السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3961. -- باب: ما جاء في ولد الزنا
-- باب: ولد الزنا (زنا سے پیدا ہونے والے بچے) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19997
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ:" إِنَّمَا سُمِّيَ وَلَدُ الزَّانِيَةِ شَرَّ الثَّلَاثَةِ؛ أَنَّ أُمَّهُ قَالَتْ لَهُ: لَسْتَ لِأَبِيكَ الَّذِي تُدْعَى بِهِ، فَقَتَلَهَا، فَسُمِّيَ شَرَّ الثَّلَاثَةِ".
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حرامی بچے کے نام رکھنے کی وجہ کہ وہ تینوں میں سب سے برا ہے کہ اس کی والدہ نے کہا: تو اپنے باپ کا نہیں جس کی طرف تیری نسبت ہے، تو اس نے اپنی والدہ کو قتل کر دیا تو اس کا نام تینوں میں سب سے برا رکھ دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19997]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف