🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3843. -- باب: من قال الضحايا إلى آخر الشهر لمن أراد أن يستأني ذلك
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا: ”جو تاخیر کرنا چاہے اس کے لیے قربانی مہینے کے آخر تک جائز ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19256
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الضَّحَايَا إِلَى آخِرِ الشَّهْرِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْتَأْنِيَ ذَلِكَ". لَفْظُ حَدِيثِ الْأَصْبَهَانِيِّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي حَامِدٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الضَّحَايَا إِلَى هِلَالِ الْمُحَرَّمِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْتَأْنِي ذَلِكَ" رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبَانَ.
ابو سلمہ اور سلیمان بن یسار رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قربانی کو تاخیر سے کرنا چاہے تو وہ ذوالحجہ کے آخر تک بھی کر سکتا ہے۔“
(ب) ابو حامد کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانیوں کو محرم کا چاند دیکھنے تک بھی مؤخر کیا جا سکتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19256]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19257
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يَقُولُ: إِنْ كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَيَشْتَرِي أَحَدُهُمُ الْأُضْحِيَّةَ فَيُسَمِّنُهَا فَيَذْبَحُهَا بَعْدَ الْأَضْحَى آخِرَ ذِي الْحِجَّةِ. حَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ وَسُلَيْمَانَ مُرْسَلٌ وَحَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حِكَايَةٌ عَمَّنْ لَمْ يُسَمَّ. وَقَدْ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الشَّرْحِ: رُوِيَ فِي بَعْضِ الْأَخْبَارِ: الْأُضْحِيَّةُ إِلَى رَأْسِ الْمُحَرَّمِ، فَإِنْ صَحَّ ذَلِكَ فَالْأَمْرُ يَتَّسِعُ فِيهِ إِلَى غُرَّةِ الْمُحَرَّمِ، وَإِنْ لَمْ يَصِحَّ فَالَّخَبَرُ الصَّحِيحُ أَيَّامُ مِنًى أَيَّامُ نَحْرٍ، وَعَلَى هَذَا بَنَى الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فِي كِلَيْهِمَا نَظَرٌ، هَذَا لِإِرْسَالِهِ وَمَا مَضَى لِاخْتِلَافِ الرُّوَاةِ فِيهِ عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، وَحَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى أَوْلَاهُمَا أَنْ يُقَالَ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مسلمانوں میں سے کوئی شخص جب قربانی کا جانور خریدتا تو اسے موٹا تازہ کرتا، پھر عید الاضحی کے بعد ذی الحجہ کے آخر میں اسے ذبح کرتا۔
نوٹ: بعض احادیث میں محرم کی ابتداء تک قربانی کرنے کے بارے میں آیا ہے۔ اگر یہ احادیث صحیح ہوں تو یہ ایک وسعت ہے وگرنہ صحیح احادیث میں منیٰ کے دنوں کو قربانی کے دن شمار کیا گیا ہے۔
ابو سلمہ اور سلیمان کی حدیث مرسل ہے، اور ابو امامہ کی حدیث ایسے لوگوں سے حکایت ہے جن کا نام نہیں لیا گیا۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان دونوں میں نظر ہے، یہ اس کے مرسل ہونے کی وجہ سے اور پہلی روایت سلیمان بن موسیٰ پر راویوں کے اختلاف کی وجہ سے، اور سلیمان بن موسیٰ کی حدیث ان دونوں میں سے زیادہ اس لائق ہے کہ اسے اختیار کیا جائے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19257]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں