السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4003. -- باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20207
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ فِي كُلِّ يَوْمٍ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ؟، قَالَ:" لَيَعْتَمِلُ بِيَدِهِ، فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ، وَيَتَصَدَّقُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ:" يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ"، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ:" يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ"، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، قَالَ:" لِيُمْسِكْ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَهُ صَدَقَةٌ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ" فِي كُلِّ يَوْمٍ"، وَلَا قَوْلُهُ:" وَيَنْهَى عَنِ ⦗١٦٢⦘ الْمُنْكَرِ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، كَمَا مَضَى.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دن مسلمان پر صدقہ ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اگر کوئی نہ پائے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اپنے آپ کو فائدہ دے اور صدقہ کرے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اگر وہ ایسا نہ کرے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مصیبت زدہ ضرورت مند کی مدد کرے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں: ”اگر وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ برائی سے رک جائے، یہی اس کے لیے صدقہ ہے۔“
(ب) یہ ابوداؤد کی حدیث کے الفاظ ہیں، سلیمان کی روایت میں ”ہر دن“ کے الفاظ نہیں ہیں اور نہ ہی یہ قول کہ: ”وہ برائی سے منع کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20207]
(ب) یہ ابوداؤد کی حدیث کے الفاظ ہیں، سلیمان کی روایت میں ”ہر دن“ کے الفاظ نہیں ہیں اور نہ ہی یہ قول کہ: ”وہ برائی سے منع کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20207]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20208
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا وَاصِلٌ، مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّئِلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ مِنْكُمْ صَدَقَةٌ، فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَيُجْزِئُ عَنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ تَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ. وَفِي هَذَا الْكَلَامِ كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّهُمَا مِنْ فُرُوضِ الْكِفَايَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر مسلمان پر صدقہ ہے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“، «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”لا الہ الا اللہ“، «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہنا بھی صدقہ ہے۔ نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرنا بھی صدقہ ہے اور چاشت کی دو رکعات پڑھ لینا اس سے کفایت کر جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20208]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 720»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20209
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَاللهِ لَا أَقُولُ لِرَجُلٍ: إِنَّكَ خَيْرُ النَّاسِ - وَإِنْ كَانَ عَلَيَّ أَمِيرًا - بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، قَالُوا: وَمَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهُ فَيَدُورُ بِهَا فِي النَّارِ، كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِرَحَاهُ، فَيُطِيفُ بِهِ أَهْلُ النَّارِ، فَيَقُولُونَ: يَا فُلَانُ، مَا لَكَ؟ مَا أَصَابَكَ؟ أَلَمْ تَكُنْ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ؟، فَيَقُولُ: كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں کسی کے لیے یہ نہ کہوں گا کہ وہ تمام لوگوں سے بہتر ہے، اگرچہ وہ میرے اوپر امیر کیوں نہ ہو، جب سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ ساتھیوں نے کہا: آپ نے کیا سنا ہے؟ فرمایا: میں نے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”قیامت کے دن آدمی کو لایا جائے گا، جہنم میں پھینک دیا جائے گا، اس کی آنتیں باہر نکل آئیں گی، وہ ان کے گرد چکر کاٹے گا جیسے گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے، جہنمی لوگ جمع ہو جائیں گے، کہیں گے: اے فلاں! تجھے کیا ہوا حالانکہ تو ہمیں نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے منع کرتا تھا؟ وہ کہے گا: نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہ کرتا، برائی سے منع کرتا لیکن خود کرتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20209]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20210
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، أَنَّ جَدَّهُ عُمَيْرَ بْنَ حَبِيبٍ، وَكَانَ قَدْ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أوَصَى بَنِيهِ، قَالَ لَهُمْ:" أَيْ بَنِيَّ، إِيَّاكُمْ وَمُخَالَطَةَ السُّفَهَاءِ، فَإِنَّ مُجَالَسَتَهُمْ دَاءٌ، وَإِنَّهُ مَنْ يَحْلُمْ عَنِ السَّفِيهِ يُسَرَّ بِحِلْمِهِ، وَمَنْ يُجِبْهُ يَنْدَمْ، وَمَنْ لَا يُقِرَّ بِقَلِيلِ مَا يَأْتِ بِهِ السَّفِيهُ، يُقِرُّ بِالْكَثِيرِ، وَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، فَلْيُوَطِّنْ نَفْسَهُ قَبْلَ ذَلِكَ عَلَى الْأَذَى، وَلْيُوقِنْ بِالثَّوَابِ مِنَ اللهِ، فَإِنَّهُ مَنْ يُوقِنْ بِالثَّوَابِ مِنَ اللهِ لَا يَجِدُ مَسَّ الْأَذَى".
ابو جعفر خطمی کے دادا عمیر بن حبیب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور اپنے بیٹوں کو وصیت کی: اے میرے بیٹو! بے وقوف لوگوں کی مجالس سے بچنا؛ کیونکہ ان کی مجلس بیماری ہے۔ جو بے وقوف سے درگزر کرتا ہے وہ اپنے درگزر کی وجہ سے خوش کر دیا جاتا ہے اور جو اس کو جواب دیتا ہے وہ نادم ہوتا ہے اور جو انسان اس تھوڑے پر راضی نہیں ہوتا جو اس کے پاس بے وقوف لے کر آئے، وہ کثیر پر راضی ہو جائے گا۔ جب تم میں سے کسی کا ارادہ ہو کہ نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرے تو وہ اپنے نفس کو تکلیف برداشت کرنے پر آمادہ رکھے اور اللہ سے ثواب کی امید رکھے، جو اللہ سے ثواب کی امید رکھتا ہے وہ تکلیف کو محسوس نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20210]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح