السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3838. -- باب: لا يبيع من أضحيته شيئا، ولا يعطي أجر الجازر منها
-- باب: کوئی شخص اپنی قربانی میں سے کچھ فروخت نہ کرے، اور نہ ہی اس میں سے قصاب کی اجرت دے۔
حدیث نمبر: 19231
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ الْهَرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَرَأَيْتَ الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ؟ مَا الْقَانِعُ وَالْمُعْتَرُّ؟ قَالَ: أَمَّا الْقَانِعُ: فَالْقَانِعُ بِمَا أَرْسَلْتَ إِلَيْهِ فِي بَيْتِهِ، وَالْمُعْتَرُّ: الَّذِي يَعْتَرِيكَ.
قابوس بن ابی ظبیان اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: قانع اور معتر کون ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: «الْقَانِعُ» ”قانع“ وہ شخص ہے جو اس چیز پر قناعت کرے جو آپ اس کے گھر بھیج دیں، اور «الْمُعْتَرُّ» ”معتر“ وہ ہے جو تمہارے پاس آئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19231]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19232
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسَدَّدٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بَدَنَةٍ وَأَنْ أَقْسِمَ جُلُودَهَا وَجِلَالَهَا، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا شَيْئًا، وَقَالَ:" نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي خَيْثَمَةَ: وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا، وَأَنْ لَا أُعْطِيَ أَجْرَ الْجَازِرِ مِنْهَا، قَالَ:" نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قربانی کے ایک اونٹ پر (نگرانی کے لیے) کھڑے رہنے اور اس کے چمڑے اور جھول تقسیم کرنے کا حکم دیا، اور مجھے حکم دیا کہ قصاب کو اس میں سے کچھ نہ دوں، اور فرمایا: ”ہم اسے اپنے پاس سے (مزدوری) دیں گے۔“
(ب) ابو خیثمہ کی روایت میں ہے کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ) اس کا گوشت، چمڑے اور جھول صدقہ کر دوں اور قصاب کی مزدوری اس میں سے نہ دوں، اور فرمایا: ”ہم اسے اپنے پاس سے دیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19232]
(ب) ابو خیثمہ کی روایت میں ہے کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ) اس کا گوشت، چمڑے اور جھول صدقہ کر دوں اور قصاب کی مزدوری اس میں سے نہ دوں، اور فرمایا: ”ہم اسے اپنے پاس سے دیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19232]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح