السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3802. -- باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها
-- باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19032
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ قَالَ:" كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ، وَأُمِرْتُ بِصَلَاةِ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا". وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ جَابِرٍ، هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی میرے اوپر فرض ہے جبکہ تمہارے اوپر فرض نہیں ہے اور نمازِ چاشت مجھے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اور تمہیں حکم نہیں دیا گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19032]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19033
وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى لِلنَّاسِ يَوْمَ النَّحْرِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ وَصَلَاتِهِ دَعَا بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ هُوَ بِنَفْسِهِ وَقَالَ:" بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُمَّ عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي". ⦗٤٤٤⦘ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا لَا يُضَحِّيَانِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُقْتَدَى بِهِمَا فَيَظُنُّ مَنْ رَآهُمَا أَنَّهَا وَاجِبَةٌ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی والے دن لوگوں کو نماز پڑھائی۔ نماز اور خطبہ سے فارغ ہو کر ایک مینڈھا منگوا کر خود ذبح کیا اور فرمایا: ” «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» بسم اللہ واللہ اکبر، اے اللہ! میری اور میری امت کے اس شخص کی جانب سے جس نے قربانی نہیں کی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنہما دونوں قربانی نہ کرتے اس ڈر سے کہ کہیں لوگ ان کی اقتدا شروع نہ کردیں اور جو انہیں (قربانی کرتے) دیکھے وہ یہ گمان کرے کہ یہ واجب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19033]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنہما دونوں قربانی نہ کرتے اس ڈر سے کہ کہیں لوگ ان کی اقتدا شروع نہ کردیں اور جو انہیں (قربانی کرتے) دیکھے وہ یہ گمان کرے کہ یہ واجب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19033]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19034
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، وَمُطَرِّفٍ، وَإِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: أَدْرَكْتُ أَبَا بَكْرٍ أَوْ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا لَا يُضَحِّيَانِ فِي بَعْضِ حَدِيثِهِمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُقْتَدَى بِهِمَا. أَبُو سَرِيحَةَ الْغِفَارِيُّ هُوَ حُذَيْفَةُ بْنُ أُسَيْدٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوشریحہ غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو پایا کہ وہ قربانی نہیں کرتے تھے۔ بعض احادیث میں اس بات کی وضاحت ہے کہ صرف اقتدا کے ڈر سے ایسا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19034]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19035
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَمَا يُضَحِّيَانِ عَنْ أَهْلِهِمَا خَشْيَةَ أَنْ يُسْتَنَّ بِهِمَا، فَلَمَّا جِئْتُ بَلَدَكُمْ هَذَا حَمَلَنِي أَهْلِي عَلَى الْجَفَاءِ بَعْدَ مَا عَلِمْتُ السُّنَّةَ. كَذَا قَالَهُ مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَامِرٍ وَأَخْطَأَ فِيهِ..
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی جانب سے قربانی نہ کرتے تھے کہ کہیں لوگ اس کو سنت نہ بنا لیں، لیکن جب میں تمہارے اس شہر میں آیا تو میرے گھر والوں نے مجھے سنت جان لینے کے بعد بھی جفا (یعنی سنت سے ہٹنے) پر آمادہ کر دیا۔
معتمر بن سلیمان نے اسے عامر سے اسی طرح بیان کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19035]
معتمر بن سلیمان نے اسے عامر سے اسی طرح بیان کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19035]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 19036
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ فِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ ⦗٤٤٥⦘ الْبِزَارِيُّ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْغَازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: إِنَّ مُعْتَمِرًا حَدَّثَنَا قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ، فَقَالَ: هَذَا مِثْلُ حَدِيثِهِ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَمْرٍو الْجَمَلِيِّ، يُرِيدُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أنبأ عَامِرٌ، فَذَكَرَهُ. يُرِيدُ يَحْيَى أَنَّهُ أَخْطَأَ فِي هَذَا كَمَا أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ. وَرِوَايَةُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ تُؤَكِّدُ قَوْلَ يَحْيَى قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
عمرو بن علی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید سے کہا: معتمر نے ہمیں بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل نے بیان کیا، ہمیں مطرف نے شعبی سے، انہوں نے ابو سریحہ سے بیان کیا۔ تو انہوں نے کہا: یہ ان کی اس حدیث کی طرح ہے جو شعبی سے عمرو جملی یعنی عمرو بن مرہ سے ہے: ہمیں اسماعیل نے بیان کیا، ہمیں عامر نے خبر دی، پھر انہوں نے اسے ذکر کیا۔ یحییٰ کی مراد یہ ہے کہ انہوں نے اس میں بھی ویسے ہی غلطی کی جیسے اُس میں غلطی کی تھی۔ اور سفیان ثوری کی روایت یحییٰ کے قول کی تائید کرتی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی (روایت ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19036]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی (روایت ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19036]
حدیث نمبر: 19037
فذَكَرَ مَعْنَى مَا أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي، يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ بُخْتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ إِذَا حَضَرَ الْأَضْحَى أَعْطَى مَوْلًى لَهُ دِرْهَمَيْنِ فَقَالَ: اشْتَرِ بِهِمَا لَحْمًا وَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ أَضْحَى ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قربانی کے موقع پر انہیں دو درہم عطا کرتے کہ گوشت خرید کر لوگوں کو بتا دینا کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قربانی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19037]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19038
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي لَأَدَعُ الْأَضْحَى وَإِنِّي لَمُوسِرٌ؛ مَخَافَةَ أَنْ يَرَى جِيرَانِي أَنَّهُ حَتْمٌ عَلَيَّ.
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں خوشحالی کے باوجود قربانی چھوڑ دیتا ہوں کہ میرا ہمسایہ اس کو میرے اوپر فرض نہ جان لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19038]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19039
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَوَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدَعَ الْأُضْحِيَّةَ وَإِنِّي لَمِنْ أَيْسَرِكُمْ؛ مَخَافَةَ أَنْ تَحْسَبَ النَّفْسُ أَنَّهَا عَلَيْهَا حَتْمٌ وَاجِبٌ.
سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مالداری کے باوجود قربانی چھوڑ دینے کا ارادہ کیا تاکہ ذہن اس کو اپنے اوپر فرض قرار نہ دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19039]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19040
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْخَصِيبِ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْأَضْحَى فَقَالَ: أَكْرَهُ أَوِ اجْتَنِبْ، شَكَّ وَهْبِ، الْعُورَ الْبَيِّنَ عَوَرُهَا، وَالْعَرْجَاءَ الْبَيِّنَ عَرَجُهَا، وَالْمَرِيضَةَ الْبَيِّنَ مَرَضُهَا، وَالْمَهْزُولَةَ الْبَيِّنَ هُزَالُهَا. ثُمَّ قَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: لَعَلَّكَ تَحْسَبُ حَتْمًا؟ قُلْتُ: لَا وَلَكِنَّهُ أَجْرٌ وَخَيْرٌ وَسُنَّةٌ. قَالَ: نَعَمْ ⦗٤٤٦⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَا يَعْدُو الْقَوْلُ فِي الضَّحَايَا هَذَا أَوْ تَكُونُ وَاجِبَةً فَهِيَ عَلَى كُلِّ أَحَدٍ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ لَا يُجْزِي غَيْرُ شَاةٍ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ.
قیس بن ثعلبہ کے ایک شخص ابو خصیب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوئے تو ان سے کسی شخص نے قربانی کے متعلق سوال کیا، وہ کہتے ہیں: میں ناپسند کرتا ہوں یا تم اجتناب کرو (وہب کو شک ہے) ”ایسا کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو اور لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو، ایسا بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو اور ایسا کمزور جانور جس کی کمزوری واضح ہو“، پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: شاید تم اس کو لازم سمجھتے ہو؟ وہ کہتے ہیں: یہ تو ثواب، خیر اور سنت ہے، انہوں نے فرمایا: ایسا ہی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قربانیوں کے متعلق قول اس سے آگے نہیں جاتا، ورنہ پھر یہ واجب ہو گی اور ہر چھوٹے بڑے پر ہو گی اور ہر ایک کی طرف سے ایک بکری سے کم کفایت نہ کرے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19040]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قربانیوں کے متعلق قول اس سے آگے نہیں جاتا، ورنہ پھر یہ واجب ہو گی اور ہر چھوٹے بڑے پر ہو گی اور ہر ایک کی طرف سے ایک بکری سے کم کفایت نہ کرے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19040]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف