🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3869. -- باب: ما جاء في الأرنب
-- باب: خرگوش کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19402
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِأَبِي ذَرٍّ وَعَمَّارٍ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ: أَتَذْكُرُونَ يَوْمَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا فأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِأَرْنَبٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَأَمَرَنَا بِأَكْلِهَا وَلَمْ يَأْكُلْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" ادْنُهُ اطْعَمْ". قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ الْحَوْتَكِيَّةِ فِي إِسْنَادِهِ.
موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابوذر، عمار اور ابودرداء رضی اللہ عنہم سے کہا: کیا تمہیں یاد ہے جس وقت فلاں جگہ پر ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش لے کر آیا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس پر خون کو دیکھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھانے کا حکم دیا اور خود نہ کھایا؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی سے کہا: ”قریب ہو کر کھاؤ“ تو اس نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19402]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19403
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي خَالِدَ بْنَ ⦗٥٤٠⦘ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ بِالصِّفَاحِ، مَكَانٌ بِمَكَّةَ، وَأَنَّ رَجُلًا جَاءَنَا بِأَرْنَبٍ قَدْ صَادَهَا فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو مَا تَقُولُ؟ قَالَ: قَدْ جِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسٌ فَلَمْ يَأْكُلْهَا وَلَمْ يَنْهَ عَنْ أَكْلِهَا. وَزَعَمَ أَنَّهَا تَحِيضُ.
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما مکہ میں صفا نامی جگہ پر تھے، ایک شخص خرگوش کا شکار کر کے لایا، اس نے کہا: ”اے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟“ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش لایا گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا نہیں اور کھانے سے منع بھی نہیں کیا اور انہوں نے کہا کہ اسے حیض آتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19403]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں