السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3940. -- باب: ما جاء في اليمين الغموس
-- باب: یمینِ غموس (جھوٹی قسم کھا کر دھوکہ دینے) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19878
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ:" يَا فُلَانُ، فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا"؟ قَالَ: لَا وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا فَعَلْتُهُ، قَالَ: وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْلَمُ أَنَّهُ قَدْ فَعَلَهُ"، ⦗٦٦⦘ قَالَ: وَكَرَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَحْلِفُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَفَّرَ اللهُ عَنْكَ كَذِبَكَ بِصِدْقِكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ"، وَقِيلَ: عَنْ ثَابِتٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! تو نے یہ یہ کیا؟“ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے ایسا نہیں کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم تھا کہ اس نے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار فرما رہے تھے، لیکن وہ ہر بار قسم اٹھا رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کے اخلاص کی وجہ سے اللہ نے تجھے معاف کر دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19878]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19879
أَخْبَرَنِيهِ أَبُو عَبْدُ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِجَازَةً، أَنَّ أَبَا الْحَسَنِ بْنَ صُبَيْحٍ، أَخْبَرَهُمْ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شَيْرَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ:" فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا"؟ فَقَالَ: لَا وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ:" بَلَى، قَدْ فَعَلَهُ، وَلَكِنْ قَدْ غُفِرَ لَهُ بِقَوْلِهِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ"، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُرْسَلًا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: ”تو نے ایسا ایسا کیا؟“ اس نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ میں نے ایسا نہیں کیا تو جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ اس نے ایسا کیا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کی وجہ سے معاف کر دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19879]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19880
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مَنْصُورٍ عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ طَاهِرٍ الْإِمَامُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْدَانَ الْفَارِسِيُّ، قَالُوا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَجُلًا فَقَدَ نَاقَةً لَهُ، وَادَّعَاهَا عَلَى رَجُلٍ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَذَا أَخَذَ نَاقَتِي، فَقَالَ: لَا وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا أَخَذْتُهَا، فَقَالَ:" قَدْ أَخَذْتَهَا، رُدَّهَا عَلَيْهِ"، فَرَدَّهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ غُفِرَ لَكَ بِإِخْلَاصِكَ"، هَذَا مُنْقَطِعٌ، فَإِنْ كَانَ فِي الْأَصْلِ صَحِيحًا، فَالْمَقْصُودُ مِنْهُ الْبَيَانُ أَنَّ الذَّنْبَ، وَإِنْ عَظُمَ، لَمْ يَكُنْ مُوجِبًا لِلنَّارِ مَتَى مَا صَحَّتِ الْعَقِيدَةُ، وَكَانَ مِمَّنْ سَبَقَتْ لَهُ الْمَغْفِرَةُ، وَلَيْسَ هَذَا التَّعْيِينُ لِأَحَدٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اشعث حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی اونٹنی گم ہو گئی تو اس نے ایک آدمی پر اس کا دعویٰ کر دیا اور وہ اس کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ کہنے لگا: اس نے میری اونٹنی لے لی ہے۔ اس نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ میں نے اس کی اونٹنی نہیں لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اونٹنی لی ہے، اسے واپس کر دو۔“ تو اس نے اونٹنی لوٹا دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تیرے اخلاص کی وجہ سے معاف کر دیا ہے۔“
وضاحت: یہ روایت منقطع ہے۔ اگر اصل میں صحیح ہو تو اس سے مقصود یہ بیان ہے کہ عقیدہ درست ہوتے ہوئے کوئی گناہ، اگرچہ بڑا ہو، جہنم واجب نہیں کرتا، لیکن یہ تعین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19880]
وضاحت: یہ روایت منقطع ہے۔ اگر اصل میں صحیح ہو تو اس سے مقصود یہ بیان ہے کہ عقیدہ درست ہوتے ہوئے کوئی گناہ، اگرچہ بڑا ہو، جہنم واجب نہیں کرتا، لیکن یہ تعین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19880]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19881
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا عَبْثَرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ: قَالَ: الْأَيْمَانُ أَرْبَعَةٌ: يَمِيَنَانِ تُكَفَّرَانِ، وَيَمِينَانِ لَا تُكَفَّرَانِ، فَالرَّجُلُ يَحْلِفُ: وَاللهِ لَا يَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا، فَيَفْعَلُ، وَالرَّجُلُ يَقُولُ: وَاللهِ أَفْعَلُ، فَلَا يَفْعَلُ، وَأَمَّا الْيَمِينَانِ اللَّذَانِ لَا تُكَفَّرَانِ: فَإِنَّ الرَّجُلَ يَحْلِفُ: مَا فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ فَعَلَهُ، وَالرَّجُلُ يَحْلِفُ: لَقَدْ فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، وَلَمْ يَفْعَلْهُ". فَهَكَذَا رَوَاهُ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، وَخَالَفَهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، فَرَوَاهُ عَنْ لَيْثٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ مِنْ قَوْلِهِ، وَهُوَ أَشْبَهُ.
علقمہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قسم کی چار اقسام ہیں: دو کا کفارہ ہوتا ہے اور دو کا کفارہ نہیں ہوتا؛ (1) ایک آدمی قسم اٹھاتا ہے کہ اللہ کی قسم! وہ ایسے نہیں کرے گا، پھر کر لیتا ہے۔ (2) دوسرا آدمی جو کہتا ہے کہ اللہ کی قسم! اس طرح کروں گا لیکن کرتا نہیں؛ اور جن قسموں کا کفارہ نہیں ہوتا: (1) ایک آدمی قسم اٹھاتا ہے کہ میں نے ایسے نہیں کیا حالانکہ وہ کر چکا ہوتا ہے۔ (2) دوسرا آدمی قسم اٹھاتا ہے کہ میں نے ایسے کیا ہے حالانکہ اس نے نہیں کیا ہوتا۔
عبثر بن قاسم نے اسے لیث بن ابی سلیم سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ سفیان ثوری نے ان کی مخالفت کی اور اسے لیث سے، انہوں نے زیاد بن کلیب ابو معشر سے اور انہوں نے ابراہیم کے قول کے طور پر روایت کیا ہے، اور یہی زیادہ درست ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19881]
عبثر بن قاسم نے اسے لیث بن ابی سلیم سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ سفیان ثوری نے ان کی مخالفت کی اور اسے لیث سے، انہوں نے زیاد بن کلیب ابو معشر سے اور انہوں نے ابراہیم کے قول کے طور پر روایت کیا ہے، اور یہی زیادہ درست ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19881]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19882
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا رَوْحٌ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: الْأَيْمَانُ أَرْبَعٌ، يَمِينَانِ يُكَفَّرَانِ، وَيَمِينَانِ لَا يُكَفَّرَانِ، قَوْلُ الرَّجُلِ: وَاللهِ مَا فَعَلْتُ، وَاللهِ لَقَدْ فَعَلْتُ، لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنْهُ كَفَّارَةٌ، إِنْ كَانَ تَعَمَّدَ شَيْئًا، فَهُوَ كَذِبٌ، وَإِنْ كَانَ يَرَى أَنَّهُ كَمَا قَالَ، فَهُوَ لَغْوٌ، وَقَوْلُ الرَّجُلِ: وَاللهِ لَا أَفْعَلُ، وَوَاللهِ لَأَفْعَلَنَّ، فَهَذَا فِيهِ كَفَّارَةٌ". قَالَ الشَّيْخُ: وَلَيْثٌ، وَحَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِمَا وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قسم کی چار اقسام ہیں، دو کا کفارہ ہوتا ہے اور دو کا نہیں: آدمی کا یہ کہنا کہ اللہ کی قسم! میں نے نہیں کیا، اور اللہ کی قسم! میں نے کیا ہے، ان میں سے کسی میں کفارہ نہیں، اگر اس نے جان بوجھ کر ایسا کہا تو وہ جھوٹ ہے، اور اگر اس کا خیال تھا کہ بات ویسے ہی ہے جیسے اس نے کہی تو وہ قسم لغو ہے۔ اور آدمی کا یہ کہنا کہ اللہ کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا، اور اللہ کی قسم! میں ایسا ضرور کروں گا، تو اس میں کفارہ ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیث اور حماد بن ابی سلیمان قابلِ حجت نہیں ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19882]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیث اور حماد بن ابی سلیمان قابلِ حجت نہیں ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19882]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19883
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِيهُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ:" كُنَّا نَعُدُّ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِي لَا كَفَّارَةَ لَهُ الْيَمِينَ الْغَمُوسَ"، فَقِيلَ: مَا الْيَمِينُ الْغَمُوسُ؟ قَالَ:" اقْتِطَاعُ الرَّجُلِ مَالَ أَخِيهِ بِالْيَمِينِ الْكَاذِبَةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم جھوٹی قسم کو ان گناہوں میں شمار کرتے تھے جن کا کوئی کفارہ نہیں۔ پوچھا گیا: جھوٹی قسم کیا ہے؟ فرمایا: اپنے بھائی کا مال جھوٹی قسم کی وجہ سے ہڑپ کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19883]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن الجعد في مسنده»
الحكم على الحديث: صحيح