السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4009. -- باب: التثبت في الحكم
-- باب: فیصلے میں تحقیق اور تسلی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q20270
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ} [الحجرات: 6] وَقَالَ {إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ فَتَبَيَّنُوا} [النساء: 94] .
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ﴾ ”اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا دو، پھر تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔“ [سورة الحجرات: 6]
اور فرمایا: ﴿إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ فَتَبَيَّنُوا﴾ ”جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو خوب تحقیق کر لیا کرو۔“ [سورة النساء: 94] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: Q20270]
اور فرمایا: ﴿إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ فَتَبَيَّنُوا﴾ ”جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو خوب تحقیق کر لیا کرو۔“ [سورة النساء: 94] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: Q20270]
حدیث نمبر: 20270
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّقَّاءِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" التَّأَنِّي مِنَ اللهِ، وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیر اللہ رب العزت کی جانب سے ہے اور جلدی شیطان کی طرف سے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20270]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20271
أَخْبَرَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، رَحِمَهُ اللهُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْمُعَاذِيُّ وَأَبُو سَعْدٍ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشُّعَيْبِيُّ وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ قَالُوا: أنبأ أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزَّيَّاتِ الصَّيْرَفِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ بْنِ نَجَبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ، أنبأ عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَأَنَّيْتَ"، وَفِي رِوَايَةِ الْمُعَاذِيِّ وَالشُّعَيْبِيِّ وَالْهَرَوِيِّ،" إِذَا تَبَيَّنْتَ أَصَبْتَ، أَوْ كِدْتَ تُصِيبُ، وَإِذَا اسْتَعْجَلْتَ أَخْطَأْتَ، أَوْ كِدْتَ تُخْطِئُ".
حضرت عکرمہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو دیر کرے، ایک روایت میں ہے، جب تحقیق کرو تو درستگی کو پالو گے یا قریب ہے کہ درستگی کو پالو۔ جب جلد بازی کرو گے تو خطا کرو گے یا قریب ہے کہ آپ غلطی کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20271]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20272
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا قُرَّةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْأَشَجِّ أَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ:" إِنَّ فِيكَ لَخَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عبدالقیس سے فرمایا: ”تیرے اندر دو خوبیاں ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے: 1۔ بردباری، 2۔ سنجیدگی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20272]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 17»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20273
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِمَّنْ لَقِيَ الْوَفْدَ وَوَذَكَرَ أَبَا نَضْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ: ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ:" إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے حدیث کا تذکرہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عبدالقیس سے فرمایا: ”تمہارے اندر دو خوبیاں ہیں، جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند فرماتے ہیں: 1۔ بردباری 2۔ سنجیدگی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20273]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20274
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ الَّذِي سَافَرَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ، فَلَمْ يَرْجِعْ حِينَ رَجَعُوا، فَاتَّهَمَ أَهْلُهُ أَصْحَابَهُ، فَرَفَعُوهُمْ إِلَى شُرَيْحٍ، فَسَأَلَهُمُ الْبَيِّنَةَ عَلَى قَتْلِهِ، فَارْتَفَعُوا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ شُرَيْحٍ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:.
ابوعبید نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث، جس میں ہے کہ ایک شخص نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ سفر کیا، اس میں فرمایا: وہ ان کے ساتھ واپس نہ آیا، اس کے گھر والوں نے اس کے ساتھیوں پر قتل کی تہمت لگا دی، تو فیصلہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آیا۔ انہوں نے قتل پر گواہی طلب کی، تو وہ لوگ فیصلہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے۔ انہوں نے قاضی شریح رحمہ اللہ کی بات سنائی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: سعد آئے، سعید نے اونٹوں کو گھاٹ پر چھوڑا، جس سے صرف مشکیزے کے ساتھ پانی پیا جا سکتا تھا، پھر سعد چادر اوڑھ کر سو گئے، اس کی وجہ سے اونٹ سیر نہ ہوئے۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو جدا جدا کر کے پوچھا تو ان کے بیانات مختلف تھے۔ پھر انہوں نے اس کے قتل کا اقرار کر لیا۔
سب سے آسان طریقہ جس کے ذریعے حوض سے جگہ حاصل کی جا سکتی ہے اور قاضی شریح رحمہ اللہ کے لیے مسائل کو ختم کرنا زیادہ آسان ہے، وہ غور و فکر ہے یہاں تک کہ وہ کسی دلیل کے محتاج نہ رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20274]
سب سے آسان طریقہ جس کے ذریعے حوض سے جگہ حاصل کی جا سکتی ہے اور قاضی شریح رحمہ اللہ کے لیے مسائل کو ختم کرنا زیادہ آسان ہے، وہ غور و فکر ہے یہاں تک کہ وہ کسی دلیل کے محتاج نہ رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20274]