السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3906. -- باب: ما يحل من الأدوية النجسة بالضرورة
-- باب: مجبوری کی حالت میں ناپاک ادویات میں سے کتنی مقدار حلال ہے۔
حدیث نمبر: 19673
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ" أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الْعُرَنِيِّينَ، أَنْ يَشْرَبُوا أَلْبَانَ الْإِبِلِ، وَأَبْوَالَهَا".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرنیین کو حکم فرمایا تھا کہ وہ ”اونٹوں کے پیشاب اور دودھ پیا کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19673]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ومسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19674
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُرَيْنَةَ أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّا قَدِ اجْتَوَيْنَا الْمَدِينَةَ، وَعَظُمَتْ بُطُونُنَا، وَارْتَهَسَتْ أَعْضَادُنَا،" فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْحَقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا"، فَلَحِقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ، فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا، وَأَلْبَانِهَا، حَتَّى صَلُحَتْ بُطُونُهُمْ وَأَبْدَانُهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَسَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ، فَجِيءَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، قَالَ قَتَادَةُ: ⦗٧⦘ فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ أَنَّ:" ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ هَمَّامٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عرینہ قبیلہ کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہنے لگے ہمیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہیں (یعنی موافق نہیں آئی) ہمارے پیٹ بڑھ گئے ہیں اور ہمارے بازو زخمی ہو گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ: ”وہ اونٹوں کے چرواہوں کے پاس جا کر اونٹوں کا دودھ اور پیشاب استعمال کریں۔“ تو انہوں نے چرواہوں کے پاس جا کر اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا تو ان کے بدن اور پیٹ درست ہو گئے۔ پھر انہوں نے چرواہوں کو قتل کر دیا اور اونٹ لے گئے۔
یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پکڑنے کے لیے آدمی روانہ کیے جو ان کو لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19674]
یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پکڑنے کے لیے آدمی روانہ کیے جو ان کو لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19674]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19675
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُقْرِئُ، وَطَرِيفُ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنِي إِسْرَائِيلُ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ قُبَاءَ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ شُرْبِ أَلْبَانِ الْأُتُنِ، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهَا"، قَالَ الشَّيْخُ: لَيْسَ هَذَا بِالْقَوِيِّ.
ثویر اہل قباء کے ایک شیخ سے نقل فرماتے ہیں اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، جو صحابیِ رسول رضی اللہ عنہ ہیں، کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھی کے دودھ پینے کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
یہ روایت قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19675]
یہ روایت قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّحَايَا/حدیث: 19675]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف