السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3998. -- باب: من نذر ضرب عنق مشرك إن ظفر به، فأسلم
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے یہ نذر مانی کہ اگر وہ کسی مشرک پر قابو پا گیا تو اس کی گردن اڑا دے گا، پھر وہ (مشرک) مسلمان ہو گیا۔
حدیث نمبر: 20146
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ، قَالَ: فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، غَزَوْتُ مَعَهُ حُنَيْنًا فَخَرَجَ الْمُشْرِكُونَ فَحَمَلُوا عَلَيْنَا، حَتَّى رَأَيْنَا خَيْلَنَا وَرَاءَ ظُهُورِنَا، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ يَحْمِلُ عَلَيْنَا فَيَدُقُّنَا وَيَحْطِمُنَا، فَهَزَمَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ جَمِيعًا، وَجَعَلَ يُجَاءُ بِهِمْ، فَيُبَايِعُونَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَلَيَّ نَذْرًا إِنْ جَاءَ اللهُ بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ مُنْذُ الْيَوْمِ يَحْطِمُنَا، لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجِيءَ بِالرَّجُلِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، تُبْتُ إِلَى اللهِ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَايِعُهُ لِيَفِيَ الرَّجُلُ بِنَذْرِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَتَصَدَّى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَأْمُرَهُ بِقَتْلِهِ، وَجَعَلَ يَهَابُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتُلَهُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَصْنَعُ شَيْئًا، بَايَعَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَذْرِي، قَالَ:" إِنِّي لَمْ أُمْسِكْ عَنْهُ مُنْذُ الْيَوْمِ إِلَّا لِتُوفِيَ بِنَذْرِكَ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا أَوْمَضْتَ إِلِيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يُومِضَ".
ابو غالب نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نمازِ جنازہ کے بارے میں ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ علاء بن زیاد نے کہا: اے ابو حمزہ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر غزوہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، میں نے حنین کا غزوہ کیا۔ مشرکین نے ہمارے اوپر حملہ کر دیا، ہم نے اپنے شہسواروں کو اپنے پیچھے دیکھا، مشرکین کا ایک آدمی ہمیں قتل کر رہا تھا۔ اللہ نے ان کو شکست دی، وہ آ کر اسلام پر بیعت کر رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک نے کہا: میں نے نذر مانی ہے کہ آج جو آدمی ہمیں قتل کر رہا تھا، اگر اس کو اللہ ہمارے پاس لے آیا میں ضرور اس کی گردن اڑا دوں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، وہ آدمی لایا گیا۔ جب اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے اللہ سے توبہ کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت نہ لی تاکہ وہ (صحابی) اپنی نذر پوری کر لے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ رہا تھا کہ آپ اس کے قتل کا حکم دیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت کی وجہ سے اسے قتل کرنے سے ڈر رہا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ کچھ نہیں کر رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لے لی۔ اس آدمی (صحابی) نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری نذر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آج اس سے صرف اس لیے رکا رہا تاکہ تو اپنی نذر پوری کر لے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اشارہ فرما دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نبی کے لیے لائق نہیں کہ وہ اشارہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 20146]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف