السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3891. -- باب: إباحة الرقية بكتاب الله عز وجل وبما يعرف من ذكر الله
-- باب: اللہ عزوجل کی کتاب اور اللہ کے معروف ذکر کے ذریعے دم (رقیہ) کرنے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 19594
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ النَّضْرَوِيُّ قَالَا: أنبأ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَدَغَ رَجُلًا مِنَّا عَقْرَبٌ وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرْقِيهِ؟ فَقَالَ:" مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ رَوْحٍ.
ابوزبیر رحمہ اللہ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہمارے ایک آدمی کو بچھو نے ڈس لیا اور ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو ایک شخص نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں دم کر دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ» ”جو اپنے بھائی کو نفع دے سکتا ہے دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19594]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ٢١٩٩»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19595
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى، وَكَانَ عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ رُقْيَةٌ يَرْقُونَ بِهَا مِنَ الْعَقْرَبِ، فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى وَكَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنَ الْعَقْرَبِ. قَالَ:" فَاعْرِضْهَا عَلَيَّ". فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ:" مَا أَرَى بَأْسًا، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
ابو سفیان، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دم سے منع فرمایا اور آل عمرو بن حزم بچھو کے ڈس جانے کی وجہ سے دم کرتے تھے۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (اور عرض کی) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دم سے منع فرمایا ہے، حالانکہ ہم بچھو کے ڈسنے کا دم کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے پڑھو۔“ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (وہ کلمات) سنائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، جو کوئی اپنے بھائی کو نفع دے سکے تو اسے (نفع) دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19595]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19596
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تَقُولُ فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ:" اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ، لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ، لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ» ”اپنے دم میرے سامنے پیش کرو، اس دم میں کوئی حرج نہیں جس میں شرک نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19596]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ٢٢٠٠»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19597
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَشَّاطُ قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ الشِّفَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَفْصَةَ وَأَنَا عِنْدَهَا فَقَالَ لِي:" أَلَا تُعَلِّمِيهَا رُقْيَةَ النَّمْلِ كَمَا عَلَّمْتِيِهَا الْكِتَابَةَ.
ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سیدہ شفاء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور میں ان کے پاس موجود تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا آپ انہیں پھوڑے، پھنسی کا دم نہیں سکھا دیتیں جیسا کہ آپ نے انہیں لکھنا سکھایا تھا؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19597]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19598
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا خُزَامَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَرُقًى نَسْتَرْقِي بِهَا وَاتِّقَاءً نَتَّقِيهَا هَلْ يَرُدُّ ذَلِكَ مِنْ قَدَرِ اللهِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ مِنْ قَدَرِ اللهِ"..
ابو خزاعہ کے والد رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول! آپ کا دوا کروانے اور دم کے متعلق کیا خیال ہے یا جس کو ہم بچاؤ کے لیے استعمال کرتے ہیں، کیا یہ اللہ کی تقدیر کو ٹال سکتی ہیں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19598]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19599
وأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو خُزَامَةَ أَحَدُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. قَالَ - يَعْقُوبُ: أَبُو خُزَامَةَ بْنُ مَعْمَرٍ السَّعْدِيُّ سَعْدُ هُذَيْمٍ قُضَاعِيٌّ..
سابقہ حدیث کی مثل۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19599]
حدیث نمبر: 19600
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ الْقَاضِي، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي خُزَامَةَ زَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. كَذَا قَالَ، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِي عَنْ مَعْمَرٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ.
ابو خزامہ زید بن حارث اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہی) سوال کیا۔ راوی نے اسی طرح کہا ہے، لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ روایت معمر اور عبدالرحمن بن اسحاق سے بھی زہری کے واسطے سے ابن ابی خزامہ عن ابیہ مروی ہے، اور پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19600]
شیخ فرماتے ہیں: یہ روایت معمر اور عبدالرحمن بن اسحاق سے بھی زہری کے واسطے سے ابن ابی خزامہ عن ابیہ مروی ہے، اور پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19600]
حدیث نمبر: 19601
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا يَهُودِيَّةٌ تَرْقِيهَا، فَقَالَ: ارْقِيهَا بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ان کے پاس سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے، انہیں ایک یہودیہ دم کر رہی تھی، فرمانے لگے کہ انہیں اللہ کی کتاب سے دم کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19601]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون قوله يهوديه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19602
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: سَأَلْتُ الشَّافِعِيَّ عَنِ الرُّقْيَةِ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ أَنْ يَرْقِيَ الرَّجُلُ بِكِتَابِ اللهِ وَمَا يَعْرِفُ مِنْ ذِكْرِ اللهِ. فَقُلْتُ: أَيَرْقِي أَهْلُ الْكِتَابِ الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، إِذَا رَقَوْا بِمَا يُعْرَفُ مِنْ كِتَابِ اللهِ ⦗٥٨٨⦘ وَذِكْرِ اللهِ. فَقُلْتُ: وَمَا الْحُجَّةُ فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: غَيْرُ حُجَّةٍ، وَأَمَّا رِوَايَةُ صَاحِبِنَا وَصَاحِبِكَ فَإِنَّ مَالِكًا أَخْبَرَنَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَشْتَكِي، وَيَهُودِيَّةٌ تَرْقِيهَا، قَالَ: ارْقِيهَا بِكِتَابِ اللهِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالْأَخْبَارُ فِيمَا رَقَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُقِيَ بِهِ، وَفِيمَا تَدَاوَى بِهِ وَأَمَرَ بِالتَّدَاوِي بِهِ كَثِيرَةٌ قَدْ أَخْرَجْتُ بَعْضَ مَا وَرَدَ فِي الرُّقَى فِي كِتَابِ الدَّعَوَاتِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
ربیع کہتے ہیں: میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے دم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”آدمی اللہ کی کتاب اور معروف ذکر سے دم کرے تو کوئی حرج نہیں۔“ میں نے پوچھا: کیا اہل کتاب مسلمانوں کو دم کر سکتے ہیں؟ تو فرمانے لگے: ”جب کتاب اللہ یا ذکر اللہ سے دم کریں تو جائز ہے۔“ میں نے پوچھا: اس کی دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں: اس کی ایک سے زیادہ دلیلیں ہیں، اور ہمارے اور تمہارے صاحب کی روایت یہ ہے کہ عمرہ بنت عبدالرحمن فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، وہ بیمار تھیں، جنہیں ایک یہودیہ عورت دم کر رہی تھی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کو اللہ کی کتاب کے ذریعے دم کرنا۔“
شیخ فرماتے ہیں: وہ احادیث جن میں یہ بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دم کیا گیا اور اس کے بارے میں کہ جو آپ نے دوائی کرنے کا حکم دیا، بہت ساری احادیث ملتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19602]
شیخ فرماتے ہیں: وہ احادیث جن میں یہ بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دم کیا گیا اور اس کے بارے میں کہ جو آپ نے دوائی کرنے کا حکم دیا، بہت ساری احادیث ملتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19602]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح