🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4004. -- باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا
-- باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20241
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ دَاوُدَ قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ يُوسُفَ السُّلَمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ يَحْيَى يُعَاتِبُ الْحُسَيْنَ بْنَ مَنْصُورٍ عَلَى دُخُولِهِ فِي الْعَدَالَةِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" أَلَيْسَ حَكَيْتَ أَنْتَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ:" لَا تَكُنْ مُعَدِّلًا، وَلَا مَنْ يَعْرِفُهُ مُعَدِّلٌ"، ثُمَّ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى:" إِنَّمَا الْعَدَالَةُ طُبَيْقٌ يُبْعَثُ إِلَى أَحَدِهِمْ".
یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ، حسین بن منصور کو عدالت (گواہوں کی تعدیل کے عہدے) میں داخل ہونے کی وجہ سے ڈانٹ رہے تھے، پھر فرمایا: کیا تو نے خود سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے یہ بیان نہیں کیا کہ انہوں نے فرمایا: نہ تو تعدیل کرنے والا بن اور نہ ہی ایسا شخص بن جسے تعدیل کرنے والا جانتا ہو۔ پھر یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ نے فرمایا: عدالت تو بس ایک چھوٹی سی طشتری ہے جو ان میں سے کسی کی طرف بھیجی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20241]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20242
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ مَنْصُورٍ، يَقُولُ:" دَخَلْتُ عَلَى يَحْيَى بْنِ يَحْيَى فَسَلَّمْتُ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلِيَّ، فَجَلَسْتُ نَاحِيَةً، حَتَّى تَفَرَّقَ النَّاسُ فَدَنَوْتُ وَقَبَّلْتُ رَأْسَهُ، فَقُلْتُ:" يَا أُسْتَاذُ، أِيُّ جِنَايَةٍ جَنَيتُهَا؟"، قَالَ:" بَلَى، جَنَيْتَ جِنَايَةً، وَرَكِبْتَ ذَنْبًا عَظِيمًا"، فَقُلْتُ:" مَا هِيَ؟" قَالَ:" أَرَأَيْتَ إِذَا نَادَى الْمُنَادِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاهِرٍ؟ أَلَسْتَ مِمَّنْ يُؤْخَذُ فِي الْعَدَالَةِ؟" قَالَ: فَقُلْتُ:" أَسْتَغْفِرُ اللهَ، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ"، قَالَ:" فَدَنَا مِنِّي، وَعَانَقَنِي وَقَالَ:" الْآنَ أَنْتَ أَخِي".
حسین بن منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ کے پاس گیا، میں نے سلام کہا، انہوں نے میری طرف دیکھا ہی نہیں۔ میں ایک کونے میں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ لوگ بکھر گئے۔ میں نے قریب ہو کر ان کے سر کا بوسہ لیا اور کہا: اے استاد! مجھ سے کون سا گناہ سرزد ہو گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو نے بہت بڑا جرم و گناہ کیا ہے۔ میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگے: تیرا کیا خیال ہے جب قیامت کے دن آواز دی جائے گی کہ عبداللہ بن طاہر کے ساتھی کہاں ہیں؟ کیا تو ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں عدالت (کے عہدے) میں لیا گیا ہے؟ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور رجوع کرتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں: وہ میرے قریب ہوئے اور معانقہ کیا اور فرمایا: اب تو میرا بھائی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20242]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20243
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ خَلَفَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو أَحْمَدَ بْنَ نَصْرٍ رَئِيسَ نَيْسَابُورَ بِبُخَارَى يَقُولُ: ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ النَّيْسَابُورِيُّ، وَعُرِضَ عَلَيْهِ قَضَاءُ نَيْسَابُورَ فَاخْتَفَى ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَدَعَا اللهَ فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ.
حسین بن منصور رحمہ اللہ پر نیساپور میں قضا کا عہدہ پیش کیا گیا، وہ تین دن تک چھپے رہے، انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور تیسرے دن فوت ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20243]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20244
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ الْحَافِظَ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيَّ، يَقُولُ:" قَدِمْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَجَعَلَ لَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلِيَّ، فَقُلْتُ:" يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ إِنَّهُ يُكْتَبُ عَنِّي بِخُرَاسَانَ، وَإِنْ عَامَلْتَنِي بِهَذِهِ الْمُعَامَلَةِ رَمَوْا بِحَدِيثِي"، فَقَالَ لِي:" يَا أَحْمَدُ هَلْ بُدٌّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَنْ يُقَالَ: أَيْنَ عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاهِرٍ وَأَتْبَاعُهُ؟ انْظُرْ أَيْنَ تَكُونُ أَنْتَ مِنْهُ"، قَالَ: قُلْتُ:" يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ إِنَّمَا وَلَّانِي أَمْرَ الرِّبَاطِ، لِذَاكَ دَخَلْتُ فِيهِ"، قَالَ: فَجَعَلَ يُكَرِّرُ عَلَيَّ:" يَا أَحْمَدُ هَلْ بُدٌّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يُقَالَ: أَيْنَ عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاهِرٍ وَأَتْبَاعُهُ؟ انْظُرْ أَيْنَ تَكُونُ أَنْتَ مِنْهُ".
احمد بن سعید رباطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پاس آیا، وہ میری طرف سر بھی نہیں اٹھاتے تھے۔ میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! خراسان میں مجھ سے (احادیث) لکھی گئی ہیں، اگر آپ نے میرے ساتھ یہ معاملہ کیا تو لوگ میری احادیث کو چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے احمد! کیا یہ ضروری ہے کہ قیامت کے دن پکارا جائے کہ عبداللہ بن طاہر اور اس کے ساتھی کہاں ہیں؟ تو دیکھو کہ تم ان میں کہاں ہو؟ میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! انہوں نے مجھے رباط کے معاملات کا والی بنا دیا ہے، پھر میں ان میں داخل ہو گیا۔ راوی فرماتے ہیں کہ وہ بار بار میرے اوپر یہی بات دہرا رہے تھے: اے احمد! قیامت کے دن یہ ضروری ہے کہ پوچھا جائے کہ عبداللہ بن طاہر کے ساتھی کہاں ہیں؟ دیکھ لو کہ تم ان میں کہاں ہو گے! [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20244]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20245
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَجَلِيَّ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ عَشِيَّةً، فَوَرَدَ عَلَيْنَا كِتَابُ السُّلْطَانِ بِتَقْلِيدِهِ الْقَضَاءَ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ:" أُشَاوِرُ نَفْسِيَ اللَّيْلَةَ، وَأُخْبِرُكُمْ غَدًا"، فَغَدَوْنَا إِلَيْهِ مِنَ الْغَدِ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ نَعْشٌ، فَقُلْنَا:" مَا هَذَا؟"، قَالُوا:" مَاتَ نَصْرٌ"، فَسَأَلْنَا أَهْلَهُ عَنْهُ، فَقَالُوا:" بَاتَ لَيْلَةً يُصَلِّي، فَلَمَّا كَانَ فِي السَّحَرِ سَجَدَ فَأَطَالَ، فَحَرَّكْنَاهُ، فَوَجَدْنَاهُ مَيِّتًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ".
علی بن عباس بن ولید بجلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم شام کے وقت نصر بن علی جہضمی رحمہ اللہ کے پاس تھے، ہمارے پاس بادشاہ کا خط آیا کہ بصرہ کے قاضی کی تقلید کرو (یعنی قاضی کا عہدہ قبول کرو)۔ انہوں نے کہا: آج رات میں اپنے دل سے مشاورت کر لوں، کل بتاؤں گا۔ کل صبح ہم ان کی طرف گئے، دروازے پر ان کی لاش تھی۔ ہم نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نصر فوت ہو گئے۔ ہم نے ان کے گھر والوں سے پوچھا، انہوں نے کہا: وہ رات کو نماز پڑھتے رہے، جب سحری کا وقت ہوا تو انہوں نے لمبا سجدہ کیا، ہم نے حرکت دی تو انہیں مردہ حالت میں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20245]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں