🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3994. -- باب: من نذر أن ينحر بغيرها ليتصدق
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے مکہ کے علاوہ کسی اور جگہ قربانی کرنے کی نذر مانی تاکہ وہ صدقہ کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20139
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ قَالَ: نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْحَرَ بِبُوَانَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَهَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟"، قَالُوا: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ"..
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تو نہ تھا جس کی پوجا کی جاتی ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہاں پر کوئی میلہ تو نہیں لگتا؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر کو پورا کر اور نافرمانی کی نذر کو پورا کرنا نہیں ہوتا اور جس کا ابن آدم مالک نہیں اس کو بھی پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 20139]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20140
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ⦗١٤٣⦘ الْمِصْرِيُّ ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ - وَهُوَ ابْنُ ضَبَّةَ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي سَارَةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ، وَأَنَا مَعَ أَبِي، فَذَكَرَتِ الْحَدِيثَ، قَالَتْ: فَقَالَ لَهُ أَبِي فِي ذَلِكَ الْمَقَامِ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ عِدَّةً مِنَ الْغَنَمِ، قَالَ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا قَالَ: خَمْسِينَ شَاةً عَلَى رَأْسِ بُوَانَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ عَلَيْهَا مِنْ هَذِهِ الْأَوْثَانِ شَيْءٌ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَأَوْفِ لِلَّهِ مَا نَذَرْتَ لَهُ" قَالَتْ: فَجَمَعَهَا أَبِي، فَجَعَلَ يَذْبَحُهَا فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ شَاةٌ، فَطَلَبَهَا وَهُوَ يَقُولُ: اللهُمَّ أَوْفِ عَنِّي نَذْرِي، حَتَّى أَخَذَهَا فَذَبَحَهَا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ يَزِيدَ وَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ وُلِدَ لِي وَلَدٌ ذَكَرٌ أَنْ أَنْحَرَ عَلَى رَأْسِ بُوَانَةَ فِي عَقَبَةٍ مِنَ الثَّنَايَا عِدَّةً مِنَ الْغَنَمِ".
سیدہ میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں دیکھا، وہ اپنی اونٹنی پر تھے اور میں اپنے والد کے ساتھ تھی۔ راوی نے حدیث کو ذکر کیا، اس جگہ میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں نے کئی بکریاں ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ راوی کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق انہوں نے یہی کہا: بوانہ کی چوٹی پر پچاس بکریاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا وہاں ان بتوں میں سے کوئی چیز ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے لیے اپنی نذر پوری کرو۔“ میرے والد نے بکریاں جمع کر کے ذبح کرنی شروع کیں تو ایک بکری بھاگ گئی۔ اس کو پکڑ کر لائے اور کہہ رہے تھے: «اللَّهُمَّ أَوْفِ عَنِّي نَذْرِي» ”اے اللہ! میری نذر کو پورا کرنا۔“ پھر اس کو ذبح کر دیا۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ (میرے والد نے) کہا: میں نے نذر مانی کہ اگر میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو بوانہ کی چوٹی پر گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں کئی بکریاں ذبح کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 20140]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20141
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي غَرَائِبِ الشُّيُوخِ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ السَّوَّاقُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ بِبُوَانَةَ، فَقَالَ:" فِي قَلْبِكَ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ شَيْءٌ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" أَوْفِ بِنَذْرِكَ".
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: میں نے نذر مانی کہ بوانہ نامی جگہ پر ذبح کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دل میں جاہلیت کی کوئی چیز ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 20141]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں