالْمُصْحَفِ فَقَرَأَ: {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ} [المائدة: ٩٦] . قَالَ نَافِعٌ: فَأَرْسَلَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ فَكُلْهُ.
عبدالرحمن بن ابوہریرہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سمندر کے باہر پھینکے ہوئے شکار کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اسے نہ کھایا جائے۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قرآن لے کر آئے اور یہ آیت تلاوت کی ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ﴾ [سورة المائدة: 96] نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے عبدالرحمن بن ابوہریرہ کو بلانے بھیجا کہ اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18986]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18987
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سَعْدٍ الْحَارِثِيِّ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ الْحِيتَانِ يَقْتُلُ بَعْضُهَا بَعْضًا أَوْ تَمُوتُ صَرَدًا، فَقَالَ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ. قَالَ سَعْدٌ: ثُمَّ سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ.
سعد حارثی، مولیٰ عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: وہ مچھلیاں جو ایک دوسری کو مار دیتی ہیں یا سردی کی وجہ سے مر جاتی ہیں؟ فرمایا: ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سعد کہتے ہیں: پھر میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بھی اسی کے مثل فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 18987]