السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3969. -- باب: من حلف: لا يكلم رجلا، فأرسل إليه رسولا، أو كتب إليه كتابا
-- باب: جس شخص نے قسم کھائی کہ وہ کسی آدمی سے کلام نہیں کرے گا، پھر اس نے اس کی طرف کوئی قاصد بھیج دیا یا اسے کوئی خط لکھ دیا۔
حدیث نمبر: Q20027
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ} [الشورى: 51] وَقَالَ لِلْمُؤْمِنِينَ فِي الْمُنَافِقِينَ {قُلْ لَا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ} [التوبة: 94] وَإِنَّمَا نَبَّأَهُمْ مِنْ أَخْبَارِهِمْ بِالْوَحْيِ الَّذِي يَنْزِلُ بِهِ جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُخْبِرُهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَحْيٍ إِلَيْهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" مَنْ قَالَ لَا يَحْنَثُ، قَالَ: إِنَّ كَلَامَ الْآدَمِيِّينَ لَا يُشْبِهُ كَلَامَ اللهِ، كَلَامُ الْآدَمِيَّينَ بِالْمُوَاجَهَةِ، أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَوْ هَجَرَ رَجُلٌ رَجُلًا، كَانَتِ الْهِجْرَةُ مُحَرَّمَةً عَلَيْهِ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ، أَوْ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولًا، وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى كَلَامِهِ، لَمْ يُخْرِجْهُ هَذَا مِنْ هِجْرَتِهِ الَّتِي يَأْثَمُ بِهَا؟".
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ﴾ ”اور کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے، یا پردے کے پیچھے سے، یا وہ کوئی فرشتہ بھیجے جو اس کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے۔“ [سورة الشورى: 51]
اور اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں مومنوں (کی زبانی) فرمایا: ﴿قُلْ لَا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ﴾ ”کہہ دیجیے: بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے، اللہ نے ہمیں تمہارے حالات بتا دیے ہیں۔“ [سورة التوبة: 94]
اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ان (منافقین) کے حالات صرف اس وحی کے ذریعے بتائے جسے جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر لے کر نازل ہوتے تھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف آنے والی وحی کے ذریعے انہیں (ان کے حالات کی) خبر دیتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو یہ کہتا ہے کہ (خط لکھنے یا قاصد بھیجنے سے) وہ حانث نہیں ہو گا (یعنی قسم نہیں ٹوٹے گی)، وہ کہتا ہے کہ انسانوں کا کلام اللہ کے کلام کے مشابہ نہیں ہے، انسانوں کا کلام آمنے سامنے ہوتا ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی آدمی کسی آدمی سے قطع تعلق کر لے، جبکہ تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق اس پر حرام ہے، پھر وہ اسے خط لکھ دے یا اس کی طرف کوئی قاصد بھیج دے، حالانکہ وہ اس سے بات کرنے پر قادر ہو، تو یہ عمل اسے اس قطع تعلق سے نہیں نکالے گا جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوتا ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: Q20027]
اور اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں مومنوں (کی زبانی) فرمایا: ﴿قُلْ لَا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ﴾ ”کہہ دیجیے: بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے، اللہ نے ہمیں تمہارے حالات بتا دیے ہیں۔“ [سورة التوبة: 94]
اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ان (منافقین) کے حالات صرف اس وحی کے ذریعے بتائے جسے جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر لے کر نازل ہوتے تھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف آنے والی وحی کے ذریعے انہیں (ان کے حالات کی) خبر دیتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو یہ کہتا ہے کہ (خط لکھنے یا قاصد بھیجنے سے) وہ حانث نہیں ہو گا (یعنی قسم نہیں ٹوٹے گی)، وہ کہتا ہے کہ انسانوں کا کلام اللہ کے کلام کے مشابہ نہیں ہے، انسانوں کا کلام آمنے سامنے ہوتا ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی آدمی کسی آدمی سے قطع تعلق کر لے، جبکہ تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق اس پر حرام ہے، پھر وہ اسے خط لکھ دے یا اس کی طرف کوئی قاصد بھیج دے، حالانکہ وہ اس سے بات کرنے پر قادر ہو، تو یہ عمل اسے اس قطع تعلق سے نہیں نکالے گا جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوتا ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: Q20027]
حدیث نمبر: 20027
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرْوِيهِ:" لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زائد قطع تعلق جائز نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں لیکن اپنی جگہ رکے رہتے ہیں، اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں ابتدا کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20027]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20028
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَإِذَا مَرَّ ثَلَاثٌ، لَقِيَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَإِنْ رَدَّهُ، فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ، وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَقَدْ بَرِأَ الْمُسْلِمُ مِنَ الْهِجْرَةِ، وَصَارَتْ عَلَى صَاحِبِهِ".
محمد بن ہلال اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مومن بھائی کو تین دن سے زائد چھوڑے، لیکن تین دن گزرنے کے بعد وہ ایک دوسرے کو سلام کہے، اگر وہ جواب دیتا ہے تو وہ دونوں اجر میں شریک ہوں گے، اور اگر وہ جواب نہیں دیتا تو یہ (جواب نہ دینے والا) مجرم ہوگا اور دوسرا قطع تعلقی سے بری ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 20028]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح